بھلائی کرنے کی فضیلت

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
 === 
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ يَصْنَعُهُ أَحَدُكُمْ إِلَى غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ فَهُوَ صَدَقَةٌ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ( مسند ابویعلی الموصلی : ۲۰۸۵)
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: ہر وہ بھلائی جو تم میں کا کوئی کسی مالدار یا فقیر کے ساتھ کرتا ہے تو وہ بروز قیامت وہ صدقہ ہوگا ‘‘
تشریح :  اسلام میں بھلائی کرنے کی بڑی فضیلت ہے ، اوراسلا م نے اس کی بہت ترغیب دی ہے ، اور اسے ان اعمال میں شمار کیا ہے جن سے اللہ کی قربت اور بے شمار دینی اور دنیاوی فوائد حاصل ہوتے ہیں، مذکورہ روایت میں اس کو صدقہ کا درجہ دیا گیا ہے کہ کسی مالدار کے ساتھ یا کسی فقیر وغریب کے ساتھ کوئی شخص بھلائی کرتا ہے تو اس کا یہ بھلائی کرنا صدقہ کرنے کے برابر ہے اور اس میں اس کو صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ ایک روایت میں اس کی بارے میں رسول اللہ  ﷺ کا ارشاد ہے :
ہر بھلائی صدقہ ہے، اور بھلائی ستر قسم کے بلاؤں سے محفوظ رکھتی ہے، بری موت سے بچاتی ہے ، بھلائی اور برائی یہ دونوں ایسے اخلاق ہیں جو قیامت کے دن لوگوں کے لئے پیش کئے جائیں گے ، بھلائی اپنے کرنے والے کے ساتھ رہے گی، یہاں تک کہ اس کو جنت تک پہونچادے گی، اور برائی اپنے کرنے والے کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ اسے جہنم تک پہونچادے گی۔(قضاء الحوئج : حدیث:۱)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
صَنَائِعُ الْمَعْرُوفِ تَقِي مَصَارِعَ السُّوءِ، وَصَدَقَةُ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ (المعجم الکبیر: ۸۰۱۴، اسنادہ حسن)
’’بھلائی کرنا بری موت سے بچاتا ہے، چھپ کر صدقہ کرنا رب کے غضب کو ختم کرتا اور صلہ رحمی عمر میں زیادتی کرتی ہے‘‘
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْمَعْرُوفُ وَحُبِّبَ إليه فعاله (اصطناع المعروف لابن ابی الدنیا : ۲)
’’بے شک اللہ کے بندوں میںسے اللہ عزوجل کے نزدیک وہ بندہ سب سے زیادہ محبوب ہے جسے بھلائی اور بھلائی کرنا پسند ہو‘‘
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’دنیا میں بھلائی کرنے والے آخرت میں بھی بھلائی کرنے والے ہوں گے، صحابہ کرام نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ آپ  ﷺ نے فرمایا:  قیامت کے دن اللہ تعالی بھلائی کرنے والوں کو جمع کریں گے اور فرمائیں گے کہ میں نے اس خوبی (بھلائی) کی وجہ سے جو تم میں ہے میں نے تمہاری مغفرت کردی اور میں نے تمہاری وجہ سے اپنے بندوں پر نرمی کی، پس آج ان میں سے جس کو چاہو یہ دے دو، تاکہ دنیا میں بھلائی کرنے والے تم لو گ آخرت میں بھی بھلائی کرنے والے ہوجاؤ‘‘  ( قضاء الحوائج : ۱۷)
ایک روایت میں ارشاد نبوی ہے : 
رَأْسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ مُدَارَاةُ النَّاسِ، وَلَنْ يَهْلِكَ رَجُلٌ بَعْدَ مَشُورَةٍ، وَأَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ(مصنف ابن ابی شیبۃ : ۲۵۴۲۸)
’’اللہ پر ایمان کے بعد اصل عقل مندی لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرناہے، اور کوئی شخص مشورہ کے بعد ہرگز ہلاک نہیں ہوتا، اور دنیا میں بھلائی کرنے والے لوگ آخرت میں بھی بھلائی کرنے والے ہوں گے‘‘
اس لئے ان احادیث میں بیان کردہ فضیلتوں کو حاصل کی خاطر ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بھلائی کرنے کو اپنا شیوہ بنائے اور بلا امتیار امیر وغریب اور بلالحاظ مذہب وملت انسانیت کی بنیاد پر بھلائی کرے، بلکہ انسانوں کے ساتھ ساتھ عام مخلوق کے ساتھ بھی بھلائی اور احسان کا معاملہ کرے، اس کی برکت اسے دنیا اور آخرت کی ہر طرح کی کامیابی سے ہمکنار کرے گی۔
Login Required to interact.