مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
زبان وتحریر کا مقصد اپنی بات دوسروں تک پہونچانا ہے، روزمرہ کی بول چال میں ہم چہرے کے تاثرات، لب و لہجے کے تغیرات، آواز کے زیر و بم اور بات کے دوران موزوں جگہوں پر وقفے دے کر اپنی بات کو زیادہ موثر بناتے ہیں لیکن تحریر میں ہمارا قاری ہمارے سامنے نہیں ہوتا ہے اس لیے ہمیں اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے لیے اور جو کچھ ہم کہنا چاہتے ہیں اسے اسی طرح دوسروں تک پہنچانے کے لیے تحریر کے دوران میں کچھ علامتوں اور اشاروں کو استعمال کیا جاتا ہے، اِن اشاروں اور علامتوں کو ’’رموز اوقاف‘‘ کہتے ہیں۔
’’رموز اوقاف‘‘ یعنی وہ علامتیں جو عبارت کے درمیان میں بات کے مفہوم کو واضح کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، متعدد ہیں، ان میں سے چند مشہور علامت وقف درج ذیل ہیں:
۱۔ ختمہ (۔)
ختمہ علامت ایک پورے جملے کے خاتمے پر ایک چھوٹی سی لکیر کی صورت میں لگائی جاتی ہے جہاں کچھ دیر ٹہرنا ہوتا ہے۔ یہ عبارت ایک جملے کو دوسرے جملے سے جدا کرتی ہے۔ اسے وقف کامل، وقف تام اور انگریزی میں فل سٹاپ (.) بھی کہتے ہیں۔
۲۔ سوالیہ (؟)
یہ علامت سوالیہ جملے کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ اس علامت کے استعمال سے ایک عام جملے اور سوالیہ جملے میں واضح فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ جن جملوں میں کوئی سوال پوچھا جا رہا ہو ان جملوں میں یہ علامت استعمال ہوتی ہے۔ اِن جملوں کے آخر میں اگرسوالیہ نشان استعمال نہ کیا جائے تو ان جملوں کا مفہوم صحیح طور پر واضح نہیں ہوتا۔
۳۔ سکتہ (،)
یہ چھوٹا سا اور مختصر وقفہ ہوتا ہے، جس میں ہلکا سا توقف کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس کو انگریزی میں کوما (،) کہتے ہیں، یہ ان چھوٹے چھوٹے جملوں کے درمیان استعمال ہوتا ہے جن سے مل کر ایک بڑا جملہ بنتا ہے اورایک بات مکمل ہوجاتی ہے۔
۴۔ رابطہ (:)
مقولہ یا کہاوت وغیرہ کو بیان کرنے کے لیے اس کو استعمال کیاجاتا ہے۔ جیسے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نماز دین کا ستون ہے‘‘۔
۵۔ تفصلیہ (:-)
کسی لمبے اقتباس یا کسی فہرست کو پیش کرتے وقت اس کا استعمال ہوتا ہے۔ جیسے: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:۔ (۱) اللہ کی الوہیت اور رسول اللہ ﷺ رسالت کا اقرار۔ (۲) نماز قائم کرنا (۳)زکوۃ دینا (۴)رمضان کے روزے رکھنا (۵)حج کرنا۔
۶۔ قوسین ()
قوسین یا خطوط واحدانی میں عبارت کے ایسے حصے لکھے جاتے ہیں جو جملہ معترضہ کے طور پر آتے ہیں۔ جملہ معترضہ ایسے جملے کو کہتے ہیں جو عبارت میں آجائے لیکن اصل عبارت سے اس کا تعلق نہ ہوبلکہ حوالے کے طور پر اس کا ذکر آئے۔
۷۔ واوین (” “)
واوین (” “) کسی مضمون میں موضوع کی مناسبت سے بعینہ کسی مصنف و ادیب کے قول یا کسی کتاب کے اقتباس کو نقل کرتے وقت اس کا استعمال ہوتا ہے۔
۸۔ ندائیہ یا فجائیہ (!)
کسی خاص کیفیت اور جذبہ کے اظہار کے وقت یہ علامت لگائی جاتی ہے۔ جیسے: حیرت، خوف، غصہ اور حقارت وغیرہ کے وقت اس کا استعمال ہوتا ہے، ایسے ہی جذبہ کی شدت میں کمی و بیشی کے اعتبار سے ایک سے زیادہ علامتوں کا استعمال بھی ہوتا ہے۔ جیسے: سبحان اللہ! بہت خوب!، معاذ اللہ!، اللہ پناہ!، خبرلیتاہوں!، بس کرو! رہنے دو!!، فرقہ واریت اور ملک کی ترقی!!! محال ہے۔
۹۔ نقطے (․․․․․)
کسی محذوف عبارت کی جگہ اس کا استعمال ہوتا ہے؛ یعنی کسی لمبی عبارت کو نقل کرتے وقت، اختصار کے پیش نظر عبارت کا کچھ حصہ نقل کرتے ہیں اور بقیہ عبارت کی جگہ ان نقطوں کا استعمال کرتے ہیں؛ عام طور پر قلتِ جگہ یا قلتِ وقت کی بنا پر ایسا کیا جاتا ہے۔
۱۰۔ علامت شعر (؎)
یہ علامت عبارت میں کسی شعر کا حوالہ دینے کہ موقع پر شعر کے شروع میں لگائی جاتی ہے۔
علامت مصرع (ع)
یہ علامت عبارت میں کسی مصرعے کا حوالہ دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
۱۱۔ مخففات( ؒ، ؓ )
جو مختصر علامت اصل فقرے کی جگہ استعمال کی جائے اسے مخففات کہتے ہیں۔ جیسے: رضی اللہ عنہ کی جگہ ( ؓ ) مخفف استعمال ہوتا ہے، رحمتہ اللہ علیہ کی جگہ ( ؒ ) مخفف استعمال ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پورا ﷺ ہی لکھنا ضروری ہے، اس میں تخفیف درست نہیں ہے، اس لئے’’ص‘ یا ’’صلعم‘‘ وغیرہ سے بچنا لازم ہے۔
۱۲۔ تعلیلیہ (؛)
یہ عبارت میں کسی بات کی دلیل اور اس کی وجہ کو بیان کرنے کے لئے لکھا جاتا ہے۔ عام طور پر کیونکہ وغیرہ سے پہلے اسے لکھتے ہیں۔
ان رموز کو لکھنے کا صحیح طریقہ
ان رموز کو تحریر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے اس کلمہ کے فوری بعد بغیر فاصلہ کے لکھا جائے جس کے بعد اسے ذکر کرنا ہے، وہاں فصل کرنا بہتر نہیں ہے اس سے بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ کلمہ ایک سطر میں اور نشان دوسری سطر میں منتقل ہوجاتا ہے، مثال کےطور پر:

رموز اوقاف اور ان کے لکھنے کا صحیح طریقہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
اس طرح لکھنے کے بجائے اسے اس طرح لکھنا فنی اعتبار سے بہتر ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
اسی طرح دیگر علامات: قوسین، واوین، وغیرہ کو بھی فصل کے بغیر لکھنے کا اہتمام کرنا بہتر ہے۔
Login Required to interact.
