مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
====
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظَّهْرِ، وأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ غَيْرِهُمَا؟» قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْخُلُقِ، وَطُولِ الصَّمْتِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْهُمَا»( المعجم الأوسط للطبرانی :۷۱۰۳ ، شعب الایمان : ۴۵۹۱)
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ اے ابوذر کیا میں تمہیں ایسی دو خوبیاں نہ بتاؤں جواپنے علاوہ دیگر اعمال کے بالمقابل پشت پرزیادہ ہلکے ہیں(یعنی جن کاکرنا زیادہ آسان ہے)اور میزان میں زیادہ وزنی ہیں؟ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا: یا رسول اللہ ضرور بتائیں،آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے اوپرحسن خلقی اورخاموشی کو لازم کرلو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ،مخلوق نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو ان دونوں سے زیادہ اللہ کو محبوب ہو‘‘
اس روایت میں جن دو چیزوں کی اہمیت بیان کی گئی ہے وہ یہ ہیں: (۱) حسن خلقی( ۲) خاموشی۔ خاموشی کی اہمیت متعدد روایتوں میں بیان کی گئی ہے ، جن کا ماحصل یہی ہے کہ آدمی جب بھی بولے تو بھلی بات بولے ورنہ خاموش رہے ، کیونکہ بہت سے لوگ اپنی زبان کے غلط اور بے جا استعمال :مثلا چھوٹی بات بولنے ، غیبت کرنے ، تہمت لگانے ، چھوٹی گواہی دینے ،لڑنے جھگڑنے اورگالی گلوچ کرنے کی وجہ سے جہنم کے مستحق ہونگے۔اور صرف خاموشی کی وجہ سے جہنم میں لے جانے والی ان اہم برائیوں سے جو بہت سی دیگر برائیوں اور فتنوں کے اسباب ہیں، بچ جائیں گے اور جنت کے مستحق ہوں۔
پہلی چیز جس کی تعلیم آپ ﷺ نے اس روایت میں دی ہے وہ ہے اخلاق کی بہتری، اس کی بھی بڑی اہمیت ہے، اور اسلام نے مسلمانوں کو جامعیت کے ساتھ اس کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ،اور اس کی خصوصی ترغیب دی ہے ،اور نبی اکرم ﷺ نے مختلف مواقع پر اپنے متعدد ارشادات کے ذریعہ اس کو اختیار کرنے پر امت کو ابھارا ہے، تاکہ امت نمونہ اخلاق بن سکے۔ آپ ﷺ کا ارشا د ہے:
مَا مِنْ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي المِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الخُلُقِ، وَإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِهِ دَرَجَةَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ (ترمذی : ۲۰۰۳)
’’(قیامت کے دن) ترازومیں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں رکھی جائے گی اور بے شک اچھے اخلاق والا اس کی وجہ سے روزے دار اور نمازی کا مقام ومرتبہ پالیتا ہے‘‘
ایک روایت میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بِحُسْنِ الْخُلُقِ (شعب الایمان : ۷۶۴۹)
’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی بھی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا مگراچھے اخلاق کی وجہ سے‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ پوچھا گیا کہسب سے زیادہ کس چیز کی وجہ سے لوگ جہنم میں جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : منہ اور شرمگاہ، پھر آپ سے یہ پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ کس چیز کی وجہ سے لوگ جنت میں جائیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق (مسند احمد : ۷۵۶۶)
ایک حدیث میں بہتر اخلاق کا فائدہ اور برے اخلاق کا نقصان بتاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا:
إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ يَحْسُنُ خُلُقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ حُسْنُ الْخُلُقِ الْجَنَّةَ، وَيُسِيءُ خُلُقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ سُوءُ خُلُقِهِ النَّارَ (شعب الایمان : ۸۱۸۶)
’’بے شک مسلمان بندہ اپنے اخلاق کو بہتر بناتا ہے تو اس کی حسن خلقی اس کو جنت میں داخل کردیتی ہے ، اور اپنے اخلاق کو برا بناتا ہے تو اس کی بد خلقی اس کو جہنم میں داخل کردیتی ہے‘‘
ان تمام روایتوں میں رسول اللہ ﷺ نے جس انداز میں اچھے اخلاق سے آراستہ ہونے کی ترغیب وتعلیم دی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے مومن کو اس سے ضرور آراستہ ہونا چاہئے ؛ کیونکہ یہ اس کی توشہائے آخرت میں سے ایک اہم اور نجات کے لئے ضروری توشہ ہے، جس کی وجہ سے اس کو جنت نصیب ہوگی۔
یہ ایک عجیب حیرت ناک اور افسوناک حقیقت ہے کہ آج بہت سے لوگوں میں اس پہلو کے اعتبار سے کمی ہوتی ہے ، وہ اپنی نمازوں ، روزوں اور تقوی وطہارت کے حوالے سے مشہور ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اخلاقی اقدار کے انحطاط کی وہ مثال بھی ہوتے ہیں، ایسے افراد جن سے ان کے دنیوی مفاد وابستہ ہوتے ہیں وہ ان کے لئے نرم وشریں مزاج ہوتے ہیں، جبکہ وہ لوگ ان کی بداخلاقی کے تختہ مشق بنتے رہتے ہیں جن سے تقوی شعار لوگوں کا نسبی یا معاملاتی تعلق ہوتا ہے، اس کے باوجود انہیں اپنی اس بے روح دینداری پر ناز بھی ہوتا ہے، جو دینداری اللہ کے میزان میں بے دینی کے سوا کچھ اور نہیں ہے ؛ کیونکہ زبان رسالت نے اخلاق کو کمال ایمان کی بنیاد اور روح قرار دیا ہے، اوراس کے بغیر دینداری کے کمال کا تصور مشکل ہے، حضرت معاذ بن رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے یمن کے لئے روانہ کرتے وقت ان کی خواہش پر انہیں یہ وصیت فرمائی:
عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْخُلُقِ، فَإِنَّ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا أَحْسَنُهُمْ دِينًا( المعجم الکبیر : ۲۹۵)
’’تم اچھے اخلاق کو اختیار کرو ؛ کیونکہ لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والا ہی سب سے اچھا دیندار ہوتا ہے ‘‘
ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا (ترمذی : ۱۱۶۲)
’’مؤمنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق کا پیکر ہو‘‘
ایسا شخص سب سے اچھا دینداراور سب سے بہتر مؤمن اس لئے ہوتا ہے کہ اس کے اخلاق کی بہتری اس کواللہ کا حق اور اس کے بندوں کا حق ادا کرنے پر آمادہ کرتی ہے ،اس لئے حقوق کی مکمل ادائیگی کی وجہ سے وہ سب سے اچھا دیندار بن جاتا ہے،اور اخلاق میں کمی اور خرابی کی وجہ سے وہ حقوق دبانے والا بن جاتا ہے اور دینداری کا صحیح مطلب نہ سمجھ کر حق اللہ کو ادا کرنے کے باوجود وہ حقوق العباد میں کوتاہ رہتا ہے ،جس کی وجہ سے اس کا دین ناقص رہتا ہے، اور اس کو اپنی ظاہری عبادتوں کی وجہ سے اپنے اس نقص کا احساس بھی نہیں ہوتا اور بالآخر اسی نقص کی وجہ سے وہ دنیا سے اس حال میں رخصت ہوتا کہ اس کے برے اخلاق کی وجہ سے بہت سے بندے اس کے نیک اعمال کے مستحق وحقدار بن چکے ہوتے ہیں، کیونکہ قیامت کے دن بدلہ اعمال کے ذریعہ ہی دیا جائے گا،اس لئے شریعت میں مطلوب معیار کے مطابق اخلاق کو بہتر بنانا آخرت کی بہتری اور کامیابی کے لئے ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ’’ البِرُّ حُسْنُ الخُلقِ‘‘(ترمذی:۲۳۱۱) (نیکی حسن اخلاق ہے) کہہ کر جامعیت کے ساتھ اخلاق کے معیار اور اس کے طور وطریق کو بیان کردیا ہے ، اور یہ بتادیا ہے کہ اگرکوئی انسان اخلاق حسنہ کا پیکر بننا چاہتا ہے تووہ اپنی زندگی میں ہر طرح کی نیکی کوداخل کرلے ،چاہے اس نیکی کا تعلق اللہ سے ہو جیسے نماز وروزہ زکوۃ وحج ، یا اس کا تعلق اللہ کے بندوں سے ہو جیسے کہ رواداری ، حسن سلوک ،لطف ومحبت، خوش کلامی اور خیرخواہی وغیرہ۔ اس کے بغیر وہ اخلاق حسنہ کے میزان پرپورا نہیں اترسکتا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کو دنیا اور آخرت کے بہتراخلاق نہ بتادوں ؟ وہ یہ ہیں کہ تم اس کو جوڑو جو تم کو کاٹے، تم اس کو دو جو تمہیں محروم کرے ، اورتم اس کو معاف کرو جو تم پر ظلم کرے (شعب الایمان : ۷۸۵۵)
حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ حسن اخلاق کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خندہ دہنی، خوش کلامی ،لوگوں پر اپنا مال خرچ کرنا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اورکسی کو اپنی ذات سے تکلیف نہ پہونچنے دینا’’حسن اخلاق‘‘ ہے (ترمذی : ۱۹۲۸)
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ رحم وکرم ، سخاوت اور لوگوں کی ایذاء کو برداشت کرلینا ’’حسن اخلاق‘‘ ہے ۔(تحفۃ الأحوذی : ۶؍۱۲۱)
امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ غصہ اور حسد سے بچنا اور لوگوں کی ایذاء رسانی کو برداشت کرنا حسن اخلاق ہے (تحفۃ الأحوذی : ۶؍۱۲۱)
اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہونچنے دینے کے بالمقابل دوسروں کی ایذاء رسانی کو برداشت کرلینا زیادہ مشکل ہے ، اور اسی موقع پر بہت سے لوگوں کے قدم پھسل جاتے ہیں، جبکہ یہ ’’حسن اخلاق ‘‘ کی بنیاد ہے ، امام غزالی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
ولیس حسن الخلق کف الأذی بل احتمال الأذی ( احیاء علوم الدین : ۱؍۲۷۳)
’’اپنی ذات سے دوسروں کو تکلیف نہ پہونچنے دینا حسن اخلاق نہیں ہے ،بلکہ دوسروں کی جانب سے دی گئی تکلیف کو برداشت کرلینا حسن اخلاق ہے ‘‘
حضرت ذوالنون مصری فرماتے ہیں کہ تین چیزیں حسن اخلاق کی نشانی ہیں: ساتھیوں کے ساتھ کم سے کم اختلاف ، ساتھیوں کے سلوک اورحرکتوں کے حوالے سے حسن ظن اور اپنے ساتھیوں کے عیوب سے اپنی نظر کو دور رکھنے کا اہتمام ۔(شعب الایمان)
یہ ہیں حسن اخلاق کی علامتیں ، جن سے آراستہ ہوکر ہم حسن اخلاق کو اپنے اندر پیدا کرسکتے ہیں اور اس پر ملنے والی بشارتوں کے مستحق بن سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں حسن اخلاق کی توفیق نصیب فرمائے ۔آمین
Login Required to interact.

