نبی اکرم ﷺ کا حج

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
تحریر مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
=== 
    نبی اکرم ﷺ مکہ مكرمه میں پیدا ہوئے، لیکن اعلان نبوت اورکفر وشرک کے خلاف صدائے توحید بلند کرنے کے بعد مکہ مكرمه کی سرزمین آپ کے لئے تنگ ہوگئی،اور بالآخر آپ ﷺنے اپنے اس وطن عزیز کو خیر باد کہا،اور مدینہ منورہ کو اپنا مسکن بنایا۔
    اس کے بعد مکہ مكرمه پر کفار کے تسلط کی وجہ سے آپ کا وہاں آنا اور حج وعمرہ کرنا ناممکن تھا، اس لئے نہ تو حج کی فرضیت نازل ہوئی اور نہ ہی آپ نے حج کے اردہ سے مکہ کا رخ کیا ،سن ۶؍ ہجری میں آپ ﷺ نے عمرہ کے ارادہ سے مکہ کا رخ بھی کیا تو مقام حدیبیہ سے آگے نہ بڑھ سکے، اور صلح حدیبیہ کے بعد آپ ﷺ مدینہ واپس ہوگئے، لیکن اس کے بعد پھر وہ وقت بھی آیا کہ سن ۸ ہجری میں آپ ﷺ نے مکہ مكرمه کو فتح کیا اور اس میں اسلامی پر چم لہرا یا ، اس کے بعد مکہ آپ کے زیر کنٹرول تھا ،بالآخر اسلام کے پانچوین رکن :حج کی فرضیت سن ۹ ہجری کے اواخر میں نازل ہوئی ، اور ادھرآپ ﷺ کی دنیا سے رحلت کا وقت بھی قریب سے قریب تر ہوگیا، چناں چہ آپ ﷺ نے صحابہ کے ساتھ حج کا ارادہ کیا، اور صحابہ میں اس کا اعلان کروایا۔ آپ ﷺ کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں صحابہ کرام نے سفر حج کا ارادہ کرلیا اور مدینہ کے علاوہ ان تمام علاقوں سے جہاں جہاں یہ خبر پہونچی صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے لئے روانہ ہوگئے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ شریک سفر تھے اور آپ کے سفر حج کے تمام اعمال کو محفوظ کر رہے تھے ،رسول اللہ ﷺ کے رحلت فرمانے کے بعد جب ان سے حضرت محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کے سفر حج کے بارے میں پوچھا تو آپؓ نے مکمل تفصیل کے ساتھ آپ ﷺ کے سفر کو بیان فرمایا۔
    اس روایت میں اتنی تفصیل اور باریکی ہے کہ محدثین کے نزدیک آپ ﷺ کے حج کے بارے میں منقول روایات میں سب سے جامع روایت یہی ہے ۔
     آپ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نو سال تک مدینہ میں رہے اور آپ ﷺ نے حج نہیں فرمایا، پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ حج کرنے والے ہیں، چنانچہ مدینہ منورہ سے بہت لوگ آگئے اور وہ سارے کے سارے اس بات کے متلاشی تھے کہ آپ ﷺ کے ساتھ حج کے لئے جائیں، تاکہ وہ آپ ﷺ کے اعمال حج کی طرح اعمال کریں۔ ہم آپ کے ساتھ نکلے ،جب ہم ذوالحلیفہ آئے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش ہوئی، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں اب کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم غسل کرو اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر اپنا احرام باندھ لو تو رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی پھر قصویٰ اونٹنی پر سوار ہوئے ،یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کی اونٹنی بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوگئی تو میں نے انتہائی نظر تک اپنے سامنے دیکھا تو مجھے سواری پر اور پیدل چلتے ہوئے لوگ نظر آئے اور میرے دائیں بائیں اور پیدل چلتے ہوئے لوگوں کا ہجوم تھا اور رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ تھے اور آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تھا جس کی مراد آپ ﷺ ہی زیادہ جانتے تھے اور آپ ﷺ جو عمل کرتے تھے تو ہم بھی وہی عمل کرتے تھے اور آپ ﷺ نے تو حید کے ساتھ تلبیہ کے کلمات پر اضافہ پڑھا ( لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ) اور لوگوں نے بھی اسی طرح پڑھا ،اور رسول اللہ ﷺ نے ان تلبیہ کے کلمات پر اضافہ نہیں فرمایا اور رسول اللہ ﷺ یہی تلبیہ کے کلمات پڑھتے رہے، (حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ) ہم نے صرف حج کی نیت کی تھی اور ہم عمرہ کو نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ جب ہم بیت اللہ آئے تو آپ ﷺ نے حجر اسود کا استلام فرمایا اور طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکروں میں عام چال چلے، پھر آپ ﷺ مقام ابراہیم کی طرف آئے اور آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّی) اور تم بناؤ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ، پھر آپ ﷺ نے مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کیا آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور ان دو رکعتوں میں آپ ﷺ نے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور قُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ) پڑھی پھر آپ ﷺ حجر اسود کی طرف آئے اور اس کا استلام کیا ،پھر آپ ﷺ دروازہ سے صفا کی طرف نکلے تو جب آپ ﷺ صفا کے قریب ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں وہاں سے شروع کروں گا جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے، پھر آپ ﷺ نے صفا سے آغاز فرمایا اور صفا پر چڑھے، آپ ﷺ نے بیت اللہ کو دیکھا، اور قبلہ کی طرف رخ کیا اور اللہ کی تو حید اور اس کی بڑائی بیان کی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کی مِلک ہے، اور اسی کے لئے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ،اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے اکیلے سارے لشکروں کو شکست دی، پھر آپ ﷺ نے دعا کی اور تین مرتبہ اسی طرح فرمایا ،پھر آپ ﷺ مروہ کی طرف اترے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کے قدم مبارک بطن وادی میں پہنچے تو آپ ﷺ دوڑے یہاں تک کہ ہم بھی چڑھ گئے اور پھر آہستہ چلے یہاں تک کہ مروہ پر آگئے اور مروہ پر بھی اسی طرح کیا جس طرح کہ صفا پر کیا تھا ،یہاں تک کہ جب مروہ پر آخری چکر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگوں میں اس طرف پہلے متوجہ ہو جاتا جس طرف کہ بعد میں متوجہ ہوا ہوں تو میں ہدی نہ بھیجتا اور میں اس احرام کو عمرہ کا احرام کر دیتا تو تم میں سے جس آدمی کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے اور اسے عمرہ کے احرام میں بدل لے تو سراقہ بن جعثم کھڑےہوئے اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا یہ حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے دو مرتبہ نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے نبی ﷺ کا اونٹ لے کر آئے تو انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی انہیں میں پایا جو کہ حلال ہو گئے، احرام کھول دیا ہے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رنگ والےکپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ لگایا ہوا ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر اعتراض فرمایا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ مجھے میرے ابا نے اس کا حکم دیا، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عراق میں یہ کہہ رہے تھے کہ میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے احرام کھولنے کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی طرف گیا اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جو کچھ مجھے بتایا اس کی خبر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دی اور اپنے اعتراض کرنے کا بھی ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (حضرت) فاطمہ نے سچ کہا ، جس وقت تم نے حج کا ارادہ کیا تھا تو کیا کہا تھا ؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے کہا اے اللہ میں اس چیز کا احرام باندھتا ہوں کہ جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس تو ہدی ہے تو تم حلال نہ ہونا راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے جو اونٹ لے کر آئے تھے اور جو اونٹ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے سارے جمع کر کے سو اونٹ ہو گئے تھے ، پھر سب لوگ حلال ہو گئے اور انہوں نے بال کٹوالئے سوائے نبی ﷺ کے اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی، تو جب ترویہ کا دن ہوا (آٹھ ذی الحجہ) تو انہوں نے منیٰ کی طرف جا کر حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ ﷺ بھی سوار ہوئے اور آپ ﷺ نے منٰی میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں پھر آپ ﷺ کچھ دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا اور آپ ﷺ نے بالوں سے بنے ہوئے ایک خیمہ کو نمرہ کے مقام پر لگانے کا حکم فرمایا پھر رسول اللہ ﷺ چلے اور قریش کو اس بات کا یقین تھا کہ آپ ﷺ مشعر حرام کے پاس ٹھہریں گے جس طرح کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں کرتے تھے پھر رسول اللہ ﷺ تیار ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ عرفات کے میدان میں آگئے، وہاں آپ ﷺ نے نمرہ کے مقام پر اپنا لگا ہوا خیمہ پایا ،آپ ﷺ اس خیمے میں ٹھہرے یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا، پھر آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی قصوی کو تیار کرنے کا حکم فرمایا اور بطنِ وادی میں آکر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہیں، آگاہ رہو کہ جاہلیت کے زمانہ کے کاموں میں سے ہر چیز میرے قدموں کے نیچے پامال ہے اور جاہلیت کے زمانہ کے خون معاف کرتا ہوں اور وہ خون ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے جب کہ نبو سعد دودھ پیتا بچہ تھا، جسے ہذیل نے بنو سعد سے جنگ کے دوران قتل کردیا تھا اور جاہلیت کے زمانہ کا سود بھی پامال کردیا گیا ہے اور میں اپنے سود میں سب سے پہلے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کا سود معاف کرتا ہوں ،تم لوگ عورتوں کے حقوق ادا کرنے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ کی  امانت کے ساتھ انہیں حاصل کیا ہے ،اور تم نے اللہ کے حکم سے ان کی شرم گاہوں کو حلال سمجھا ہے اور تمہارے لئے ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر ایسے کسی آدمی کو نہ آئے دیں کہ جن کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ اس طرح کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو، مگر ایسی مار کہ ان کو چوٹ نہ لگے اور ان عورتوں کا تم پر بھی حق ہے کہ تم انہیں حسب استطاعت کھانا پینا اور لباس دو ،اور میں تم میں ایک چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور تم لوگ اللہ کی کتاب قرآن مجید کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیں اللہ کے احکام کی تبلیغ کر دی اور آپ ﷺ نے اپنا فرض ادا کر دیا اور آپ ﷺ نے خیر خواہی کی ،یہ سن آپ ﷺ نے شہادت والی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے اور لوگوں کی طرف منہ موڑتے ہوئے فرمایا:  اے اللہ! گواہ رہنا، اے اللہ! گواہ رہنا، گواہ رہنا، آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے، پھر اذان اور اقامت ہوئی اور آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی ،پھر اقامت ہوئی تو آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی، اور ان دونوں نمازوں کے درمیان اور کوئی نفل وسنن وغیرہ نہیں پڑھی ،پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہو کر موقف میں آئے اور آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی قصوی کا پیٹ پتھروں کی طرف کردیا جو کہ جبل رحمت کے دامن میں بچھے ہوئے تھے اور آپ ﷺجبل المشاہ کو سامنے لے کر قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوگئے اور آپ ﷺ دیر تک کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا اور کچھ زردی جاتی رہی یہاں تک کہ ٹکیہ غروب ہو گئی۔ اس وقت آپ ﷺ نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیچھے اونٹنی پر سوار کیا اور آپ ﷺ چل پڑے اور اونٹنی قصویٰ کی مہار اتنی کھنچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوے کے اگلے حصے سے لگ رہا تھا اور آپ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ کے اشارے سے فرما رہے تھے :  اے لوگو آہستہ آہستہ چلو اور جب کوئی پہاڑ کا ٹیلہ آجاتا تو مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تھے تاکہ اونٹنی آسانی سے اوپر چڑھ سکے، یہاں تک کہ مزدلفہ آگیا تو یہاں آپ ﷺ نے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھائیں اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نفل وغیرہ نہیں پڑھے ،پھر رسول اللہ ﷺ آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی اور جس وقت کہ صبح ظاہر ہوئی تو آپ ﷺ نے اذان اور اقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھائی ،پھر آپ ﷺ قصویٰ اونٹنی پر سوار ہو کر مشعر حرام آئے اور قبلے کی طرف رخ کر کے دعا، تکبیر اور تہلیل و توحید میں مصروف رہے ،دیر تک وہاں کھڑے رہے، جب خوب اجالا ہوگیا تو آپ ﷺ نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کیا اور طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل پڑے ،حضرت فضل بن عباس خوبصورت بالوں والے اور گورے رنگ والے ایک خوبصورت آدمی تھے، رسول اللہ ﷺ جب انہیں ساتھ لے کر چلے تو کچھ عورتوں کی سواریاں بھی چلتی ہوئی انہیں ملیں ،تو فضل ان کی طرف دیکھنے لگے، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک فضل کے چہر پر رکھ کر ادھر سے چہرہ پھیر دیا ،فضل دوسری طرف بھی عورتوں کی سواریاں دیکھنے لگے، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اس طرف سے بھی فضل کا چہرہ پھیر دیا، یہاں تک کہ وادی محسر میں پہنچ گئے ،آپ ﷺ نے اونٹنی کو ذرا تیز چلایا اور اس درمیانی راستہ سے چلنا شروع کیا کہ جو جمرہ کبری کی طرف جانکلتا ہے یہاں تک کہ درخت کے پاس جو جمرہ ہے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر فرمایا اور آپ ﷺ نے ہر کنکری وادی کے اندر سے شہادت والی انگلی کے اشارہ سے ماری جیسے چٹکی سے پکڑ کر کوئی چیز پھینکی جاتی ہے ،پھر آپ ﷺ قربان گاہ کی طرف آئے اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے تریسٹھ اونٹ قربان کئے (ذبح کئے) پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برچھا عطا فرمایا اور انہوں نے باقی قربانیاں ذبح کیں ،آپ ﷺ نے اپنی قربانیوں میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شریک کرلیا تھا ،پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قربانی کے ہر جانور میں سے ایک ایک بوٹی کٹوا کر ہانڈی میں پکوائی جائے پھر آپ ﷺ اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور شوربہ بھی پیا پھر نبی ﷺ سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف آئے اور آپ ﷺ نے طواف افاضہ فرمایا اور مکہ میں ظہر کی نماز پڑھ کر بنو عبدالمطلب کے پاس آئے جو کہ زم زم پر کھڑے ہو کر لوگوں کو پانی پلا رہے تھے ،آپ ﷺ نے فرمایا:  اے عبدالمطلب کے خاندان والو! پانی زم زم سے کھینچتے رہو اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے اس پانی پلانے کی خدمت پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ مل کر پانی کھینچتا تو لوگوں نے آپ ﷺ کو ایک ڈول پانی کا دیا اور آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ پیا۔(مسلم : حدیث نمبر: ۱۲۱۸، باب حجۃ النبی ﷺ)
اس طرح رسول اکر م ﷺ نے اپنا حج ادا فرمایا جسے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے تفصیل سے بیان کردیا ، آپ نے اپنے اس حج کے ذریعہ صحابہ کو حج کا طریقہ سکھلایا اور خطبہ حج میں جامع نصیحت فرمائی، جس میں آپ ﷺنے بہت سے اہم امور پر امت کو متوجہ کیا اور اپنی رحلت کی اشارہ فرماتے ہوئے قیامت تک کی انسانیت کو کامیابی وکامرانی کا نسخہ بتایا کہ وہ قرآن وسنت سے وابستہ رہیں۔
Login Required to interact.