قاری محمد طیبؒ فرماتے ہیں، جسکا مفہوم ہے:
اسلام کی تین باتیں ہیں۔ 1۔ شریعت 2۔ طریقت 3۔ سیاست۔۔ یہ تین چیزیں اکٹھی ہوں گی تو اسلام کی کامل عمارت بنے گی۔
شریعت۔۔ یہ راستہ ہے،، راستہ ہی نہ ہو تو چلو گے کس پر؟
طریقت۔۔ یہ راستے پہ چلنے کے اصول سکھاتا ہے۔۔ راستہ ہو اور چلنے کا ڈھنگ نہ آئےتو سفر کیسے کرو گے؟
سیاست۔۔ راستے میں جو مشکلات آتی ہیں انکو دور کرنے کا نام سیاست ہے۔۔ ظاہر سی بات ہے کہ آپ ایک راستے پہ چل رہے ہیں۔۔ مشکل مرحلہ آگیا،، پتھریلی زمین آگئی ،، جھاڑیاں آگئیں۔۔ تو وہاں ڈنڈا اور ہتھوڑا وغیرہ لینا پڑتا ہے۔۔ جب آپ یہ استعمال کریں گے تو شور بھی آئے گا۔۔ اسی لئے سیاست کے میدان میں ذرا شوروغوغا رہتا ہے۔۔ یہ تینوں چیزیں ہونگی تو اعتدال ہو گا۔
اگر صرف شریعت ہے اور طریقت و سیاست معاون نہیں ہیں،، تو نفسِ شریعت سے وابستہ ہو جانے والا شخص تنگ نظر ہوا کرتا ہے۔۔ وہ پھر بند حجرے کا ملّاں ہوتا ہے اور دوسری بات ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ب
اگر صرف طریقت ہو اور شریعت و سیاست معاون نہ ہوں،، تو پھر یہ (صوفی نما) لوگ دوسروں کو بند حجروں کی طرف کھینچتے ہیں۔۔ مریدوں کو بند کمروں میں کھینچنا اور قید کر دینا،، یہ رہبانیت ہے، اسلام کا مزاج نہیں ہے۔۔ اسلام کا مزاج گھروں سے نکل کر محلّوں، شہروں، صحراؤں، دریاؤں، جنگلوں اور پہاڑوں میں جاکر ان پر مسلط (مسخر) ہونا ہے۔۔ ولقد كرمنا بني آدم وحملناهم في البر والبحر ورزقناهم من الطيبات وفضلناهم على كثير ممن خلقنا تفضيلا (اور بیشک ہم نے بنی آدمؑ کو عزت بخشی، اور انکو خشکی اور سمندر میں سواری دی اور انکو پاکیزہ چیزیں عطا کیں، اور ہم نے اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت بخشی – سورۃ الاسراء ـ (70)
لہٰذا صرف طریقت اور پیری مریدی آپکو رہبانیت کی طرف لے جاتی ہے۔۔ یہ اسلام کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔۔
اگر صرف سیاست ہو اور شریعت و طریقت اسکے ہمراہ نہ ہوں،، تو پھر تکبر اور نخوت پیدا ہوتی ہے۔۔ نِرے سیاستدانوں کو دیکھ لیں، سب متکبر ہوتے ہیں۔۔ مزاج میں تکبر آجاتا ہے۔ بقول اقبال :
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اس اصول کی بنیاد پر ہمیں اپنے اندر جامعیت پیدا کرنی ہے، لہذا مدرسہ ہو، جماعت ہو یا خانقاہ ہو ان میں یکجائیت ہوگی تو تحریک مکمل ہوگی۔
Login Required to interact.

