مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
انسان کی پیدائش کے بعد سے ماہ وسال میں اس کو بڑھتا ہوا سمجھا جاتا ہے ، اورخوشی کےاظہار کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اب یہ بچہ اتنے سال کا ہوگیا، حالانکہ آنے سے پہلے جانے کا وقت ایسا متعین ہوچکا ہوتا ہے کہ پیدا ہوتے ہیںالٹی گنتی شروع ہوجاتی ہے؛ کیونکہ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہر انسان پیدا ہوتے ہی اپنی’’ اَجل‘‘(موت ) کی طرف ہر لمحہ بڑھتا جاتا ہے اور گزرنے والا ہرایک دن اس کی زندگی میں سےاس دن کے بقدر وقت کو کم کرکے اسے موت سے کچھ اور قریب کرکے جاتا ہے،اور ہر آنے والی شام صبحِ زندگی سے دور اور شام زندگی سے قریب سے قریب تر کرتی جاتی ہے ۔اور پھر ایک وقت انسان کی زندگی میں ایسا آتا ہے کی ابتدائی آزادیوں پر بھی پابندی لگ جاتی ہے یعنی بالغ ہوتے ہیں بچپن کی آزادی ختم ہوجاتی ہے اور انسان مکلف بنادیا جاتا ہے ، اور اس طرح اس کے سفر آخرت کا آخری اور تکلیفی مرحلہ شروع ہوجاتا ہے ، اور اسے حلال وحرام ، جائز وناجائز ، فرض ، واجب، مستحب اور مکروہ کے حدود میں ایسا محدود کردیا جاتا ہے کہ اس سے سر مو انحراف اصل منزل : جنت سے اس کے محروم ہوجانے اور راہ سفر کےجہنم کے دروازے سے جڑ جانے کا سبب بن سکتا ہے ، اس لئے اس سفر میں احتیاط کو حد درجہ ترجیح دینے کی ضرورت ہے،ورنہ معمولی غفلت بھی ازلی دشمن شیطان کو اس کے مقصد میں کامیابی سے ہمکنار کرکے ہمیں ہلاکت وتباہی سے دوچار کرسکتی ہے، نیز جس طرح ہر سفر میں زاد سفر ضروری ہے اسی طرح مسافر آخرت کے لئے بھی ضروری ہے کہ توشہ سفر ہر وقت اس کی ساتھ ہو ۔حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ہر سفر کے لئے یقینا توشہ لیا جاتاہے، تو سفر آخرت کے لئے دنیا سے توشہ تیار کرکے نکلو، اور اس طرح اللہ سے امید اور خوف رکھو کہ گویا تم نےاس ثواب وعذاب کو دیکھ لیا ہے جو کہ اللہ نے متقین ومجرمین کے لئے تیار کرکھا ہے، عمر کی درازی اور موت کی تاخیر کہیں تمہارے دلوں کو سخت نہ کردے اور تم اپنے دشمنوں کے تابع ہوجاؤ، خدا کی قسم وہ شخص بہت سی امیدیں دل میں نہیں بسا تا جسے شام کے بعد صبح تک یا صبح کے بعد شام تک زندہ رہنے کا علم نہ ہو!‘‘
علامہ ابن جوزی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
’’وہ گزرنے والا بہت ہی قابل تعجب ہے جو توشہ آخرت تیار کئے بغیر مر گیا، اور وہ مسافر بھی قابل تعجب ہے جو سفر کے لئے سامان اکٹھا کئے بغیر سفر پر نکل گیا، اور قبر میں منتقل ہونے والا وہ شخص بھی بہت قابل تعجب ہے جس نے منتقلی کی کوئی تیاری نہیں کی‘‘
سفر آخرت جو ایک یقینی سفر ہے ، اس کے لئے توشہ کیا ہے؟ اس کا توشہ دنیا کے سفر کے جیسا توشہ نہیں ہے ، بلکہ اس کا توشہ وہ تمام اعمال ہیں جو اللہ کو پسند ہیں اور جن کے کرنے کی تعلیم اللہ یا اس کے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ نے دی ہے۔ایک مسافر آخرت پر ضروری ہے اپنی زندگی کو ان اعمال سے سنوار کر ہر لمحہ تیار رہے کہ جب بھی قضا کا بلاوا ہو وہ بخوشی اس کو لبیک کہہ سکے،ورنہ اس وقت ایک ایسے افسوس کی ابتداء ہوگی جس کی تلافی کی کوئی شکل نہ ہوگی۔
اس سفر آخرت کے توشہ میں تمام اعمال خیر میں ایمان ،توحید، یقین ،نمازو روزہ ، صبر وتقوی اور اخلاص کی بڑی اہمیت ہے ،جس کے بغیر کامیابی کا تصور ممکن نہیں۔
Login Required to interact.

