امیری میں فقیری

تاریخ، واقعات، شخصیات
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
 ===
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حمص کے لوگوں سے یہ کہا کہ وہاں کے فقراء اور مساکین کی لسٹ تیار کرکے مجھے بھیجیں تاکہ بیت المال سے ان کی مدد کی جائے، جب وہ لسٹ حضرت عمرؓ کے پاس آئی تو اس لسٹ میں وہاں کے حاکم سعید بن عامر(متوفی: ۲۰ ھ) کا نام دیکھ کر حضرت عمرؓ کو بڑا تعجب ہوا، چناں چہ مزید تحقیق کے لئے وہاں کے لوگوں سے حضرت سعید بن عامر کے بارے پوچھا تو لوگوں نے جواب دیا کہ ان کا نام اس لسٹ میں اس لئے ہے کہ وہ اپنی پوری تنخواہ فقراء اور مساکین پر خرچ کرکے خود خالی ہاتھ ہوجاتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ میں آخر کیا کروں جب کہ مجھ سے ان رعایا کے بارے میں اللہ کے پاس پوچھا جائے گا۔
حضرت عمرؓ نے حمص کے لوگوں سے پوچھا کہ ان کے بارے میں آپ لوگوں کی کچھ شکایت ہے تو لوگوں نے کہا کہ ہاں چار باتیں ہیں:
(۱) وہ دوپہر سے پہلے ہم لوگوں کے بیچ نہیں آتے۔
(۲) اور رات میں کبھی نظر نہیں آتے۔
(۳)ہفتہ میں ایک دن وہ ہم سے چھپے رہتے ہیں۔
(۴)کبھی کبھی ان پر غشی طاری ہوجاتی ہے ۔
حضرت عمرؓ نے حضرت سعید بن عامر سے ان شکایات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی اس کا اقرار کیا اور کہا کہ در اصل دوپہر سے پہلے میں ان کے درمیان اس لئے نہیں آتا ہوں کہ میں اپنے گھر کے کام کاج میں مصروف رہتا ہوں ؛کیوں کہ میرے پاس کوئی خادم نہیں ہے اور میری اہلیہ بیمار رہتی ہیں ۔ اور رات میں نظر نہ آنے کی وجہ یہ ہے جو میں ظاہر کرنانہیں چاہتا تھا لیکن اب مجھے اسے مجبورا ًظاہر کرنا پڑ رہا ہے کہ میں نے دن کے اوقات کو عوام کے لئے اور رات کے اوقات کو اللہ کی رضا جوئی اور عبادت کے لئے خاص کر رکھا ہے ، اور ہفتہ میں ایک دن نظر نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ میں اس دن اپنا کپڑا دھلتا ہوں اور اس کے بعد پھر اس کے سوکھنے کا انتظار کرتا ہوں ، کیوں کہ میرے پاس ایک جوڑے کے سوا پہننے کے لئے کوئی کپڑا ہی نہیں ۔ رہی بات غشی طاری ہونے کی تو وہ مارے غم کے ہوتی ہے کہ میں اس وقت قریش کے ساتھ موجود تھا جب کہ مکہ میں قریش حضرت خبیب انصاری ؓ کو شہید کرنے کی تیاری کررہے تھے ، اس وقت انہوںنے حضرت خبیب ؓ سے کہا کہ کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہاری جگہ پر محمد ہوتے اور تمہاری جان بچ جاتی، تو اس کے جواب میں حضرت خبیبؓ نے کہا کہ مجھے تو یہ بھی ناگوار ہے کہ میں اپنے اہل وعیال کے بیچ خوش وخرم رہوں اور محمد ﷺ کو ایک کانٹا چبھ جائے!!!! اس واقعہ کے وقت میں مشرک تھا، جس کو وجہ سے میں نے ان کی مدد نہیں کی،جب بھی مجھے یہ واقعہ یاد آتاہے تو میں اللہ کے عذاب کے خوف سے کانپ جاتا ہوں کہ کہیں ان کی مدد نہ کرنے پر میری پکڑ نہ ہوجائے، اور یہ خوف مجھ پر اتنا غالب ہوجاتا ہے کہ مجھ پر غشی طاری ہوجاتی ہے ۔حضرت سعید بن عامرؓ کے جواب کو سن کر حضرت عمر ؓ کی چیخ نکل گئی اور انہوں نے حضرت سعید کو گلے لگا لیا۔
یہ واقعہ ان امراء وسلاطین کے لئے درس عبرت ہے جن کی عہدہ طلبی صرف مادی منافع کے حصول کے لئے ہوتی ہے اور جو اپنےمفادات کے پیش نظر قوم وملت کا سودا کرکے ظالم کے ظلم کو ظلم کہنے سے بھی گریز کرتے ہیں، اورانسانی جان ومال کی عظمت وحرمت کو محض اپنے مفاد کے حصول کی خاطر قربان کردیتےہیں، اور یہ سونچنے سے بھی محروم رہتے ہیں کہ ان کے خزانے میں جمع ہونے والامال ان کے لئے لقمہ جہنم بن رہا ہے اور قدرت کے باوجود مظلوم کی مظلومیت پر ان کی خاموشی اور نصرت وہمدردی سے ان کی پہلوتہی احکم الحاکمین کے دربار میں ان کی بڑی سخت پکڑ کا ذریعہ بن رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے امیری میں فقیری کی ایسی انوکھی مثال جس کی نظیر ملنی مشکل ہے ، اے کاش کے حکمرانوں اور امراء میں یہ صفت عام ہوجاتی تو پھر دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔
Login Required to interact.