مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
===
عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یقول عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ المَصْدُوقُ، «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ، وَأَجَلُهُ، وَرِزْقُهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ فَيَدْخُلُ الجَنَّةَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَدْخُلُ النَّارَ»(بخاری:کتاب التوحید،باب ولقد سبقت کلمتنالعبادنا المرسلین)
’’حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے جو کہ صادق ومصدوق ہیں بیان کیا کہ تم میں سے ہرایک اپنی ماں کے پیٹ میںچالیس دن تک نطفہ کی شکل میںرہتا ہے ،پھر اتنے ہی دن وہ جما ہو ا خون رہتا ہے اور پھر اتنے ہی دنوں تک وہ گوشت کی بوٹی کی صورت میں رہتا ہے ،پھر اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کی اجازت دی جاتی ہے ،چناں چہ وہ اس کی رزق ،موت ،عمل اور وہ بد بخت ہے یا نیک بخت لکھ دیتا ہے ،پھر اس کے اندر روح پھونک دی جاتی ہے ،چناں چہ تم میں سے کوئی اہل جنت جیسے اعمال کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جا تا ہے تو اس پر لکھی ہوئی بات(تقدیر ) غالب آجاتی ہے ،اور وہ جہنمیوں کا کام کر کے جہنم میں چلا جاتا ہے اور بے شک تم میں کا کوئی جہنمی لوگوں کے جیسے اعمال کرتا ہے ،یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر لکھی ہوئی بات (تقدیر ) غالب آجاتی ہے اور جنتی لوگوں کے جیسا کام کرکے جنت میں داخل ہوجاتا ہے ‘‘
مومن کے لئے تو یہ واضح بات ہے کہ اللہ کی طرف سے مرتب کردہ تقدیر انسانی تدبیروں پر غالب آتی ہے ،اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ایمان لانا ایمان کی درستگی کے لئے ضروری ہے، کیونکہ تقدیر پر ایمان جزو ایمان ہے ۔
اس روایت میں ابتداء ًانسانی وجود کے ابتدائی مراحل کوبیان کیا گیا ہے کہ ہر چالیس دن میں اس میں بتدریج تبدیلی ہوتی ہے رہتی ہے ،بالآخر۱۲۰؍دن میں اس کا تخلیقی مرحلہ کمال کو پہونچ جاتا ہے اور اس مدت میں اس کی شکل وصورت بھی پیدا ہوجاتی ہے ،تو اس وقت اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اور اس کی تقدیرجو لوح محفوظ میں پہلے سے ہی لکھی ہوئی ہے ،الگ لکھ دی جاتی ہے ،جس میں اس کی رزق ،اس کے اعمال ،اس کی عمر اور اس کے نیک وبد ہونے کی تفصیل ہوتی ہے ۔روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ نطفہ کو علقہ کی شکل دینے اور علقہ کو مضغہ میں تبدیل کرنے اور شکل وصورت تیار کرنے اور پھر تقدیر نقل کرنے کا فریضہ وہ فرشتہ انجام دیتا ہے جس کو اللہ تعالی نے رحم مادر پر مامور کررکھا ہے۔(تحفۃ الاحوذی)
اس وقت لکھی جانے والی تقدیر چونکہ اللہ عالم الغیب کے’’ علم محیط‘‘ کی روشنی میں لکھی جاتی ہے، اس لئے انسانی زندگی میں وہی تقدیر نمایاں رہتی ہے اور اسی کے مطابق اس کی زندگی گزرتی ہے اور اسی کے مطابق اپنے اختتام وانجام کو پہنچتی ہے ۔
گرچہ عام دستور خداوندی تو یہ ہے کہ انسان کو شروع سے ہی انجام کے موافق اعمال کی توفیق ملتی جاتی ہے ،ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
وکل میسر لما خلق لہ (بخاری:۷۱۱۲)
’’ہر انسان کے لئے وہ چیز یں آسان کردی جاتی ہیں جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے ‘‘
تاہم اس عام دستور خداوندی کے برخلاف اللہ عزوجل کا ایک مخصوص طریقہ یہ بھی ہے جس کو اس روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ کوئی شخص پوری زندگی نیک کام کرتا ہے اور اپنے اعمال کی وجہ سے جنت کے بالکل قریب آجاتا ہے، لیکن اس کی تقدیر اس کی تدبیر پر غالب آتی ہے اور وہ ایسے کام اخری لمحات میں کرنے لگتا ہے جن سے وہ جنتی بننے کے بجائے جہنمی بن جاتا ہے ،اوراس کے برعکس کوئی شخص پوری زندگی برائیوںمیں گزار کر آخری لمحات میں ایسے نیک کام کرجاتا ہے جن سے وہ جنتی بن جاتا ہے ، اور حدیث میں مذکور ہے :
الاعمال بخواتیمہا(مسلم)
’’انسان کے آخری اعمال کا اعتبار کیا جاتا ہے ‘‘
عزوہ ٔاحد کے موقع پر ایک شریک جنگ صحابی کی بہادری کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ جہنمی ہے ،متعدد صحابہ کرام جو ان کی بہادری کو دیکھ رہے تھے ،اس بات سے بہت کی حیران ہوئے اور تعجب میں پڑگئے ،ایک صحابی نے کہا کہ اب میں مسلسل اس کے ساتھ رہ کر اس کے اعمال کا جائزہ لونگا ،چناںچہ وہ مسلسل پیچھے لگے رہے ،واقعہ یوں ہو ا کہ جنگ میں دشمنوں سے مقابلہ میں ان کو بہت ہی زیادہ زخم لگ گئے جن کی تکلیف ان کے لئے ناقابل برداشت ہوگئی اور انہوں نے تکلیف سے بچاؤ کے لئے وہی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جوعموما بے صبری اورانجام سے بے خبری میں کیا جاتا ہے یعنی موت کو گلے لگا لینے کا فیصلہ کیا اوراپنی تلوار کو زمیں میں کھڑی کرکے خود کو اس پر سوار کرلیا اوراسے اپنے سینہ میں گھونپ کر خود کشی کرلی جس کا انجام جہنم ہے ۔
ہوکے بے چین یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مرکے بھی چین نہ آیا تو کدھر جائیں گے
تقدیر کے غلبہ کی یہ ایک مثال ہے کہ اچھے اعمال کرتے کرتے اخری لمحات میں ایسی برائی سرزد ہوگئی جو جہنم میں جانے کا باعث بن گئی۔اللہم احفظنا منہ ،گرچہ یہ جہنم میں جانا دائمی نہیں ہے، بلکہ عارضی ہے ،کیونکہ ہر مومن کا آخری انجام جنت ہی ہے ،بشرطیکہ وہ ایمان سے بالکلیہ برگشتہ نہ ہوا ہو۔
اس قسم کے واقعات سے تقدیر کے بارے میںایک گونہ الجھن پیدا ہوتی ہے لیکن واقعات وحقائق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی اللہ کی رحمت پوشیدہ ہے کیونکہ پوری زندگی خیر میں گزار کراخیر میں برائی کی راہ اختیار کرنے کا واقعہ شاذ ونادر ہی ہوتا ہے، جبکہ برائیوں میں زندگی گزار کرآخری لمحات میں تائب ہونے اور شر سے خیر کی جانب مائل ہوکرمستحق جنت بن جانے کی مثالیں بہت ہیں اور اس قسم کے واقعات پیش آتے ہی رہتے ہیں۔کتنے ہی واقعات ہیں کہ اسلام سے نفرت کرنے والے اسلام دشمنوں کو اللہ نے آخری عمر میں اسلام کی توفیق سے نوازدیا اور وہ بقیہ زندگی عبادت ریاضت میں گزار کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔
صحابی رسول حضرت عمربن ثابت بن وقیش جو کہ اصیرم کے لقب سے مشہور تھے،اپنی قوم بنو عبد الاشہل کے اسلام قبول کرلینے کے باجود اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے،لیکن فضل الہی ان کی جانب متوجہ ہوئی اور ایسے موقع پر جب کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ احد کے لئے مقام احد میں پہونچ چکے تھے ان کے دل میں اسلام قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے اور شریک جنگ ہوئے اور حالت اسلام میں کسی نماز کا وقت پانے سے پہلے ہی شہید ہوگئے اور ایک نماز بھی نہ پڑھ سکے ،جب رسو ل اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے یہ بشارت دی :
انہ لمن اهل الجنۃ (مسند احمد:۲۳۱۲۳)
’’و ہ جنتی ہیں‘‘
حضرت شاہ محمد اسحاق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے نانا حضرت شاہ عبد العزیز (محدث دہلویؒ)کے دربار میں ایک پنڈت حاضر ہوا کرتے تھے جو کہ لڑکپن کے زمانہ سے ان کے دوست تھے اور ہم ان کو نانا کہا کرتے تھے،ان کا معمول یہ تھا کہ وہ روزانہ صبح مدرسہ آتے اورکنویں پر نہاتے اور سورج پر جل چڑھاتے،یہ بات ہم کو گراں گزرتی مگر ادب کی وجہ سے کچھ کہہ نہ پاتے ،نانا کے انتقال کے بعد مدرسہ کا اہتمام ہمارے ہاتھ میں آیا اور ادھر پنڈت جی کا وہی معمول برقرار رہامگر نا نا کی دوستی کی وجہ سے اب بھی ہم ان کو کچھ نہ کہہ سکے۔ایک روز کا واقعہ ہے کہ وہ کنویں پر سورج کی طرف منہ کئے اور ہاتھ میں لوٹا لئے سورج پر جل چڑھانے کے لئے کھڑے توہو ے مگرانہوں نے جل نہیں چڑھایا،میں یہ دیکھ کر ان کے پاس پہونچ گیا اور اس وقت کے قاعدہ کے مطابق انہیں سلام کیا ،انہوںنے مجھے دعا دی اور کہا :بیٹایہاں آؤ،میں گیا تو انہوںنے کہا :تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے نانا سے بچپن سے دوستی ہے اور وہ دوستی ان کے انتقال کے وقت تک برابر قائم رہی ،مگر نہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ مسلمان ہو جاؤ اور نہ مجھے کبھی اس کا خیال ہو ا ،لیکن آج خود بخودمیرا دل بے چین ہے اور بے ساختہ جی چاہتا ہے کہ میں مسلمان ہوجاؤں،کیونکہ میںہمیشہ سورج کی پرستش کرتا رہا،لیکن آج مجھے خیال آیا کہ جب ہم چاہتے ہیں چلتے ہیں اور جب چاہتے ہیں آرام کرتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں جاتے ہیں ،مگر سورج ہے کہ رات دن مارا مارا پھرتا ہے، نہ وہ ایک دم کے لئے ٹھہر سکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنی مرضی کے مطابق چل پھر سکتاہے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ تو ہم سے بھی زیادہ مجبو ر اور زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور ہر گز پرستش کے قابل نہیں ہے ۔آج یہ حقیقت میرے اوپرعیاں ہوگئی کہ دین اسلام دین حق ہے ،اس لئے اے بیٹا! مجھے مسلمان بنادو،گرچہ میں اسلام کی باتیں جانتاہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ہاتھ پر اسلام لاؤں، تاکہ تم میرے اسلام کے گواہ رہو،میں نے کہا آپ کو ختنہ کرانا پڑے گا،انہوںنے کہا جو کچھ بھی تم کہو گے میں اس پر عمل کروں گا۔
الحاصل میں نے انہیںکلمہ اسلام پڑھا یااور ختنہ کرایا،اور میں نے ان کو اپنے پاس رہنے کی جگہ دی اور ان کی خدمت کرتا رہا بالآخر چالیس روزکے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
اور بھی اس قسم کے بہت سے واقعات ہیںکہ اللہ نے اپنے سایہ مغفرت میں ان لوگوں کو پناہ دی جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس کی بغاوت میں گزاردی ،ان واقعات سے یہ شہادت ملتی ہے کہ عام دستور خداوندی کے برخلاف مذکورہ حدیث میں بیان کردہ تدبیر پر تقدیر کے غلبہ کا نظام خداوندی بھی ایک فضل الہی ہے ، ذلک فضل اللہ یعطیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم۔
لیکن یہ عام دستور خداوندی نہیں ہے بلکہ عام دستور یہ ہے کہ جو جیسی محنت کرتا ہے اللہ کی جانب سے اسے ویسی ہی توفیق دی جاتی ہے ،اس لئے تقدیر پر بھروسہ کرکے بیٹھ جانے کی اسلام میں اجازت نہیں ہے ،بلکہ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ خیر پر عمل پیرا رہتے ہوئے اللہ سے خیر کی امید رکھی جائے اور تقدیر خیر طلب کی جائے،حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کے بارے میں جنت یا جہنم کا فیصلہ لکھا جاچکا ہے،یہ سن کر صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ تو کیوں نہ ہم اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :نہیں عمل کرتے رہواور ہر شخص کو ان ہی کاموں کی توفیق ملتی ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے ۔(ترمذی :باب ماجاء فی الشقاء والسعادۃ)
الحاصل تقدیر پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ اللہ اور اللہ کے پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کے حکم کے مطابق عمل کرتے رہنا وظیفہ بندگی ہے جس کو تقدیر پر اعتماد کرکے چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے گرچہ ہوگا وہی جو کہ تقدیر میں اللہ نے لکھ دیا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ ظالم نہیں ہے اور عمل کرنے والوں کو محروم کرنا بھی اس کا دستور نہیں ہے۔
Login Required to interact.

