خوش گوار ازدواجی زندگی کے اصول وآداب

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
تحریر: مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
 اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرماکر انہیں جنت میں رکھا ،ان کو بےشمار وبے حساب نعمتوں سے نوازا ، وہ دن رات ان نعمتوں کو استعمال کر رہے تھے ، لیکن تنہا تھے ،ان کی دلجوئی اور سکون کیلئے اللہ تعالی نے اماں حوا کو پیدا فرمایا ، قرآن کریم میں ہے :
وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا (الاعراف : ۱۸۹)
’’اللہ نے اس نفس واحدۃ (آدم ) سے اس کی بیوی کو بنایا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے‘‘
 اس سے معلوم ہوا کہ جنت جیسی نعمتوں میں بھی مرد اگر اکیلا ہے، تب بھی عورت جیسی نعمت کے بغیر اسے سکون نہیں مل سکتا ، اسکی زندگی میں عورت کے بغیر کمی ہے، گویا عورت اگر نیک ہو ، پاک دامن ، ہو ،عقل والی ہو اور خوش خووخوش مزاج ہو تو وہ مرد کیلئے حسین الہی تحفہ ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
 ’’دنیا ایک متاع ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے‘‘(صحیح مسلم : ۶۴)
اسی طرح نبی ﷺ نے مرد کے بارے میں فرمایا:
 تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں سب سے بہتر ہوں (سنن ابن ماجۃ : ۱۹۷۸)
نکاح ایک عبادت ہے ، اور دین اسلام نے مرد اور عورت کو نکاح کے ذریعہ پاکیزہ بندھن میں باندھ کر اور ازدواجی تعلق سے جوڑ کر میاں بیوی کے درجے پر فائز کیاہے ۔ 
نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ مرد مسکین ہے ، مسکین ہے جس کے پاس بیوی نہ ہو، صحابہ نے پوچھا کہ کیا اس کے پاس مال کی کثرت ہو تب بھی وہ مسکین ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وہ مسکین ہے اگر چہ کہ مالدار ہو، اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ عورت مسکین ہے ، مسکین ہے جس کے پاس شوہر نہ ہو، صحابہ نے پوچھا کہ کیا اس کے پاس مال کی کثرت ہو تب بھی وہ مسکین ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وہ مسکین ہے اگر چہ کہ مالدار ہو۔(شعب الایمان بیہقی : ۵۴۷۷) 
اس سے معلوم ہوا کہ دونوں کی زندگی اسی وقت مکمل ہو گی جب دونوں نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں گے ۔ اسی لئے اسلام نے نکاح کو بہت اہمیت دی اوررسول اللہ ﷺ نے نکاح کو’’ نصف الایمان‘‘ بھی فرمایا ۔(معجم اوسط : ۷۶۴۷)
جب مرد وعورت عقد نکاح سے ایک دوسرے سے نکاح کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق عائد ہوجاتے ہیں جن کو شریعت اسلامیہ کے مرضی کے مطابق ادا کرنا دونوں کی ذمہ داری ہے اور اسی میں دنیا اور اخرت کی کامیابی ہے۔نکاح کے وقت جو خطبہ پڑھا جاتا ہے وہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو سکھایا، اس خطبہ میں تین قرآنی آیتیں ہیں ، ان تینوں میں مجموعی طور پر ایک ہی پیغام ہے کہ’’ اللہ سے ڈرو‘‘ ۔ گویا ان تینوں آیات کو اس موقع پر پڑھ کر زوجین کو اور اس کے ساتھ دونوں کے اہل وعیال اور عزیز واقارب کو یہ تعلیم دی جاری ہے کہ تم ایک نئے رشتے میں داخل ہورہے ہو، ایک نیا تعلق تمہارا شروع ہورہا ہے اور اس کے حقوق تم پر عائد ہورہے ہیں اب تمہاری کامیابی اسی میں ہے کہ زندگی کے ہرموڑ پر ہر حال میں اللہ عزوجل سے ڈرنا ہے اور اس کے احکام وقوانین کا خیال رکھنا ہے اور اس کے نبی ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں کی روشنی میں زندگی گزارنی ہے اور رشتہ نبھانا ہے۔ اوریاد رکھ لوکہ اگر تم حقوق کی ادائیگی میں اللہ کے قانون وشریعت سے بے پرواہ ہوگئے ، تو اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے ،اور تم اس کی پکڑ میں آجاؤ گے ، یقینا تمہاری کامیابی تو صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں کی پیروی میں ہے ۔
اس لئے یہ ضروری ہے کہ ازدواجی رشتہ کو خوش گوار بنائے رکھنے کی مکمل کوشش کی جائے اور اگر بشری تقاضے کے تحت کبھی آپس میں کوئی رنجش کا ماحول ہوجائے تو اسے طول پکڑنے نہ دیا جائے بلکہ اسے اسلامی تعلیم کے مطابق حل کر کے زندگی کی تلخی کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، ذیل میں چند ایسی اصولی باتیں تحریر کی جارہی ہیں جن کو اختیار کرنے سے زندگی خوشگوار ہوگی ، اور آپسی رنجش کے دروازے بھی بند رہیں گے۔
(۱) ازداوجی زندگی میں سکون ومحبت کی بڑی اہمیت ہے ، اس کو حاصل کرنے اور باقی رکھنے کی ہر طرح کوشش کریں۔
(۲) شوہر کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ بیوی اسے خوش رکھنے کی کوشش کرے ، اس کی بات مانے ، اس کے مال واسباب اور گھر کی حفاظت کرے، اس کی ذہنی وجسمانی راحت کا خیال رکھےاور اس کی طلب کی تکمیل کرے۔
(۳)  بیوی کی تین بنیادی ضرورتیں ہیں،جن کو پورا کرنے پر شوہر کو مکمل توجہ دینی چاہئے  (۱) تحفظ (Protection)  (۲) توجہ (Attention)  (۳) حوصلہ افزائی (Apprecitaion) ۔
ازدواجی زندگی میں نفرت ودوری پیدا کرنے والے اعمال 
یہ چیزیں ازدواجی رشتہ میں زہر گھولنے کا کام کرتی ہیں ، شوہر اور بیوی دونوں ان سے مکمل پر ہیز کریں، تاکہ ان کی ازدواجی زندگی خوشگوار باقی رہے۔
*  میاں بیوی کا ایک دوسرے سے بے توجہ ہونا ۔
*  ایک دوسرے کی ضرورت اور طلب کونظر انداز کرنا ۔
*   طلاق یا خلع یا دوسری شادی کی دھمکی دینا ، یا بیوی کا اپنے میکے چلے جانے کی دھمکی دینا وغیرہ۔
*  ایک دوسرے کی عزت کا خیال نہ رکھنا اورایک دوسرے کو بے وقعت کرنا۔
*  شوہر کا بیوی کو وقت نہ دینا ، یا بیوی کا شوہر کی طلب کو پورا نہ کرنا ۔
*  ایک دوسرے کی راحت وآرام کا خیال نہ رکھنا۔
*  بیوی کے لئےہرطرح کی پابندی اور اپنے لئے آزادی کا خیال رکھنا۔
* بیوی کی پسند ونا پسند یا فطری عادت پر شوہر کا نکتہ چینی کرنا یا شوہر کی پسند وناپسند پر یا اس کی صفات وعادات پر بیوی کا نکتہ چینی کرنا۔
* بات بات میں آپس میں الجھنا اور ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرنا ۔
* آپس میں ایک دوسرے پر الزام لگانا۔
* بیوی کا شوہر کے ماں باپ اور عزیز واقارب سے بے اعتنائی برتنا اوران کے ساتھ بدسلوکی کرنا یا شوہر کا بیوی کے اقارب سے بے اعتنائی برتنااور ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا ۔
*  شوہر کی مناسب آمدنی کے باوجود بیوی کا ملازمت کرنا ، چاہے بیوی اپنی خوشی سے ملازمت کرے یا شوہر اسے مجبور کرے۔
*  شوہرکابیوی کے والدین وغیرہ سے مال وزر کا مطالبہ کرنا اور بیوی پردباؤ ڈالنا کہ وہ اپنے میکے سے مال وجائیداد حاصل کرکے اسے دے،یاد رکھیں کہ بیوی کے میکے والوں سے جو رقم لی جائے گی وہ قرض ہے اور اس کی ادائیگی عام قرضوں کی طرح واجب ولازم ہے ۔اور حکمت ومصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے مرد اس بات کی کوشش کرے کہ اس پر یا اس کے اہل وعیال پر بیوی کے میکے والوں کا مال خرچ نہ ہو۔ ورنہ بعد میں خلافِ غیرت حالات ونتائج کا مرد کو سامنا کرنا پڑتاہے ۔
* منفی سونچ، ایک دوسرے پر بھروسہ نہ کرنا، ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ، اور ایسے اعمال کرنا جو شک کا دروازہ کھولتے ہیں، مثلا ً : شوہر سے چھپ کر اپنے عزیز واقارب سے بات کرنا ، شوہر کا بیوی سے چھپ کر کسی سے بات کرنا، بیوی کو بتائے بغیر گھر سے لاپتہ رہنا ، بلاضرورت گھر سے غائب رہنا، شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں ہاتھ لگانا، شوہر کی غیر موجود گی یا لاعلمی میں کسی کو اپنے گھر آنے دینا، یا شوہر کی اجازت وعلم کے بغیر اکیلے گھر کے باہر جانا وغیرہ۔
ازدواجی حقوق شوہر اور بیوی دونوں پر عائد ہوتے ہیں اور دونوں پر ضروری ہے کہ رشتہ کوبہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنے اندر وہ خوبیاں پیدا کریں جو شوہر وبیوی کی حیثیت سے ان میں ہونی چاہئے۔
شوہر کے لئے رہنما اصول 
(۱)  شوہر تحمل مزاجی سے کام لے، کسی فیصلہ میں جلدبازی اور غصہ سے پر ہیز کرے۔
(۲) بیوی کا نفقہ اپنی حیثیت کے مطابق وسعت کے ساتھ ادا کرے ، مہر کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر نہ کرے، اس کی بہتر رہائش اور عمدہ پوشاک کی فکر کرے۔اور اس نے بیوی پرجو کچھ بھی خرچ کیا ہےاس کا تذکرہ احسان جتانے کے طور پر نہ کرے۔
(۲) ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان کے درمیان نفقہ ، رہائش، لباس، اور شب گزاری میں مکمل عدل وانصاف اور برابری کرے۔اور ایک کو دوسرے پر فوقیت وترجیح نہ دے۔
(۳)  بیوی کے اچھے کاموں کی تعریف کرے۔اور اس کی حوصلہ افزائی کرے۔
(۴) گھر میں مسکراتے ہوئے آنے کا اہتمام کرے۔
(۵) بیوی کے کاموں میں دلچسپی لے ، اور گھریلو ذمہ داریوں میں اس کی مدد کرے۔
(۶) بیوی کےذوق وشوق اور مزاج وصحت کا خیال رکھے۔
(۷) بیوی سے محبت وملاطفت کا اظہار کرے۔
(۸) دل لگی اور دل جوئی کی باتیں کرے۔اور اس سے ہر موقع پر اچھے الفاظ میں بات کرے اوراس کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے۔
(۹) اپنی حیثیت کے مطابق بیوی کے عزیز واقارب اور سہیلیوں کا بھی تعاون کرے۔اور اس پر احسان جتانے سے گریز کرے۔
(۱۰) بیوی کے والدین اور عزیز واقارب کی عزت کرے ، ان کے ساتھ محبت والفت کے ساتھ معاملہ کرے۔
(۱۱) گھر میں شریعت کی پابندی کرانے کی کوشش کرے۔اور خود بھی دینی تقاضوں کو پورا کرے ، اور دینی اعمال میں بیوی کی مدد کرے۔ بیوی کی زندگی میں جو برائی ہوحکمت ومصلحت اور نرمی کے ساتھ دور کرنے کی کوشش کرے۔ چہرہ اور اعضاء رئیسہ پر مار نے اورشدید مارپیٹ اورگالی گلوج کی زبان سے مکمل پرہیز کرے۔
(۱۲) بیوی کے عیوب کی پردہ پوشی کرے ، اپنے والدین ،عزیز واقارب اور دوستوں کے سامنے اسے ہرگزذکر نہ کرے۔
(۱۳) دونوں ایک ساتھ غصہ نہ ہوں ، اس لئے اگر کبھی بیوی کا مزاج ناخوش ہو تو شوہر ضبط سے کام لے ، اس وقت غصہ میں نہ آئے۔
(۱۴) آپسی ناراضگی کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔اور لغزشوں سے صرفِ نظر کرے۔
(۱۵) شریعت کے حدود کے خلاف اسے کسی کام پر مجبور نہ کرے، جیسے دیور سے ہنسی مذاق، اس کے ساتھ سفر، بہنوں کی خدمت، بہنوں کے شوہر کے ساتھ بات چیت ، ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ، ان کے ساتھ کھانا کھانا وغیرہ۔اسی طرح غیر اسلامی لباس پہننے پر یا بغیر برقعہ کے گھر کے باہر آنے جانے اور ساتھ چلنے پر مجبور کرنے کی اجازت نہیں ہے ، ہاں تنہائی میں ہر قسم کے لباس باہمی خوشی سے اختیار کرسکتے ہیں۔
(۱۶) ازدواجی ضرورت کی تکمیل میں شرعی دائرہ میں رہے، نیز بیوی کے جذبات وخواہشات کا بھی خیال رکھے۔جنسی ضرورت کی تکمیل میں حیوانی طرز اور مغربی حیاء سوز اعمال سے مکمل پرہیز کرے۔اور بہتر یہ ہے کہ اس سلسلہ میں شرعی حدود کیا ہیں دینی کتابوں سے یا علماء سے ضرور معلوم کرے۔
(۱۷) بیوی اورگھر کی دیگر خواتین کے معاملہ میں ’’دیّوث‘‘ نہ بنے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص ’’دیّوث‘‘ہے جسے اس بات کی کوئی فکر نہ ہو کہ اس کی عورتوں کے پاس کن (غیر محرم ) لوگوں کی آمد ورفت ہے اور ان سے کن(غیرمحرم ) لوگوں کا ملنا جلنا ہے ۔حدیث میں ہے کہ دیوث جنت میں کبھی بھی داخل نہ ہوگا۔(شعب الایمان : ۱۰۳۱۰)
 (۱۸) محنت ومشقت کا عادی بنے اور حلال وسیع روزی کی تلاش کرے اور بیوی بچوں کی جائز ضروریات کو پوری کرنے کی فکر میں رہے۔
(۱۹) گھر کے اندر وقار سے رہے ، اور عفور در گذر سے کام لے ، ساس بہو کے اختلاف اور گھریلو جھگڑے میں بیوی کو ہی قصوار مان کر فیصلہ نہ کرے،بلکہ جہاں تک ہوسکے صلح صفائی کرائے اور ماں باپ اور اپنے اہل وعیال کے سامنے بیوی کی عزت نفس کا خیال رکھے۔گھریلو اختلافات میں انتقام اور بدلے نیز غلطی کی تلاش سے بات مزید بڑھتی ہے ، بہتر یہ ہے کہ جو ہوا اس کو عفوودرگذر کرکے آئندہ کے لئے بہتر ماحول پیداکرنے کی کوشش کی جائے اور فتنہ فساد جس راستہ سے آرہا ہو اس کو دبانے اور بند کرنے پر توجہ دی جائے ۔
(۲۰) بیوی کے ساتھ ہر معاملہ میں یہ پیش نظر رکھے کہ اللہ نے اپنی قدرت سے اسے میرے ساتھ رکھا ہے ، اور مجھے اس کے ساتھ نیک برتاؤ اور نرمی کرنے کی تعلیم اللہ نے دی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس کی وصیت کی ہے ، اگر یہ میرے تابع ہے تو میں بھی اللہ کی گرفت سے آزاد نہیں ہوں۔
بیوی کے لئے رہنما اصول 
(۱)اچھی بیوی کے چار صفات ہیں : (۱) دینی کاموں میں شوہر کی مددگار ہو، (۲) اس کی سیرت اور حسن وصورت شوہر کی خوشی کا باعث ہو،(۳) شوہر کی بات مانتی ہو،(۴) شوہر کے گھر بار مال وجائداد کی حفاظت، اولاد کی تربیت ونگرانی اور اپنی عزت وآبرو کی حفاظت کرنے والی ہو۔۔ اس لئے ہر بیوی کو چاہئے کہ اپنے اندر ان چاروں صفات کو مکمل پیدا کرے۔
(۲) شوہر کا اعتماد حاصل کرے۔کوئی ایسا کام نہ کرے یا شوہر کے ساتھ کوئی ایسا عمل نہ کرے جس سے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہو۔
(۳) اپنے اچھے اخلاق اوراپنی مٹھی زبان سےشوہر کے دل میں اپنی محبت پیداکرنے کی کوشش کرے۔اور اس کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آئے۔
(۳) شوہر کے لئے بناؤ سنگھار اور زیب وزینت کرے اور شوہر کی پسند وناپسند کا بھر پور خیال کررکھے۔نیز شوہر کے گھر آنے سے قبل اپنی زینت و صفائی پر توجہ دے۔شوہر کی ضرورت کو پورا کرنے میں کوئی تردد نہ کرے اور اس میں ٹال مٹول سے بھی پر ہیز کرے۔
 (۴) سنی سنائی باتوں سے پرہیز کرے۔اسی طرح جن باتوں سے شوہر کو تکلیف یا الجھن ہونے کا اندیشہ ہو اور ان سے شوہر کو باخبر کرنا اصلاح کے لئے ضروری بھی نہ ہو تو ان باتوں کو نظرانداز کرکے شوہر کو بتانے سے گریز کرے۔ اور اگر کوئی بات بتانا ضروری ہی ہو تو مزاج اور وقت کا خیال رکھ کر بتائے۔
(۵) گھر کو صاف ستھرا اور بہتر بنانے کی فکرکرے ، اوراولاد کی تربیت میں کوشاں رہے۔
(۶)شوہر کےوالدین ، قرابت داروں اور عزیزوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے ، اور شوہر کے والدین کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھے۔
(۷) شوہر کی مالی حالت کا خیال رکھے ، کبھی اس سے اس کی استطاعت سے زیادہ مطالبہ نہ کرے، اور اس کی آمدنی میں ہی کفایت کے ساتھ تمام ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔دوسروں کی مالی حالت کا ذکر کرکے کبھی بھی اسے طعنہ یا الجھن نہ دے۔
(۸) شوہر کو پریشانی اور الجھن میں دیکھے تو اس کو تسلی دے، اس کی راحت وآرام کا خیال رکھے، اور اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرے۔اگر کسی بات پر شوہر ناراض ہے تو ناراضگی میں ایک رات بھی نہ گزرنے دے۔
(۹) گھر کے کام کاج کو بوجھ نہ سمجھے، بلکہ اس میں ثواب اور اللہ کی رضا تصور کرے، اور گھر یلو ذمہ داریوں اور پکوان کو اپنا کام سمجھ کر انہیں خوشی سے انجام دے ، بازاری کھانوں اور اشیاء سے گھر کو دور رکھنے کی کوشش کرے۔اسی طرح مشکوک کھانوں سے بھی گھر کے لوگوں کو بچائے۔ نیز اگر گھر میں دیگر بھائیوں کی بیویاں یا بہنیں ہوں تو بھی گھریلو کا م کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس میں پہل کرے، اور ہمیشہ یہ بشارت ذہن میں رکھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے کہ گھر کے کام کاج میں عورت کو وہ ثواب اور مقام ملتا ہے جو مجاہد کو میدان جہاد میں جان کا نذرانہ پیش کرکے ملتا ہے ۔(معجم اوسط للطبرانی : ۱۴۲۹)
(۱۰) گھر کے اندر دینی مزاج پیدا کرنے کی کوشش کرے، اور خود بھی دینی تقاضوں کو پورا کرے ، نمازوں کا اہتمام کرے ، غیبت ، چغل خوری ، سیریل دیکھنے وغیرہ سے مکمل دور رہنے کا اہتمام کرے۔
(۱۱) شوہر کی مرضی کے خلاف اپنے میکے جانے یا وہاں زیادہ دن ٹھہرنے سے پرہیز کرے۔نیزشوہر کی مرضی کے خلاف کسی چیز کا مطالبہ اور اس پراصرار نہ کرے۔
(۱۲) اپنے عزیز واقارب پر شوہر کا مال خرچ کرنے سے گریز کرے۔اسی طرح شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو شوہر کا کوئی مال نہ دے ۔اور نہ ہی اپنے کسی عزیز کو مال وزر دینے پرشوہر کو مجبور کرے۔
(۱۳) فضول خرچی سے مکمل اجتناب کرے اورشوہر کے مال کو بچانے کی فکر کرے۔
(۱۴) شوہر کے راز کو فاش نہ کرے ، اسی طرح اپنے گھر کی بات کو اپنے میکے میں نہ بتائے ، نیز میاں بیوی کے درمیان ہونے والی رنجشوں کوجہاں تک ہوسکے آپس میں حل کرکے اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں کو بتانے سے پرہیز کرے۔اسی طرح اپنے مسائل میں اپنے میکے والوں کو دخل اندازی سے بھی روکے، ہاں بعض خاص حالات میں جبکہ معاملہ حل نہ ہورہا ہو تو بدلے اور انتقام کے لئے نہیں بلکہ اصلاح کے لئے اپنے میکے کے سنجیدہ اور مخلص لوگوں کو اپنے درمیان رکھے، اور اس وقت بھی اپنے شوہر اور اس کے گھر کی عزت کی حفاظت کا خیال رکھے۔
(۱۵) بدزبانی اور بدگمانی زہر ہے ، زبان کو قابو میں رکھے ، گالی گلوج ، طعنہ ، اور تیز آواز سے مکمل پرہیز کرے اور غصہ کو قابو میں رکھے۔اور کبھی شوہر غصہ میں ہو تو اس وقت نہ تو غصہ میں آئے اور نہ ہی اس سے زبان لڑائے ، بلکہ خاموشی اختیار کرے۔
(۱۶) شوہر کے والدین کی کوئی بات ناگوار گزر جائے، تو ان سے الجھنے یا شوہر سے ان کی شکایت کرنے کے بجائے ان کی درازی ٔ عمر اور مقام ومرتبہ کا خیال رکھ کر نظر انداز کرے ۔اسی طرح دوسروں کی باتوں پر بھی صبر کرے۔اور کوشش کرے کے کبھی کسی بات پر جھکڑے کا ماحول پیدا نہ ہو۔
(۱۶) اپنے گھر یا عزیز واقارب کا تذکرہ اس انداز سے کرنے سے گریز کرے جس سے یہ محسوس ہوکہ وہ شوہر کے عزیز واقارب کے بالمقابل وہ اپنے گھر والوں کی فوقیت بیان کررہی ہےیا اپنے گھر کو یا گھریلو نظام کو شوہر کے گھر یا اس کے گھریلو نظام سے اچھا جتانا چاہ رہی ہے ۔
(۱۷) شوہر کے گھر کو اپنا گھر، شوہر کے مال کو اپنا مال ، شوہر کی عزت کو اپنی عزت ، شوہر کے قرابت داروں کو اپنے قرابت دارتصور کرے۔
(۱۸) ہر معاملہ میں اللہ سے ڈرے اور دین پر ثابت قدم رہنے اور شوہرو اولاد کو دین پرثابت قدم رکھنے کی کوشش کرے ، شوہر کی زندگی میں جو بے دینی ہو اس کو سختی کے بجائے نرمی اور محبت کے الفاظ میں دور کرنے کی کوشش کرے۔اور اس کے عیوب کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے۔
(۱۹) اپنے اوقات کو تلاوت وذکر اور گھریلو مصروفیت میں گزارنے کی فکر کرے ، ممکنہ حد تک گھر سے باہر بازا ر وغیرہ جانے سے مکمل بچے ۔
یہ وہ اہم اصول وآداب ہیں جنہیں اختیار کرنے سے گھر جنت کدہ بن جائے گا ، زوجین میں بے مثال الفت ومحبت پروان چڑھے گی ، اور اس گھر میں تربیت پانے والی اولاد بھی نیک صفات ہوںگی، ان کے اخلاق اچھے ہوں گے اور ان کی تعلیم وتربیت بھی اچھی ہوگی۔اور اس گھر میں ہر وقت اللہ کی رحمت وبرکت ہوگی۔
Login Required to interact.