مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
====
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی طبیعت بہت ناساز ہو گئی تو ہم نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کی نماز جنازہ کون پڑھائیں گے؟ یہ سن کر آپ رونے لگے اور ہم بھی رونے لگے، پھر آپ نے فرمایا: رکو ، اللہ تمہاری مغفرت کرے اور تمہیں نبی کی طرف سے خیر عطا کرے، جب تم لوگ میرے غسل اور تجہیز وتکفین سے فارغ ہوجانا تو مجھے میری قبر کے کنارے رکھ دینا، پھر تھوڑی دیر کے لئے تم لوگ میرے پاس سے ہٹ جانا؛ کیونکہ میری نماز جنازہ سب سے پہلے میرے دوست اور ہم نشین جبریل اور میکائیل پڑھیں گے ، پھر اسرافیل اور پھر فرشتوں کی جماعت کے ساتھ ملک الموت پڑھیں گے، اس کے بعد میرے اہل بیت کے مرد اور پھر اہل بیت کی عورتیں، پھر تم لوگ جماعت واراور تنہا تنہا میرے پاس آنا (اور نماز جنازہ ادا کرنا) اور مجھے روکر یا چیخ وپکار کرکے تکلیف مت پہونچانا، اور میرے جو صحابہ ابھی یہاں نہیں ہیں انہیں میرا سلام کہنا، اور میں تمہیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے آج کے بعد سے قیامت تک آنے والے ہر اس شخص کو سلام کہا ہے جو اسلام میں داخل ہوکر میری پیروی کرے گا۔ (مستدرک حاکم حدیث نمبر: ۴۳۷۲ ، المعجم الاوسط للطبرانی : ۳۹۹۶ ، مسند البزار : ۲۰۲۸ ، حلية الاولیاء : ۴؍۱۶۸ ، دلائل النبوۃ : ۷؍۲۳۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سلام ہم تک عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر روایان حدیث کے توسط سے پہونچ گیا ، تو ہمیں چاہئے کہ اب ہم اس کا جواب دیں اور کہیں:
عَلَیٰ نَبِیِّنَا وَعَلَیٰ مَنْ بَلَّغَنَا سَلاَمَهُ ’’ اَلسَّلامُ وَرَحْمَةُ الله وَبَركَاتُهُ‘‘
Login Required to interact.

