تفسیر حقانی – ایک تعارف

کتابیات
محمد عارف باللہ القاسمی
 === 
تفسیر حقانی اردو زبان میں لکھی گئی تفسیروں میں سے ایک اہم تفسیر ہے ، اس کتاب کا اصل نام فتح المنان فی تفسیر القرآن ہے ، اور اس کے مصنف چودہویں صدی کے جیدعالم ومحقق مولانا عبد الحق حقانیؒ ہیں، اور ان ہی کی طرف منسوب ہوکر ان کی یہ تفسیر ’’تفسیر حقانی‘‘ کے نام سے معروف ومشہور ہے ۔
مولانا عبد الحق حقانی
اس تفسیر کے مصنف مولانا عبد الحق حقانی بن محمد میر حنفیؒ ۲۷ ؍رجب  ۱۲۶۷؁ھ میں صوبہ پنجاب کے شہرانبالہ کے قریب ’’کمتھلہ‘‘نامی گاؤں میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد کانپور منتقل ہوئے اور وہاں پر انہوں نے مولانا عبد الحق بن غلام رسول حسینی کانپوری اور مولانا لطف اللہ بن اسد اللہ کوئلی سے بعض درسی کتابوں کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد مراد آباد جاکر وہاں کے اساتدہ علم دین  بالخصوص مولانا عالم علی سے صحاح کی بعض کتابیں پڑھی، مراد آباد کے بعد دہلی کا رخت سفر باندھااور پھر وہاں اپنی علمی تشنگی بچھانے کے لئے وہاں کے مجالس علم میں شرکت کی ، بالخصوص محدث سید نذیر حسین دہلوی سے بھر پور استفادہ کیا ، اور اس طرح تعلیمی سفر کی تکمیل کرکے مدرسہ فتحپوری دہلی سے بحیثیت مدرس وابستہ ہوگئے اوروہاں طویل عرصہ تک اپنے فیوض وبرکات سے امت کو مستفیض کرتے رہے ۔
علم وعلماء کی خدمت اور ان کی مالی اعانت حیدرآباد کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے ، مولانا عبد الحق حقانی کو نظام الملک آصف جاہ میر محبوب علی خاں بہادر کے عہد اقتدار میںحیدرآباد سے وظیفہ جاری کیا گیا ،وظیفہ جاری ہونے کا فائدہ یہ ہوا کے مولانا عبد الحق حقانی کویکسوئی کے ساتھ تصنیف وتالیف میں مصروف ہونے کا موقع مل گیااور پھر آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کی،آپ کی تصانیف یہ ہیں: (۱)  التعلیق النامی علی الحسامی (۲) عقائد اسلام (اردو)  (۳)البرہان فی علوم القرآن (اردو)  (۴) فتح المنان فی تفسیر القرآن  وغیرہ ۔
آپ بڑے ہی خوش مزاج اورشیریںدہن تھے ، ساتھ ہی غلط نظریات کے حامل افراد سے بحث ومباحثہ میں مدلل اور مسکت جواب دینے میں مہارت رکھتے تھے ، آپ کے علمی مقام ومرتبہ کی وجہ سے پورے غیرمنقسم ہندمیں آپ کی شہرت پھیل گئی اور پھرحکومت برطانیہ کی جانب سے شمس العلماء کے لقب سے ملقب کئے گئے ۔ آ پ سے علمی فیوض کا سلسلہ جاری تھا کہ بالاخر  ۱۲ ؍ جمادی الاولی۱۳۳۵؁ھ کو آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔( نزہۃ الخواطر : ۸؍۱۹۶)
تفسیر حقانی 
کسی بھی مصنف کی تحریر میں اس کا علمی کمال اور علوم فنوںمیں اس کی مہارت نمایاں ہوجاتی ہے ، آپ کی یہ تفسیر آپ کے علمی کمال کی ایک شاہکار تصنیف ہے ، یہ اردو زبان میں ہے اور پانچ جلدوں پر مشتمل ہے ،جسے اعتقاد پبلشنگ ہاؤس نے شائع کیا ہے ،اس تفسیر کے شروع میں مصنف نے تقریبا (۲۱۲) صفحات پر مشتمل تفصیلی مقدمہ تحریر کیا ہے جس کو تین باب اور ایک خاتمہ پر تقسیم کیا ہے ، اور ہر باب کئی فصلوں پر مشتمل ہے ، اس میں مصنف نے وجود باری ، توحید ، نبوت کی ضرورت، وحی اورالہام کی حقیقت وضرورت، معجزات کی حقیقت وضرورت ، کرامت ، معاونت ،ارہاص ، استدراج وغیرہ کی تحقیق ،عالم ملکوت، عالم جن کے وجود کے دلائل اور اس کی تفصیل،ملائکہ وجن وشیاطین کی حقیقت نیز عالم ملکوت اور عالم جن کے سلسلہ میں فلاسفہ ، پادریوںاور بالخصوص سر سید کے غلط نظریات کی تردید کو مفصل ومدلل تحریر کیا ہے۔ اور اسی ضمن میں الوہیت مسیح ، تثلیث اور یہود ونصاری کے دیگرباطل عقائد پر بھی کاری ضرب لگائی ہے، مقدمہ میںنزول قرآن اور جمع قرآن کو تفصیل سے ذکر کیا ہے ، باب دوم کے فصل پنچم میں قرآن کے علوم خمسہ : علم المخاصمہ ، علم التذکیر بآلاء اللہ ، علم التذکیر بأیام اللہ ، علم التذکیر بالموت وبما بعدہ ، علم الاحکام اور علم الاحکام اقسام کو ایسی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ اس کے ضمن میںمتعدد اصولی اور علمی مباحث آگئے ہیں اور کئی باطل نظریات کی تردید ہوگئی ہے ، فصل ششم میں تفسیر کی حقیقت کو مفصل لکھا ہے ،اور فصل ہفتم میں ان امور کو بیان کیا ہے جن کا علم ایک مفسر کے لئے ضروری ہے اور جن کے بغیر تفسیر میں غلطی ہوتی ہے ،درحقیقت یہ تینوںفصل اصول تفسیر اور علوم القرآن کا لب لباب ہیں ، باب سوم میں کتب سابقہ کی تحقیق و تفصیل ،اور ان کے حوالے سے شکوک وشبہات کے مدلل جوابات مذکور ہیں۔اور خاتمہ میں معتبر تفاسیر کا تعارف اختصار کے ساتھ لکھا ہے اور کسی تفسیر کے معتبر ہونے کا قاعدہ کلیہ ذکر کیا ہے ۔علامہ حقانی لکھتے ہیں:
’’فن تفسیر دو جزء سے مرکب ہے ، ایک جزء منقولات ، دوسرا جزء معقولات، اب جس کے دونوں اجزاء اچھے ہوں گے وہ تفسیر بھی اچھی ہوگی، ورنہ نہیں ، منقولات ،شان نزول وغیرہ وہ امور جو نقل سے متعلق ہیں ، اگر وہ آنحضرت علیہ السلام اور صحابہ کرام ؓ بالخصوص ان دس صحابہ سے جوکہ اس فن میں امام تھے ، اور پھر ان تابعین وغیرہم سے جو اس فن کے ماہر تھے، منقول ہے تو قابل اعتبار ہے ،بشرطیکہ نقل بھی بقاعدہ اہل حدیث(محدثین) معتبر ہو، ورنہ وہ رطب ویابس منقولات جو بعض تفاسیر میں علماء ِاہل کتاب وغیرہم سے منقول ہیں، اعتماد کے قابل نہیں، اور معقولات یعنی نکات قرآنیہ اور فصاحت وبلاغت وزبان دانی کے متعلق باتیں وغیر ذلک اس فن کے علماء محققین اور کملاء مدققین کی طرف مستند اور ان کی طرف منظور نظر ہوںتو خیر ہے ورنہ بے تک باتیں قابل التفات نہیں ‘‘(تفسیر حقانی : مقدمہ : ۲۰۸)
 تفسیرحقانی کی تصنیف میں بہت سے اہم پہلؤوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے ، اس میں روایت کو کتب حدیث سے نقل کیا گیا ہے اور درایت کو اس فن کے محقق علماء سے نقل کیا گیا ہے ، اور تمام منقولات کو احتیاط کے ساتھ درج کیا ہے ، شان نزول اور احادیث کے نقل کرنے میں صحیح روایات کے لینے کا اہتمام کیا ہے،نیز روایات حدیث کو سند کے ساتھ ذکر کرنے کا التزام کیا ہے ،تاکہ اس سے اس کی استنادی قوت وصحت واضح ہوجائے ،آیات احکام کی تفسیر میں سب سے پہلے مسئلہ منصوصہ کو ذکر کرکے ائمہ مجتہدین کے اقوال کو مدلل تحریرکیا ہے،آیات قرآنی کی نحوی ترکیب اور صرفی تحقیق بھی اس کتاب کی خصوصیت ہے ، اس میں مصنف نے ہر آیت کے تحت ترکیب کا مستقل عنوان قائم کیا ہے ، اورایک ہی قرأت کے موافق وجہ اعراب کو بیان کیا ہے نیز ترکیب میںاعراب کے مختلف وجوہ میں سے جووجہ مصنف کی نگاہ میں قوی تھی اس کو ذکر کیا ہے ، علم معانی اور علم بلاغت کی روشنی میں قرآنی نکات کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے ، قصص القرآن میں سے جو قصص روایات صحیحہ سے ثابت ہیں یا جن کو خود قرآن نے بیان کیا ہے ان کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ،آیات میں ربط پر خصوصی توجہ دی ہے ، تکرار ، رطب ویابس اور کسی خاص مذہب کی تائید میں غلو سے مکمل اجتناب کیا ہے ، اور مذاہب کا تقابلی مطالعہ پیش کرکے قرآن کریم کی حقانیت کو واضح کیا ہے ، اور ایسا لگتا ہے کہ تفسیر میں مذاہب باطلہ بالخصوص یہودیت ونصرانیت سے اسلام کا تقابلی مطالعہ مقصود مصنف ہے ،اورکتاب کے طرز تحریر سے معلوم ہوتا ہے کے باطل نظریات بالخصوص یہود ونصاری کے عقائدپر اعتراض اور ان کی تردید اور اسلام کے حوالے سے ان کے شکوک وشبہات کا ازالہ ، اسی طرح سرسید احمد خان کی فکری لغزشوں پر تنبیہ اس تفسیر کا خاص موضوع ہے ۔بلکہ مقدمہ اور تفسیر میںجگہ جگہ سرسید پر تنقید کرنے ساتھ ساتھ مقدمہ میں سرسید کی تفسیر القرآن کاتعارف کراتے ہوئے صاف صاف لکھدیا ہے :
’’آنریبل سید احمد خان بہادر دہلوی کی تصنیف ہنوز ناتمام ہے ، اس شخص نے ترجمہ شاہ عبد القادر کو ذرا بدل کر ترجمہ کیا ہے ، اور باقی اپنے ان خیالات باطلہ کو (جوکہ ملحدیورپ سے حاصل کئے ہیں اور جن کا اتباع ان کے نزدیک ترقی  ٔقومی اور فلاح اسلام ہے )درج کیا ہے ، اور بے مناسبت آیات واحادیث واقوال علماء کو اپنی تائید میں لاکر الہام الہی کو تحریف کیا ہے ، دراصل یہ کتاب تحریف قرآن ہے نہ کہ تفسیر‘‘
تفسیر کا انداز بڑا دلچسپ ہے ، اور آیت سے متعلق ہر موضوع کا مفصل بیان اس تفسیر کی اہمیت کو دوبالا کردیتا ہے ،اور اس میں بیان کردہ نکات تو واقعی قیمتی اور انمول موتی ہیں، اور اس طرح یہ کتاب سلف کی عمدہ تفاسیر کا لب لباب ہے ۔ 
Login Required to interact.