سوال:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۔ چند عرصے جدائی کے بعد ایک بیٹی اپنے باپ سے ملتے وقت اظہار انسیت وبزرگی کے آداب ادا کرتے ہوئے، کس طرح کا طرز اختیار کرے؟ کیا بیٹی اپنے باپ سے گلے میں دونوں ہاتھ کا حلقہ بناکر ڈال دے اور اس طرح چمٹ جائے کہ دونوں کے بدن کے سامنے مکمل اوپر سے نیچے تک کے حصے اور اعضاء مس ہوجائیں؟
۲۔ خاندانوں کے افراد کے درمیان عید ،برأت ، طویل سفر، عرصہ طویل کے بعد ملاقات یا کسی خوشی اور کامیابی یا تقریب کے موقع پر کیا باپ بھائی ماموں چچا وغیرہ ( محرم رشتہ دار) کسی لڑکی کو انتہائی جذبہ محبت کے تحت اپنی گود یا گھٹنوں وغیرہ پر بٹھا سکتے ہیں؟
جواب:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق۔ ملاقات کے وقت ماں بہن بیٹی اور محرم عورتوں سے مصافحہ اور معانقہ جائز ہے ، بشرطیکہ کے تحریک شہوت اور کسی فتنہ کا کوئی اندیشہ نہ ہو، لیکن اگر معانقہ ومصافحہ سے شہوت کی تحریک کا اندیشہ ہو، تو ناجائز ہے،(الموسوعۃ الفقہیۃ:مصافحہ) موجودہ زمانہ میں جب کہ فتنہ کی کثرت ہے اور دیانت وتقوی کی کمی بھی ہے، معانقہ سے پرہیز کرنا بہتر ہے ، تاکہ کسی شہوت کا اندیشہ نہ رہے۔ اسی طرح ملاقات وخوشی کے وقت بیٹی وغیرہ کو جب کہ وہ اشتہاء کی عمر میں ہواپنے بدن سے اس طرح لگانے جس سے سارے اعضاء مس ہوجائیں یا گود میں یا ران وغیرہ پر بٹھانے سے پرہیز کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس عمل سے شہوت کے پیدا ہونے کا امکان ہوجاتا ہے ، ہاں اگر کم عمر ہو اور شہوت کا کوئی اندیشہ ہی نہ ہوتو جائز ہے ۔رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور جب وہ تشریف لاتیں تو رسو ل اللہ ﷺ کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے اور ہاتھ پکڑ کر ان کو بوسہ دیتے ہوئے اپنے پاس(دائیں یا بائیں جانب) بٹھاتے (مستدرک حاکم: ۴۷۳۲) لیکن فرط محبت کے باوجود گود میں بٹھانے کا ثبوت نہیں ملتا، اسی طرح صحابہ کرام جو کہ تقوی کے اعلی معیار پر فائز تھے خود اپنی محرم عورتوں اور بیٹوں کے سلسلے میں احتیاط کرتے تھے، جب کہ ان زمانہ فتنوں سے بہت پاک اور ہمارے زمانہ سے بہت بہتر تھا ۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ صرف مصافحہ پر اکتفاء کیا جائے ، یا زیادہ سے زیادہ پیشانی یا سر وغیرہ پر بوسہ کے ذریعہ اظہار محبت کیا جائے بشرطیکہ اس سےجانبین میں شہوت کا معمولی اندیشہ بھی نہ ہو۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
حررہ
محمد عارف باللہ القاسمی
Login Required to interact.

