بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان کرام مذکورہ حالات سے متعلق؟
خدمت اقدس میں عرض یہ ہے کہ ایک شوہر نے اپنی بیوی کو ایک شام یوں مشروط طلاق دی کہ اگر تو میری اجازت کے بغیر اپنے والدین سے بات چیت یا اپنے گھر(میکہ) جائے گی تو تجھے ایک طلاق ہوجائے گی، مشروط طلاق سے متعلق ابھی بیوی کے والدین کو اطلاع نہیں تھی کہ اچانک بیوی کے والد صاحب ٹھیک دوسرے دن صبح کسی کام سے بیٹی کے سسرال آئے، اور اپنی بیٹی سے کچھ اس طرح مخاطب ہوگئے، جو باپ اور بیٹی کے الفاظ نیچے مذکور ہیں:
والد بیٹی سے : یہاں کیوں آتے ہو یہ علاقہ اب نہیں آنا۔
بیٹی باپ سے: آپ یہاں کیوں آگئے؟ کیا آپ کو نہیں معلوم یہاں کیا ہوا؟
باپ بیٹی سے : نہیں معلوم۔
بیٹی باپ سے : فلاں کے گھر نہیں گئے کیا ؟ باپ نے کہا : نہیں۔ تو بیٹی نے والد سے کہا : فلاں کے گھر جاکر معلوم کرو کیا ہوا؟
اب سوال یہ ہے کہ دونوں کی یہ بات چیت بات کرنے کے زمرے میں ہے یا نہیں ؟ اور کیا اس گفتگو سے ایک طلاق واقع ہوگئی؟واضح رہے کہ شوہر کی طرف سے یہ دوسری مرتبہ طلاق کا واقعہ پیش آیا ہے ، کیونکہ شوہر نے چند سال پہلے بھی ایک طلاق دیا تھا، جس سے رجعت اختیار کرلی گئی تھی، اب جبکہ دوسری مرتبہ طلاق کا واقعہ پیش آیا کیا ایسی صورت نکاح جدید کی ضرورت ہے یا پھر رجعت کے لئے زوجین کے تعلقات کافی ہیں۔ مفتی صاحب سے مخلصانہ گزارش کررہا ہوں کہ مندرجہ بالا حالات سے متعلق مدلل ومفصل جوابات سے نوازیں تو مہربانی ہوگی۔

بات چیت پر مشروط طلاق
سوال
جواب:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق۔ صورت مسئولہ میں والد اور بیٹی کے درمیان ہونے والی گفتگو بات کرنے کے زمرے میں ہے ،کیونکہ بیٹی نے والد سے مخاطب ہوکر بات کیا اور ان کی باتوں کا جواب بھی دیا،اس لئے والدین سے بات کرنے پر جو ایک طلاق مشروط تھی وہ واقع ہوگئی، اور یہ طلاق’’ طلاق رجعی ‘‘ہوگی ، جس میں شوہر عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے ۔ علامہ سرخسی لکھتے ہیں: وقال الله تعالى {اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ} [البقرة: 229] والمراد بالإمساك المراجعة بعد التطليقتين ما دامت في العدة ۔ (مبسوط سرخسی : ۶؍۱۳) اور اگر دوران عدت رجوع نہ کرسکے تو عدت کے بعدباہمی رضامندی سے تجدید نکاح کے ذریعہ دونوں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوسکتے ہیں۔ وله أن يتزوج مبانته بما دون الثلاث) في الحرة وبما دون الثنتين في الأمة(في العدة وبعدها) (مجمع الانہر: ۱؍۴۳۸) ۔ دوران عدت رجعت کے لئے گرچہ کہ بہتر ہے کہ کسی کو گواہ بناتے ہوئے رجوع کیا جائے اور زبان سے رجوع کرنے کے الفاظ کہے جائیں لیکن حرمت مصاہر ت ثابت کرنے والے اعمال جیسے جنسی تعلقات اور بوس وکنار وغیرہ سے بھی رجعت ہوجاتی ہے ۔أو بفعل ما يوجب حرمة المصاهرة (مجمع الانہر: ۱؍۴۳۳)واللہ اعلم
حررہ
محمد عارف باللہ القاسمی
Login Required to interact.
