مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
عن سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ: لن یھلک امرؤ بعد مشورۃ (مصنف ابن ابی شیبہ:۶؍۲۰۷)
’’حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی انسان مشورہ کے بعد ہلاک نہیں ہوتا‘‘
اس روایت میں مشورہ کی اہمیت کو رسول اللہ ﷺنے واضح کیا ہے ،چونکہ انسان کی فطرت میں غلطی کا عنصر شامل ہے اور انسانی عقل ناقص اورمتفاوت ہے ،اور اللہ تعالی نے انسانوں میں فکر ومزاج کے اختلاف کے ساتھ عقل وفہم کی قوت وضعف کا بھی فرق رکھا ہے ، یہی وجہ ہے کہ بہت سی مرتبہ کسی مسئلہ کے مفید یا نقصان دن پہلو کوایک انسان سمجھ جاتا ہے جب کہ دوسرا انسان اپنی عقل وفکر کو تھکانے کے باوجود اس نتیجہ تک نہیں پہونچ پاتا ، اور انسانی معاملا ت میں کامیابی وناکامی، اچھائی وبرائی اور مفید ومضر دونوں قسم کے متضاد پہلووںکا اندیشہ رہتا ہے اور بعض دفعہ تھوڑی سی بداندیشی انسان کے لئے اتنی مضر ثابت ہوتی ہے کہ انسان اس کی تکلیف برداشت نہیں کرپاتا ،اس لئے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی کے انسان اپنی عقل وفہم کو ہی کامل نہ سمجھے، بلکہ اپنے معاملات میں دوسروں سے بھی مشورہ کرلے ، ہوسکتا ہے کہ جو بات اس کے ذہن میں نہ آسکی ہو ،اللہ تعالی اس انسان کے ذہن میں وہ بات ڈال دیں، جس سے اس نے مشورہ کیا ہے ، رسو ل اللہ ﷺ سے بڑا دانا اور عقل مند کون ہوسکتا ہے؟! بلکہ آپ کی عقل وخرد پر سارے عقلاء کی عقل مندی قربان ہے ،اس کے باوجود اللہ تعالی نے اپنے حبیب کو مشورہ کا حکم دیا، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
وَشَاوِہُمْ فِیْ الْاَمْرِ (آل عمران:۱۵۹)
’’لوگوں سے مسائل میں مشورہ کر لیا کیجئے‘‘
مشہور مفسر حضرت ضحاک ؒفرماتے ہیں:
اللہ تعالی نے اپنے نبی کو مشورہ کا حکم اس لئے دیا کیونکہ اس میں بہت سے فضل پوشیدہ ہیں (مصنف ابن ابی شیبہ:۶؍۲۰۷)
اللہ تعالی کے اسی حکم کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ تمام معاملات ومسائل میں صحابہ کرام سے مشورہ کرتے تھے ،اور مشورہ میں جو بات طے پاتی اس پر عمل بھی کرتے تھے، چاہے وہ بات آپ کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہوتی،مثلا غزوۂ احد کے موقع پر آپ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے ،کیونکہ آپ ﷺنے اس سے قبل کی رات میں ایک خواب دیکھا تھا جس کی یہ تعبیر تھی کہ اس جنگ کے لئے مدینہ محفوط ترین مقام ہے ، جبکہ بہت سے صحابہ کرام کی اور بالخصوص ان صحابہ کی جو غزوۂ بد ر میں شریک نہ ہوسکے تھے ، رائے یہ تھی کہ مدینہ سے باہر نکل کردشمنوں کا مقابلہ کیا جائے،چناں چہ رسول اللہ ﷺ نے اس اہم موقع پر صحابہ کرام کی رائے پر عمل کیا اور آپ نے مدینہ سے باہر نکل کرمقام احد میں دشمنوں سے یہ جنگ لڑی ۔(غزوات الرسول وسرایاہ لابن سعد:۱؍۱۷، سنن کبری للبیقی:۴؍۳۷۹)
اسی طرح جب آپ ﷺنے مسجد نبوی میں منبر بنوانا چاہا تو صحابہ کرام سے مشورہ کیا اور اس مشورہ کے بعد آپ نے منبر بنوایا (مصنف عبدالرزاق:۳؍۱۸۶)
اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا کہ آپ ﷺ تمام معاملات میں صحابہ کرام سے مشورہ کرتے تھے ،رسو ل اللہ ﷺ کامل عقل رکھنے کے باوجود اس لئے مشورہ کرتے اور اپنی رائے پر اصرار کرنے کے بجائے مشورہ کے مطابق عمل کرتے تاکہ حکم الہی کی تعمیل کے ساتھ ساتھ امت کو مشورہ کی اہمیت معلوم ہوجائے ،بالخصوص ارباب حل وعقد اور امراء وسلاطین کو یہ تعلیم مل جائے کہ وہ بھی اپنی عقل پر نازاں نہ ہوں بلکہ مشورہ کو اپنا اصول بنائیں ا ور اپنی رائے کو ہی درست اور صحیح تصور کرنے کے بجائے مشورہ قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کو ہی اپنے حق میں بہتر اور مفید سمجھیں ، اور اس طرح بے شمار مسائل میں اجتماعی غور وفکر کی وجہ سے ناکامی اور پشیمانی سے بچ سکیں، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
امرہ بمشاورتھم لیستن بھا المسلمون ویتبعه فیھا المومنون وان کان عن مشورتھم غنیا (المدخل لابن الحاج:۴؍۲۸)
’’اللہ نے نبی ﷺ کو صحابہ سے مشورہ کرنے کا حکم اس لئے دیا تاکہ مسلمان اس طریقہ کو اختیار کریں اور مومنین اس میں آپ کی پیروی کریں اگرچیکہ آپ صحابہ کے مشورہ سے بے نیاز تھے‘‘
چناں چہ رسو ل اللہ ﷺ کی اسی تعلیم کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعد کے خلفاء نے بھی اس کو اپنا اصول بنایا اور ہر مسئلہ مشورہ کے ذریعہ حل کیا، چاہے وہ مسئلہ خالص دینی اورشرعی ہو یا سیاسی۔
لیکن موجودہ دور میں خاص طورپر مشورہ کی اہمیت کو فراموش کردیا گیا ہے اور ذاتی رائے کو عام لوگوں پر مسلط کرنے کا مزاج پیدا ہوگیا ہے، جس سے بہت سی مرتبہ بے شمار بدنظمیاں اور بدعنوانیاں پیدا ہوتی ہیں۔خصوصا شخصی اداروں، تنظیموںاورکمپنیوںمیں اس کی اہمیت کو اور بھی نظر انداز کردیا گیا ہے اور ماتحتوں اور شریک عمل لوگوں سے مشورہ اور ان کی رائے کو قبول کرنے کا مزاج مفقود ہوگیا ہے، بلکہ مشورہ دینا جرم بن گیا ہے اور مشورہ لینے میں شرم محسوس کیا جانے لگا ہے حالانکہ مشورہ لینے میں ہی شرمندگی سے نجات ہے ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
ماخاب من استخار ولا ندم من استشار ولا عال من اقتصد (المعجم الاوسط للطبرانی:۶۸۱۶)
’’جس نے استخارہ کیا وہ ناکام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوا، اور جس نے خرچ میں میانہ روی اختیار کی وہ فقیرومحتاج نہیں بنا‘‘
اسی طرح نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے:
المشورۃ حصن من الندامة وأمن من الملامة (ادب الدنیا والدین:۱؍۲۷۷)
’’مشورہ شرمندگی سے بچاؤ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے ‘‘
یعنی ایک انسان اگر کوئی کام مشورہ کے بعد کرتا ہے اس میں ناکامی نہیں ملتی اوراگر کبھی اس میں تقدیر کے فیصلہ کے تحت ناکامی ہاتھ آتی بھی ہے تو لوگوں کے سامنے شرمندگی کا سامنا اس لئے نہیں کرنا پڑتا کیونکہ اس میں صرف اس کی عقل وفکر شامل نہیں رہتی بلکہ تمام لوگوں کی عقل شامل رہتی ہے تو ناکامی کی صور ت ہر ایک کی نگاہ تقدیر پر جاتی ہے نہ کہ شرمندہ کرنے پراور ہر ایک کو اپنے فیصلہ کی غلطی کا احساس ہوتا ہے ۔
مشورہ کی اسی جامع افادیت کے پیش نظرحضرت عمر بن عبد العزیزرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’بے شک مشورہ اور مناظرہ دونوں کے دونوں رحمت کے دو دروازے اور برکت کی دو کنجی ہیں،ان کے ساتھ کوئی رائے غلط نہیں ہوتی اور کوئی شخص ان دونوں کے ساتھ یقین سے محروم نہیں ہوتا‘‘(المدخل:۴؍۲۸)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
الاستشارۃ عین الھدایة وقد خاطر من استغنی برایه (حوالہ سابق)
’’مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنے رائے سے ہی خوش ہوگیا وہ خطرات سے دوچار ہوا‘‘
اسی طرح بعض ماہرین اور عقل مندوں کا یہ قول ہے:
عقل والے پر یہ لازم ہے کہ وہ دیگر عقل مندوں کی رایوں کو اپنی رائے سے ملا لے اور اپنی عقل کے ساتھ حکماء کی عقل کو جمع کرلے ،کیونکہ بہت سی مرتبہ تنہا رائے پھسل جاتی ہے اور اکیلی عقل گمراہ ہوجاتی ہے ۔(ادب الدنیا والدین:۱؍۳۷۸)
یہ ہے مشورہ کی اہمیت ،اس لئے معاملات ومسائل کے حل کرنے میں مشورہ ضرور کرنا چاہئے، تاکہ اجتماعی غور وفکر سے صحیح حل کی رہنمائی ہوسکے ۔ نیز مشورہ میں اس پہلو کو بھی ذہن نشیں رکھنا چاہئے کہ مشورہ کسی عقل مندسے ہی کیا جائے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
استشیروا ذوی العقول ترشدوا ولا تعصوھم فتندموا (مسند شہاب:۶۷۳)
’’عقل مندوں سے مشورہ کرو کامیابی پالوگے اور ان کی مخالفت نہ کرو ورنہ شرمندگی پاؤگے‘‘
نیز مشورہ کے لئے عقل مندوں میں سے تجربہ کار کا انتخاب کرنا چاہئے اور اس کی رائے کو ترجیح دینی چاہئے کیونکہ تجربہ کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی۔
علامہ ابن امیر الحاجؒ نے لکھا ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے اس میں پانچ خوبیاں ہوں: (۱) وہ عقل مند اور تجربہ کار ہو (۲)دین دار اور متقی ہو (۳)خیرخواہ اور محبت کرنے والا ہو (۴)فکر ونظر کے اعتبار سے سنجیدہ اور صالح ہو (۵)اس معاملہ سے اس شخص کاجس سے مشورہ لیا جارہا ہے کوئی مفاد وابستہ نہ ہو۔
یقینا یہ بنیادی باتیں مشورہ سے قبل ضرور دیکھنی چاہئے کیونکہ ہر کس وناکس اورناتجربہ کار یا بددین یا غیر خیر خواہ وغیرہ سے مشورہ بہت ہی نقصان دہ ہوتا ہے ،عبد اللہ بن الحسن فرماتے ہیں:
جاہل کے مشورہ سے بچواگرچیکہ وہ خیرخواہ ہو جیسا کہ عقل مند کی دشمنی سے بچتے ہو کیونکہ ممکن ہے کہ اس کا مشورہ تجھے ہلاکت میں ڈال دے (المدخل:۴؍۲۹)
اسی طرح اس شخص کا مشورہ بھی غلط ہوتا ہے جس کا کوئی مفاد اس چیز سے وابستہ ہو، مثلا :کسی دکاندار سے کسی چیز کے خریدتے وقت اس چیز کے بارے میں مشورہ کیا جائے تو اس کی تعریف میں تو وہ بہت کچھ بیان کردیتا ہے، مگر اس کے نقصان دہ اور کمزور پہلؤوں کو بیان نہیں کرتا ، کیونکہ اس کے فروخت ہونے سے اس کا مفاد وابستہ ہے ۔
نیز جس سے مشورہ کیا جائے اس کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے اپنے بھائی کا حق سمجھتے ہوئے صحیح مشورہ دے ، رسو ل اللہ ﷺ نے جان بوجھ کر کسی کے معاملہ کو بگاڑنے کے لئے یا کسی کا نقصان کرانے کے لئے غلط مشوردینے کوخیانت بتایا ہے، آپ کا ارشاد ہے:
من استشار اخاہ فاشار علیه بامر وھو یری الرشد غیر ذلک فقد خانه (مسند احمد:۸۴۲۱)
’’جس نے اپنے بھائی سے مشورہ کیا اور اس نے اسے کوئی ایسا مشورہ دیا جس کے علاوہ میں وہ کامیابی سمجھتا ہوتو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی‘‘
اس لئے جو بات بہتر معلوم ہوتی ہو اسی کی رہنمائی کرنی چاہئے تاکہ خیانت کا گناہ نہ ہو۔اور معاملات میں مشورہ کرنا چاہئے تاکہ اس سنت نبوی پر عمل ہونے کے ساتھ ساتھ کامیابی نصیب ہو اور شرمندگی کا سامنا نہ ہو۔
٭٭٭
Login Required to interact.

