مزین اور بے پردہ برقعے

دینی ،علمی واصلاحی مضامین

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

====
اسلام نے عورتوں پر یہ لازم کیا ہے کہ وہ جب گھر سے نکلیں یا جب کبھی غیر محرم مردوں سے ان کا سامنا ہو تو اپنی زینت اوراعضاء زینت کو چھپانے کی لئے پردہ کا اہتمام کریں اور ایسا لباس پہن لیں جن سے ان کے اعضاء اور ان کی زینت ظاہر نہ ہو۔اسی مقصد کے لئے عورتوں کے لباس میں حجاب اور برقع کو شامل کیا گیا، تاکہ ان کے استعمال سے ان کے پورے وجود کو پردہ حاصل ہوجائے اور ان کی عفت تک شیطانی نظر نہ پہونچے۔
قرآن کریم اور احادیث میں پردہ کے حوالے سے ایسی جامع تعلیمات موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پردہ اور حجاب کوئی اختیاری عمل یا کوئی تہذہبی ورثہ نہیں ،بلکہ اللہ کا حکم ہے اور اسے اختیار کرناعورتوں پر فرض ہے۔اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
 وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ( النور: ۳۱)
’’ اے نبی ﷺ ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خودسے ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ‘‘
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى (احزاب: ۳۳)
’’اور ٹک کر رہا کرو تم اپنے گھروں میں اورزمانہ جاہلیت کی طرح اپنا بناؤ سنگار (اور اپنی سج دھج)نہ دکھاتی پھرو‘‘
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
وما من امرأة تنزع خمارها في غير بيت زوجها إلا كشفت الستر فيما بينها وبين ربها(المعجم الاوسط: ۳۲۸۶)
’’جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنا دوپٹہ ہٹایا (اور وہ غیر محرم مردوں کے سامنے بے پردہ آئی ) تو اس نے اس پردہ کو چاک کردیا تو اس کے اور رب کے مابین ہے ‘‘
نیز رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان (ترمذی:۱۱۷۳)
’’عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے غور سے دیکھتا ہے‘‘
ان قرآنی آیات اور احادیث سے عورتوں پر پردہ کو اختیار کرنا لازم ہے ، اور سب سے اعلی پردہ تو یہ ہے کہ وہ گھر کی چہار دیواری کے حدود میں رہیں، بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں تاکہ کسی غیر محرم سے سامنا ہی نہ ہواور شیطان کی نظر اور اس کے مہلک اثرات سے محفوظ رہیں، لیکن افسوس کہ آج بازروں میں مختلف بہانوں سے عورتوں کی کثرت نے مردوں کے لئے راستوں کو تنگ کردیا ہے بلکہ بازاروں کے کام عورتوں نے اپنے ذمہ لے لیا ہے ، اس سلسلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا غیر ت کو جھنجھوڑنے والا ارشاد ضرور یا د رکھنا چاہئے:
بلغني أن نسائكم يزاحمن العُلُوجَ – أي الرجال الكفار من العَجَم – في الأسواق , ألا تَغارون ؟ إنه لا خير فيمن لا يَغار(شرح السنۃ: ۲۳۷۳)
’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہاری عورتیں بازاروں میں کفار مردوں سے آمنا سامنا کرتی ہیںاور ان کے درمیان جاتی ہیں، کیا تمہیں اس بات پر غیر نہیں آتی؟ یہ حقیقت ہے کہ جس میں غیرت نہیں اس میں کوئی خیر نہیں‘‘
لیکن عورتوں کا بازار جانا نہ مردوں کے لئے اب باعث غیرت ہے اور نہ اسے عورتیںاپنی عفت اور حیاء کے خلاف سمجھ رہی ہیں،اور پھر عفت اور وحیاء اس وقت اور تار تار ہوتی ہے جب کہ فیشن والے برقعے پہن کر لڑکیاں اور عورتیں بازاروں اور مردوں کی دنیامیں نکلتی ہیں۔موجودہ زمانہ میں جن برقعوں کا رواج عام ہوگیا ہے وہ درحقیقت ان تمام صفات سے خالی ہیں جو عورت کے حجاب اور برقع میں ہونا لازم ہےہیں؛ کیونکہ موجودہ برقعے زینت کو چھپانے کے بجائے خود ہی مزین ہیں اور ان کی بناوٹ بھی ایسی پرفتن ہے کہ ان رسمی برقعوں سے جتنی نظریں اٹھتی ہیں شاید ان کے بغیر نہ اٹھیں۔
قرآن وسنت اور اسلامی تعلیمات میں حجاب اور پردہ کے حوالے سے جو تفصیلات آئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حجاب کے صحیح اور اسلامی ہونے کے لئے اس لباس حجاب میں ان خوبیوں کا ہونا ضروری ہے ۔
(۱) لباس ِحجاب خود مزین نہ ہو یعنی اس میں نقش ونگار نہ کیا گیا ہو بلکہ وہ سادہ ہو۔
(۲)پورے بدن کو چھپانے والا ہو۔
(۳) ایسا باریک نہ ہو کہ اس کے اوپر سے اندرونی لباس وجسم جھلکتا ہو۔
(۴) ایسا تنگ اور چست نہ ہو کہ اس کے پہننے کے باوجود جسم کی ساخت ظاہر ہوتی ہو۔
(۵)غیر مسلموں یا مردوں کے لباس کی مشابہت نہ ہو۔
موجودہ زمانے میں جو برقعے رواج پاچکے ہیں ان میں یہ خوبیاں بالخصوص ابتدائی چار خوبیاں بالکل ہی نہیں ہوتی ہیں، اس لئے اس کو پہننے سے شرعی حجاب اور شرعی پردہ حاصل نہیں ہوتا، اور ظاہر سی بات ہے کہ شرعی پردہ کے بغیر عورت کا پردہ مکمل نہیں ہوتا ، بلکہ اس پردہ کے لباس کو پہن کر بھی وہ بے پردہ ہوتی ہے اور پھر وہ اس حدیث کی وعید کی مستحق ہوجاتی ہے ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
صنفان من أهل النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات، رءوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة، ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا(مسلم: ۵۷۰۴)
’’دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم تو ان لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کوڑے ہیں جس سے وہ لوگوں کو مارتے ہیں اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں وہ سیدھے راستے سے بہکانے والی اور خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں ان عورتوں کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پا سکیں گی جبکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت(یعنی دور) سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ ‘‘
’’کاسيات عاريات‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بدن پر تو کپڑے ہوں لیکن وہ کپڑے بے پردہ ہوں ،ایسے تنگ وباریک اور مزین ہوں کہ ان کو پہن کر جسم اور زینت مکمل نہ چھپے، آج کل کے مروج برقعوں کو پہننے کے بعد اگر چہ کہ عام گھریلولباس کی زینت توکچھ حد تک چھپ جاتی ہے لیکن خود اس برقعے کی زینت اور اس کی بناوٹ نگاہ کو مائل کر نے والی ہوتی، ظاہر سی بات ہے کہ اس کو شرعی حجاب نہیں کہا جاسکتا اور ان کو پہن کر عورت پردہ حاصل نہیں کرسکتی ۔علامہ قرطبی لکھتے ہیں:
أما قوله كاسيات عاريات فمعناه كاسيات بالاسم عاريات في الحقيقة إذ لا تسترهن تلك الثياب (الاستذکار: ۸؍۳۰۷)
’’کاسیات عاریات کامعنی یہ ہے کہ وہ برائے نام تو کپڑا پہننے ہوں گی لیکن حقیقت میں ننگی ہوں گی ؛ کیونکہ وہ کپڑے ان کو چھپانے والے نہیں ہوں گے‘‘
اسی طرح بعض عورتیں برقع تو پہن لیتی ہیں لیکن لیکن اس کا دوپٹہ ایسا چھوٹا ہوتا ہے کہ سینہ کا حصہ اور اس کی خلقت اوپر سے بھی ظاہر ہوتی رہتی ہے اس طرح کا نقاب اور برقع پہننا بھی شرعی حجاب نہیں اور وہ بھی کپڑا پہن کر بے پردہ رہنا کے حکم میں ہے اور اس وعید میں داخل ہے۔(التوضیح لشرح الجامع الصحیح:۳؍۶۰۰)
بہنوں سے گزارش ہے کہ اس سخت وعید سے بچنے کے لئے اسلامی حجاب اختیار کریں ، اور مزین نقاب اور برقعے پہننے سے پرہیز کریں تاکہ بے حجابی اور اس کے نقصانات سے محفوظ رہیں اور یاد رکھیں کہ بے پردگی حرام ہے اوربے پردہ عورت اللہ کی رحمت سے محروم اور لعنت کی مستحق ہوجاتی ہے ( مسند احمد : ۷۰۸۳)
بے پردہ عورت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ ایمان والی نہیں ہیں بلکہ وہ منافق ہیں، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
 شر نسائكم المتبرجات المتخيلات وهن المنافقات لا يدخل الجنة(بیہقی: ۱۳۴۷۸)
’’تمہاری عورتوں میں سب سے بدترین عورتیں وہ ہیں جو بے پردہ پھرنے والی اور تکبر کرنے والی ہوں وہ عورتیں منافق ہیں ، وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک لڑکی آئی جس کا دوپٹہ باریک تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا :
’’ اگر تم ایمان والی ہو تو سن لو کہ یہ ایمان والی عورتوں کا لباس نہیں ۔۔۔ اور جو عورت اس طرح کا بے پردہ لباس پہنے اس کا سورۂ نور پر ایمان نہیں‘‘
اس لئے محض شوق اور شیطانی بہکاوے میں آکر خود کو بے پردہ کرنا بہت نقصاندہ ہے ، جب کہ اسلامی صحیح پردہ اختیار کرنے سے اللہ بھی خوش ہوتا ہے اورشیطانی نظروں سے عفت وعصمت کی حفاظت بھی ہوتی ہے، اللہ بہنوں کو اس کی توفیق دے۔

Login Required to interact.