مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
======
ادھر کئی دنوں سے شوشل میڈیا پر ایک مضمون گردش کررہا ہے جس میں احادیث نبویہ اور ماضی کےبعض اکابر علماء کی عبارات کے ذریعہ یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ موجودہ کرونا وائرس کا ۱۲ ؍ مئی تک خاتمہ ہوجائے گا؛ کیونکہ علم نجوم اور ماہرین فلکیات کی تحقیق کے مطابق ۱۲ مئی کو ’’ثریا‘‘ طلوع ہورہا ہے ،اس مضمون میں جو باتیں ذکر کی گئیں ہیں وہی باتیں اردن کے ایک ماہرفلکیات عماد مجاہد نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھی ہے ، پھر کیا تھا لوگوں نے اس بات کو آڈیو اورویڈیو میں خوب شیئر کرنا شروع کردیا،چونکہ یہ بات رسول اللہ ﷺسے اور احادیث نبویہ سے جڑی ہوئی تھی اس لئے اس کا صحیح معنی ومفہوم عام ہونا ضروری ہوگیا ؛ تاکہ کوئی غلط بات جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب نہ ہواور غلط طورپر منسوب ہوئی باتوں کا ازالہ ہو۔
جس حدیث کو بنیاد بناکر یہ بات کہی جارہی ہے وہ یہ ہے :
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُرَاقَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ ، قُلْتُ: وَمَتَى ذَاكَ؟ قَالَ: حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا (مسند احمد: ۵۰۱)
حضرت عثمان بن عبد اللہ بن سراقہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پھلوں کے فروخت کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ’’ عَاہَۃ ‘‘ (آفت ) کے ختم ہونے تک پھلوں کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ، میں نے کہا کب تک : تو انہوں فرمایا : ثریا کے طلوع ہونے تک۔
یہ حدیث سند کے اعتبار سے بالکل’’صحیح ‘‘ ہے ،ایک دوسری روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ، وَتَقُومُ عَاهَةٌ، إِلَّا رُفِعَتْ عَنْهُمْ أَوْ خَفَّت (مسند احمد: ۹۰۳۹)
’’جب کبھی بھی صبح میں ستارہ (ثریا)طلوع ہوتا ہے اور کوئی آفت موجود ہوتی ہے تو وہ یا تو ختم ہوجاتی ہے یا کم ہوجاتی ہے ‘‘
اس روایت کو مسند احمد کے محشی علامہ شعیب الارناؤط نے ’’ حسن ‘‘ قرار دیا ہے ، اس روایت کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت عطا ؒنے نقل کیا ہے اور پھر حضرت عطا ؒسے ان کے دیگر شاگردوں اور راویوں نے نقل کیا ہے ، اوپر ذکر کردہ روایت کو حضرت عطا ؒ سے عِسل بن سفیان نے نقل کیا ہے ، جو کہ محدثین کے نزدیک ایک ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے ان کی روایت کو ’’حسن ‘‘کا درجہ دیا گیا ہے ،نیز خود عسل بن سفیان سے یہی روایت ان الفاظ میں بھی منقول ہے :
إِذَا طَلَعَتِ الثُّرَيَّا صَبَاحًا رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ أَهْلِ الْبَلَد
’’جب ثریا صبح میں طلوع ہوتا ہے تو شہر والوں سے ’’عاہہ‘‘ (آفت) دور ہوجاتی ہے‘‘
اسی روایت کو حضرت عطا سے نقل کرنے والوں میں امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ بھی ہیں ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ارْتَفَعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ (الاثار لابی یوسف: ۹۱۷)
’’جب بھی ستارہ (ثریا) طلوع ہوتا ہے تو ہر شہر والوں سے’’ عاہۃ‘‘ دور ہوجاتی ہے ‘‘
جب کہ امام ابوحنیفہ سے ان کے ایک شاگرد اسد بن عمرو اس روایت کو ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ – يَعْنِي الثُّرَيَّا – رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنِ الثِّمَارِ(الارشاد : ۵۴)
’’جب ستارہ یعنی ثریا طلوع ہوتا ہے تو پھلوں سے آفت وبیماری دور ہوجاتی ہے ‘‘
گویا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت جو کہ ان سے حضرت عطا نے نقل کیاہے اور پھر حضرت عطا سے دیگر حضرات نے نقل کیا ہے ،اس کواکثر راویوں نے إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ارْتَفَعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ جیسے الفاظ میں نقل کیا ہے جب کہ دیگر راویوں کے الفاظ کچھ مختلف ہیں البتہ مشترک مضمون ہر ایک میں ’’ رفع عاھۃ‘‘ یعنی آفت کا دور ہونا ہی ہے کہ ثریا کہ طلوع ہونے پر’’ عاہۃ‘‘ (آفت) ختم ہوجاتی ہے ۔
ماہرین کے مطابق موجودہ مروج کیلنڈر کے لحاظ سے نصف مئی جو کہ شدید گرمی کا موسم ہوتا ہے اس میں کرۂ ارضی کے شمالی حصوں میں ثریاصبح میں طلوع ہوتا ہے ، اور پھل کا آفات سے بچ جانا درحقیقت ثریا کے طلوع سے نہیں بلکہ گرمی کے سخت ہونے کی وجہ سے ہے اور ثریا اس سخت گرمی کی ایک علامت ہے، ماہرین فلکیات کے علاوہ ماضی کے محققین علماء نے بھی یہ بات لکھی ہے ، امام طحاوی علیہ الرحمۃ نے شرح مشکل الآثار میں بھی اس کے طلوع ہونے کا یہی وقت لکھا ہے (شرح مشکل الآثار: ۶؍۵۶، التوضیح لابن الملقن : ۱۴؍۴۸۴) اور موجودہ حالات سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے ؛ کیونکہ مئی کے موسم میں ہی جب گرمی شدید ہوتی ہے توکھجور اچھی طرح تیار ہوتے ہیں۔
حدیث میں کس بیماری کے ختم ہونے کا ذکر ہے ؟
اب سوال یہ ہے کہ مئی میں ثریا توطلوع ہوتا ہے لیکن اس کے طلوع کے وقت ’’ عاہۃ‘‘ کے ختم ہونے کی جو بات احادیث میں کہی گئی ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ اور کس کس قسم کی بیماریوں اور آفتوں کے ختم ہونے کی اس میں بشارت سنائی گئی ہے ۔الجامع الصغیر کے شارح علامہ امیر عزالدین محمد بن اسماعیل لکھتے ہیں:
والعاهة الآفة التي تلحق الزرع والثمار في فصل الشتاء وصدر فصل الخريف فيحصل الأمن منها عند طلوع الثريا(التنویرشرح الجامع الصغیر : ۲؍۱۳۲)
’’عاہۃ‘‘ وہ بیماری ہے جوموسم سرمااور موسم خریف کے اوائل میں کھیتیوں اور پھلوں کولگ جاتی ہے، تو اس آفت وبیماری سے ثریا کے طلوع ہونے سے نجات مل جاتی ہے‘‘
اور اپنی کتاب التحبیر میں لکھتے ہیں:
العاهة: العيب، والآفة. والمراد بها هنا ما يصيب الثمار من الجوائح،۔۔۔۔ والنجم هو الثريا، وطلوعها صباحاً يقع في أول فصل الصيف، وذلك عند اشتداد الحر في بلاد الحجاز وابتداء نضج الثمار. قال ابن عبد البر : طلوع الثريا صباحاً عند أهل العلم بها يكون لاثنتي عشرة ليلة تمضي من شهر أيار(التحبیر: ۱؍۴۷۹)
’’ عاہۃ‘‘ کا معنی عیب اور آفت ہے ، اور یہاں حدیث میں اس سے وہ بیماریاں مراد ہیں جو پھلوں میں پیدا ہوتی ہیں، اور (حدیث میں مذکور لفظ) نجم سےمراد ثریا ہے جو کہ موسم گرما کے شروع میں صبح کو طلوع ہوتا ہے ، جس وقت حجاز کے علاقے میں گرمی سخت ہوتی ہے اور پھل (کھجور) پکنا شروع ہوتا ہے ، علامہ ابن عبد البر فرماتے ہیں کہ علم فلکیات کے ماہرین کے مطابق ثریا ’’ایار‘‘ (مئی ) کی بارہ تاریخ کوصبح میں طلوع ہوتا ہے ‘‘
صاحب مطالع الانوار علامہ ابراہیم لکھتے ہیں:
"الْعَاهَةُ” : بلايا وآفات تصيب الزروع والثمرات ( مطالع الانوار علی صحاح الآثار: ۵؍۶۱)
’’عاہۃ ‘‘سے مراد وہ بلائیں اوربیماریاں ہیں جو پھلوں اور کھیتیوں میں پیدا ہوتی ہیں‘‘
علامہ نووی علیہ الرحمۃ مسلم شریف کی شرح میں لکھتے ہیں:
الْعَاهَةَ هِيَ الْآفَةُ تُصِيبُ الزَّرْعَ أَوِ الثَّمَرَ وَنَحْوَهُ فَتُفْسِدُهُ (شرح مسلم للنووی :۱۰؍۱۷۹)
(حدیث میں جس ’’عاہۃ‘‘ کے ختم ہونے کی بات ہے ) اس سے مراد وہ بیماری ہے جو کھیت اور پھل وغیرہ میں لگ جاتی ہے اور اسے خراب کردیتی ہے ۔
اکمال المعلم شرح مسلم میں ہے :
العاهة ” الآفة تصيب الثمار والزرع فتفسده. قال الخليل: العاهة: البلية تصيب الزرع والناس (اکمال المعلم شرح مسلم : ۵؍۱۷۲)
(حدیث میں جس عاہۃ کے ختم ہونے کی بات ہے ) اس سے مراد وہ بیماری ہے جو کھیت اور پھل وغیرہ میں لگ جاتی ہے اور اسے خراب کردیتی ہے ، خلیل کہتے ہیں کہ ’’عاہۃ‘‘: وہ بیماری ہے جو کھیتی اور لوگوں کو درپیش ہوتی ہے ۔
علامہ ابن قتیبہ الدینوری ’’ کتاب الانواء میں لکھتے ہیں:
أراد بذلك عاهة الثمار, لأنها تطلع بالحجاز وقد أزهى البُسر وأُمنتْ عليه الآفة. (الانواء: ۳۱)
’’حدیث میں جس ’’ عاہۃ ‘‘ کے طلوع ثریا سے ختم ہونے کی بات ہے اس سے مراد پھل کی بیماری ہے ؛ اس لئے کہ ثریا حجاز میں اس وقت طلوع ہوتا ہے جب کہ کھجور پک جاتے ہیں اوراس کی بیماری کا اندیشہ ختم ہوجاتا ہے ‘‘
شیخ الحدیث حضرت شیخ زکریا علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
ان المراد بالنجم : الثریا ، وبالعاھۃ الآفۃ التی تلحق الزروع واالثمارفی فصل الشتاء (اوجز المسالک : ۱۲؍۴۰۳)
’’نجم (ستارہ ) سے مراد ثریا ہے اور’’ عاہۃ‘‘ سے مراد وہبیماری ہے جو سردی کے موسم میں پھلوں اور کھیتیوں میں پیدا ہوتی ہے‘‘
ان تمام شارحین حدیث کی باتوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ طلوع ثریا کے وقت جس ’’عاہۃ‘‘ (بیماری )کے ختم ہونے کی بات کہی گئی ہے وہ ہر قسم کی آفات، وبائیں اور امراض نہیں ہیں بلکہ اس سے پھلوں بالخصوص کھجور کو خراب کرنے والی بیماری مراد ہے کہ ثریا کے طلوع کے وقت تک چونکہ گرمی بہت سخت ہوچکی ہوتی ہے اور عالم عربی کا اصل پھل کھجور ہی ہے اور کھجور گرمی سے ہی تیار ہوتا ہے اور گرمی کی تیزی کھجور کے لئے مفید ہے اور ثریا کے طلوع ہونے کےوقت تک وہ مکمل تیار ہوجاتا ہے جس کے بعد عام طور پر اس میں بیماری وغیرہ نہیں لگتی ہے ،تو گویا کہ ثریا کا طلوع ہونا بھی بیماری کو دور کرنے والا نہیں ہے ،بلکہ وہ ایک زمانہ کی تعیین اور علامت ہے کہ اس وقت تک کھجور مکمل پک چکا ہوتا ہے اس لئے اس وقت بیچنے میں خریدار کو دھوکہ اور نقصان ہونے کا اندیشہ نہیں ہے، ورنہ ہوسکتا ہے کہ اس قبل بیچنے کی صورت میں پھل توڑنے کے وقت کسی آفت وبیماری کی وجہ سے پھل ہی نہ رہے یا بہت کم ہوجائے جس سے خریدار کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی لئے یہی روایت حضرت انس بن مالک سے مروی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے پھل کو اس وقت تک بیچنے سے منع کیا جب تک وہ سرخ یا زرد نہ ہوجائے(یعنی پک کر تیار نہ ہوجائے)علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
عن أبي هريرة مرفوعاً قال: إذا طلع النّجم صباحاً رفعت العاهة عن كل بلدٍ. وفي رواية أبى حنيفة عن عطاءٍ ” رفعت العاهة عن الثّمار ". والنّجم هو الثّريّا، وطلوعها صباحاً يقع في أوّل فصل الصّيف , وذلك عند اشتداد الحرّ في بلاد الحجاز وابتداء نضج الثّمار؛ فالمعتبر في الحقيقة النّضج وطلوع النّجم علامةٌ له(فتح الباری: ۴؍۳۹۵)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب ستارہ ( ثریا) طلوع ہوتا ہے تو ہر شہر سے ’’ آفت‘‘ ختم ہوجاتی ہے ، اور امام ابوحنیفہ سے مروی حضرت عطا کی روایت میں ہے کہ پھل سے آفت دور ہوجاتی ہے، اس حدیث میں مذکور’’ نجم ‘‘ سے مراد ثریا ہے جو کہ موسم گرما کے شروع میں صبح کو طلوع ہوتا ہے ، جس وقت حجاز کے علاقے میں گرمی سخت ہوتی ہے اور پھل (کھجور) پکنا شروع ہوتا ہے،اور در اصل پھل کے پکنے کا اعتبار ہے اور ثریا کا طلوع ہونا اس کی علامت ہے ‘‘
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گرچہ کہ اکثر علماء اور شارحین حدیث نے طلوع ثریا سے ختم ہونے والی ’’عاہۃ ‘‘ (آفت وبیماری) سے پھل کی بیماری مراد لی ہے لیکن علامہ سمعانی ؒنے تفسیر سمعانی (۶؍۳۰۶) میں اور علامہ مناوی ؒنے التسیر بشرح الجامع الصغیر (۲؍۳۵۲) میں طلوع ثریا کے وقت عام وبااور آفات کے ختم ہونے کی بات بھی کہی ہے ، جو یقینا موجودہ حالات میں امید افزا ہے ، اور خدا کرے کہ اس وقت تک یہ بیماری ختم ہوجائے ، اور ایسا ہوتا بھی ہے کہ موسم کی تبدیلی سے وبائیں اور بیماریاں ختم ہوتی ہیں، لیکن عام شارحین حدیث نے اس حدیث کا مصداق پھلوں کی بیماری کو ہی قرار دیا ہے اور حضرت شیخ زکریا علیہ الرحمۃ نے تو یہ صراحت بھی کی ہے کہ ’’ عاہۃ‘‘ کا مصداق پھلوں کی بیماری قرار دینا ہی تمام اقوال میں سب سے بہترقول ہے(اوجز المسالک :۱۲؍۴۰۳) اور شایداسی وجہ سے علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ نے ’’بذل الماعون فی فضل الطاعون‘‘ میں جہاں یہ تحریر کیا ہے کہ ماضی میں مسلم ممالک میں پھیلنے والی وبائوں میں سے اکثروبائیں سردی کے موسم کے بعد موسم ربیع کے دوران شروع ہوئیں اورموسم گرما کے اوائل میں ختم ہوگئیں ، اس موقع پر نہ تو انہوں نے اس حدیث کو ذکر کیا اور نہ گرمی میں وباؤں کے ختم ہونے پر اس سے استدلال کیا ، حالانکہ ماـضی کی وباؤں اور طاعون پر ان کی گہری اور وسیع نظر تھی؛ اور فتح الباری میں انہوں نے جو لکھا ہے اس سے صاف واضح ہے کہ ان کی نظر میں اس حدیث میں ذکر کردہ ’’ عاہۃ‘‘ سے مراد پھلوں ( کھجور) کی بیما ری ہے ۔(فتح الباری: ۴؍۳۹۵)
نیز یہ بات بھی ذہن نشیں رہےکہ ثریا کے طلوع ہونے پرہر شہر سے پھلوں کی بیماری کے ختم ہونے کی جو بات ہے ، اس کے بارے میں محدثین لکھتے ہیں کہ اس سے مراد حجاز کے علاقے ہیں، جیسا کہ علامہ ابن بطال اور علامہ ابن الملقن علیہما الرحمۃ نے لکھا ہے (شرح صحیح البخاری لابن بطال :۶؍۳۱۶، التوضیح : ۱۴؍۴۸۸) اور علامہ ابن عبد البرؒ نے الاستذکار میں لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ تمام شہرہوسکتے ہیں جہاں کھجور کی پیداوار ہوتی ہے ،اور ہوسکتا ہے کہ صرف حجاز ہی مراد ہو ( الاستذکار: ۶؍۳۰۶) بہر حال ہر شہر سے’’ عاہۃ‘‘ ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حجاز کے علاقہ میں ثریا طلوع ہوگا تو پوری دنیا کے ہر شہر سے بیماری ختم ہوجائے گی، اوریہ بات معقول بھی ہے کیونکہ نصف مئی میں ثریا کا طلوع نصف کرہ ارضی میں ہی ہوتا ہے ، جیسا کہ ماہرین فلکیات لکھتے ہیں،جب کہ یہ کرونا اس وقت تقریبا کرۂ ارضی کے تمام ہی ممالک کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔
نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کیا ثریا کے طلوع ہونے کے وقت یا سخت گرمی کے وقت امراض اور وبائیں ختم ہوجاتی ہیں، ماہرین نے جو لکھا ہے اس سے واضح ہوتاہے کہ ثریا کے طلوع کو تمام انسانی امراض کے ختم ہونے کا ذریعہ یا علامت یا وقت بتانا صحیح نہیں ہے ، ہاں اس وقت موسم میں گرمی کی سختی کی وجہ سے موسمی رطوبت والی بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں، لیکن ہر طرح کی بیماری اور وبا ختم ہوجانے کی بات ماہرین اور اطبا کی تحقیق وتحریرکی روشنی میں غلط ثابت ہوتی ہے، اور کرونا وائرس کے بارے میں گرچہ کے شروع میں یہ بات کہی گئی تھی کہ گرمی سے یہ وائرس ختم ہوجائے گا لیکن بعد میں ماہرین کی رائے کچھ اور ہی ہے ،بلکہ اب تو پسینےسے بھی اس کے پھیلنے کی بات کہی جارہی ہے، اللہ ہم سب کی حفاظت کرے، طلوع ثر یا اور بیماریوں کے بارے میں علامہ امیر عزالدین محمد بن اسماعیل لکھتے ہیں:
وبين طلوعها وغروبها آفات وعاهات وأمراض في الناس والثمار والإبل (التنویرشرح الجامع الصغیر : ۲؍۱۳۲)
’’ثریا کے طلوع وغروب کے مابین انسانوں، پھلوں اور اونٹوں میں بہت سی آفتیں، وبائیں اور بیماریاں ہوتی ہیں‘‘
حضرت شیخ الحدیث شیخ زکریا علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
واما الثریا فالامراض تکثر وقت طلوعہا مع الفجر ۔۔۔۔ قال التیمی فی کتاب مادۃ البقاء اشد اوقات السنۃ فسادا واعظمہا بلیۃ علی الاجساد وقتان : احدھما وقت سقوط الثریا للمغیب عند طلوع الفجر والثانی : وقت طلوعہا من المشرق قبل طلوع الشمش ۔۔۔۔ غیر ان الفساد الکائن عند سقوطہا اقل ضررا من الفساد الکائن عند طلوعہا (اوجزالمسالک : ۱۲؍۴۰۳)
’’جہاں تک ثریا کے طلوع کی بات ہے تو صبح میں اس کے طلوع ہونے کے زمانہ میں بیماریوں میں کثرت ہوتی ہے ۔۔۔۔ علامہ تیمی نے اپنی کتاب ’’ مادۃ البقاء‘‘ میں لکھا ہے کہ پورے سال میں دو اوقات بہت زیادہ انسانی جسم کو بیمار اور پریشان کرنے والے ہوتے ہیں، ایک وقت تو وہہے جب ثریا صبح صادق کے وقت سقوط پذیر ہوتا ہے اور دوسرا وہ وقت ہے جب سورج کے طلوع ہونے سے قبل وہ مشرق میں طلوع ہوتا ہے ۔۔۔ البتہ اس کے سقوط پذیرہونے کے وقت کی بیماریاں ان بیماریوں کی بہ نسبت کم نقصان دہ ہوتی ہیں جو اس کے طلوع کے وقت ہوتی ہیں‘‘
علامہ قتیبہ دینوریؒ لکھتےہیں:
ما طلعت ولا ناءت إلّا بعاهة فى الناس والإبل، وغروبها أعوه من شروقها (الانواء : ۳۱)
’’جب بھی ثریا طلوع یا غروب ہوتا ہے تو انسانوں اور اونٹوں میں بیماریا ں لاتا ہے ، اور اس کا غروب اس کے طلوع سے زیادہ باعث امراض ہوتا ہے‘‘
ان تفصیلات کا ماحصل یہ ہے کہ جن احادیث مبارکہ کے ذریعہ ۱۲ مئی تک کروناوائرس کے ختم ہونے کی بات کہی جارہی ہے ان احادیث میں انسانی بیماریوں اور وباؤں کو کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی طلوع ثریا کو ان کے ختم ہونے کا سبب یا وقت بتایا گیا ہے ،اوران احادیث کا ایسا مطلب بیان کرنا جو عام شارحین حدیث کے بیان سے مختلف ہودرحقیقت کلام نبوی کا ایسا مصداق تلاش کرنا ہے جو مقصود نبوی نہیں ہے ، اور ظاہر سی بات ہے کہ مقصود نبوی کے خلاف کسی حدیث کی تشریح کرنا یقینا ناقابل قبول ہے ، خاص طور پر ایسے دور میں جب کہ کرونا وائرس سے پوری دنیا پریشان ہے اور اسے عذاب الہی تصور کیا جارہے ، ایک حدیث کی غیر راجح توضیح کرکے اس کے ذریعہ اس کے ختم ہونے کی مدت بیان کرنا بہت ہی خطرناک ہے ؛ کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر اسلام دشمن طاقتوں اور الحاد پسند لوگوں کو حدیث رسول کی حقانیت پر سوال اٹھانے کا موقع ہاتھ آئے گا، اور ساتھ ہی بہت سے مسلمانوں کا عقیدہ ستاروںکی تاثیر کی طرف جائے گا ، اور اس سے ’’ یوگا‘‘ وغیرہ کے نام پر جو سورج پرستی کی دعوت دی جارہی ہے اور جس کے لئے کئی حیلے اختیار کئے جارہے ہیں اس کو بھی تائید حاصل ہوگی ، اسلام نے ستاروں کی تاثیر اور انسانی زندگی کے احوال میں اس کی اثر اندازی کو یکسر غلط ٹھہرایا ہے اور اس طرح کے تصورات کو مشرکانہ تصور قرار دیا ہے۔اس لئے حدیث کی ایسی تشریحات اور ایسی پیش گوئیوں سے بچیں اور دعاومناجات میں مصروف رہ کراپنے رب کریم کو منانے کی کوشش کریں جو اصل شفا دینے والا اور وباؤں سے نجات دینے والا ہے ، رب کریم پوری انسانیت کو کرونا وائرس سے بچائے اور روئے زمین کو اس وائرس سے پاک کردے۔آمِیْنَ وَصَلَّی اللہُ عَلَی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہِ وَصَحْبِہِ اَجْمَعِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
Login Required to interact.

