دل آزار حالات میں قرآنی ہدایات

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
 === 
ان دنوں عالمی سطح پر امت مسلمہ مختلف قسم کے چیلنجوں سے ہمکنار ہے ،اس کا ماضی خون آلود ہے تو حال دردو وکرب میں مبتلا ہے اورمستقبل کی بہتری بھی خطرات اور اندیشوں سے دوچار ہے، جان ومال کی تباہی ، عقائد ونظریات ، اسلامی اعمال اور مذہبی تشخصات پر اعتراضات اور پاپندیاں ، قرآن اور پیغمبر اسلام کی اہانت کے واقعات ، شرپسند عناصر کی جانب سے جذبات کو مجروح کرنے والے بیانات ، ان کے تخریبی عزائم کےاظہار واعلان اور غیروں کے ظالمانہ اعمال اور امت مسلمہ کی آہ وفریاد میں عالمی اداروں اور قوتوں کے الٹے اور ناقابل فہم بلکہ سراسر عدل سے خالی معیار انصاف نے امت مسلمہ کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے ، اور ان میں جان ومال اور دین ومذہب کے حوالے سے عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا ہے۔ اور اس وقت رسول اللہ ﷺ کی یہ پیشین گوئی پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قریب ہے کہ تم پر دنیا کی اقوام چڑھ آئیں گی (تمہیں کھانے اور ختم کرنے کے لئے) جیسے کھانے والوں کو کھانے کے پیالے پر دعوت دی جاتی ہے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم اس زمانہ میں بہت کم ہوں گے؟ فرمایا کہ نہیں بلکہ تم اس زمانہ میں بہت کثرت سے ہو گے لیکن تم سیلاب کے اوپر چھائے ہوئے کوڑے کباڑے کی طرح ہوگے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت و رعب نکال دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے قلوب میں بزدلی ڈال دے گا کسی کہنے والے نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہن (بزدلی) کیا چیز ہے؟ فرمایا کہ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت وگھبراہٹ۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے جو باتیں بیان کی ہیں آج وہ امت کے سامنے حقیقت کی شکل میں موجود ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد کی کثرت اور وسائل وذخائر سے مالا مال ممالک میں مسلم حکومتوں کے باوجود اس وقت امت مسلمہ ظلم وجبر کا تختہ مشق بن چکی ہے اور اپنوں کی سادگی اور غیروں کی عیاری کی وجہ سے ان کے وسائل اور مادی قوتیں خود ان کے خلاف استعمال کی جارہی ہیں۔
ان حالات میں ہمیں جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے اس راہ کی تلاش کرنی ہے جس کو ایسے حالات میں اختیار کرنے کی قرآن وسنت میں تعلیم دی گئی ہے، قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
 لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (آل عمران: ۱۸۶)
’’تم لوگ ضرور ضرور آزمائے جاؤ گے اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور جن لوگوں نے شرک کیا ان کی طرف سے ضرور بالضرور بہت سی باتیں دل آزاری کے سنوگے اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے‘‘
گویا ان پریشان کن حالات میں یہ آیت صبر اور تقوی کی راہ اختیار کرنے کی تعلیم دے رہی ہے ،کیونکہ صبر کرنے سے تسلی ہوتی ہے اور تقویٰ سے اعمال صالحہ کی تکمیل ہوتی ہے، جب یہ دونوں چیزیں اختیار کر لیں تو دشمن کی دل آزاریوں سے صر ف نظر کرنا آسان ہو تا ہے، مزید یہ کہ تقوی اور پرہیزگاری کی وجہ سے اللہ کی رحمت و نصرت کا نزول ہوتا ہے اورپھر اس کی خفیہ تدبیر ساری تدبیروں پرغالب آتی ہے،جس کی واضح مثال قرون اولی اور بعدکے ادوار میں اقوام عالم پرمسلمانوں کی فتح ونصرت کی روشن تاریخ ہےکہ تعداد وقوت کی کمی کے باوجود وہ ایمان وتقوی کی قوت سے آراستہ تھے تو اللہ کی خفیہ تدبیر وںسے ہر طرف کامیابی ان کا استقبال کرتی تھی ، کیونکہ اللہ کی تدبیر ہی غالب آتی ہے ۔ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ۔
آج جس فلسطین میں مسلمانوں کی خون کی ارزانی پر پوری دنیا ماتم کناں ہے اس کی فتح کی تاریخ پڑھیں، اس مقام پر عیسائیوں کا مضبوط کنٹرول تھا ،مسلمانوں کے ایک لشکرنے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اس کا رخ کیا تو وہاں کے لوگوں نے صلح کی پیشکش کردی، اور براہ راست امیر المؤمنین حضرت عمر ؓ سے معاہدہ کے لئے تیار ہوگئے،امیر المؤمنین صرف اپنے ایک غلام کے ہمراہ مدینہ سے لمبا سفر طے کرکے جب بیت المقدس میں داخل ہوئے تو کسی بھی قسم کی مقابلہ آرائی اور جنگ وجدال کے بغیر عیسائیوں نے مسلمانوں کے تسلط وفتح کو تسلیم کرلیا اور عیسائی پادری نے مسجد اقصی کی کنجی امیر المؤمنین کے حوالے کردی ، کیونکہ ایمانی قوت اور اطاعت خداوندی کی وجہ سے اللہ نے قلوب کو ان کے لئے مسخر ومرعوب کردیا تھا، حالانکہ ظاہر ی قوت ودولت کا مکمل فقدان تھا، اور امیر المؤمنین کا یہ سفر بھی تاریخ انسانیت کے کسی امیر کا ایسا سفر تھا کہ اس سے قبل اور اس کے بعد اس کی مثال نہیں ملتی کہ حاکم وقت اور ان کے غلام کے طویل سفر کے لئے صرف ایک سواری ہے جس پر مخصوص منزل تک باری باری دونوں سوار ہوتے ہیں اور آخری منزل پر امیر وقت اونٹ کی لگام پکڑ کر چل رہے ہیں اور غلام سوا رہے ۔
اِس وقت مسلمانوں میں اخلاقی زوال ، عملی کوتاہیاں ، اسلامی تہذیب سے دوری، اللہ کے غضب کو دعوت دینے والے شرکیہ اعمال اور بدعات وخرافات کی کثرت جس حد تک بڑھ چکی ہے اور مسلکی نزاعات اور نظریاتی اختلافات کی وجہ سے جو اتحاد کا فقدان ہے وہ یقینا ایک المیہ ہے ، اور حقیقت میں بہت سے پیچیدہ مسائل کی بنیاد ہے اور رحمت حق سے محرومی کی اصل وجہ ہے۔ ان برائیوں کو دور کئے بغیر اسلام سے تعلق مستحکم نہیں ہوسکتا ، اور جب تک اسلام سے تعلق میں استحکام نہ آئے مسلمانوں کے لئے جو الہی نصرت اور انعامات ہیںان کا حصول ممکن نہیں۔ علامہ اقبال علیہ الرحمۃ امت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں:
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذاں،  روح ہلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خوان ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ  تو مسلمان بھی ہو!
ان حالات میں ہمارے اسلاف کو ملنے والے انعامات ہمیں کیسے مل سکتے ہیں،اوران کی جیسی فتح ونصرت ہم کیسے حاصل کرسکتے ہیںجب کہ ہماری راہیں ان کی راہوں سے مکمل مختلف ہیں۔ درد ملت سے آشنا علامہ اقبال علیہ الرحمۃ کے ان اشعار کو پڑھئے اور ماضی اور حال کا موازنہ کیجئے۔
دم تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک
عدل اس کا تھا قوی، لوث مراعات سے پاک
شجر فطرت مسلم تھا حیا سے نم ناک
تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک
ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا
اس کے آئینۂ ہستی میں عملِ جوہر تھا
جو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھا
ہے تمہیں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہو!
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو! یہ انداز مسلمانی ہے؟
حیدری فقر ہے نے  دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے؟
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
تم ہو آپس میں غضبناک، وہ آپس میں رحیم
تم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
تختِ  فغفور بھی ان کا تھا، سریرِ کَے بھی
یونہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی؟
خود کشی شیوہ تمہارا، وہ غیور و خود دار
تم اخوت سے گریزاں، وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو، وہ گلستاں بہ کنار
اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
نقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
ہمیں حضرت عمر ؓ کی یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہئے :
إنا كنا أذل قوم فأعزنا الله بالإسلام فمهما نطلب العزة بغير ما أعزنا الله به أذلنا الله(مستدرک حاکم : ۲۱۴)
’’ہم لوگ سب سے زیادہ ذلیل تھے، تو اللہ نے اسلام کے ذریعہ عزت بخشی، پھر جب کبھی بھی ہم اس طریقہ کے علاوہ میں عزت تلاش کریں جس کے ذریعہ اللہ نے ہمیں عزت دی ہے تو اللہ ہمیں ذلیل کردے گا‘‘
حضرت عمر ؓ کے اس قول میں ہمارے لئے یہ تعلیم ہے کہ ہم خالص اسلامی اعمال واخلاق اور تہذیب کی پیروی کرکے ہی عزت وسرفرازی حاصل کرسکتے ہیں، اس کے بغیر ہمیں کسی اور طریقہ سے عزت وسرفرازی حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ اسلامی اعمال سے دوری اور اغیار کی تہذیب سے وابستگی ہمیں ذلت ورسوائی سے ہی ہمکنار کرے گی۔
یہاں اس حقیقت کو بھی ذہن میں رکھنا ہے کہ جس اسلام کی پیروی کا مطالبہ ہے یہ وہ اسلام ہے جو کتاب وسنت سے ثابت ہے اور جس کی تشریح وتوضیح صحابہ کرام، تابعین عظام اور امت مسلمہ کے معتبر ائمہ و علماء اور بزرگان دین نے اپنے اقوال وافعال سے کی ہے ، موجودہ دور میں جدیدیت سے متأثر افراد عصر حاضر کو اسلامی رنگ دینے اور نئے مسائل کو اسلام کے وسیع ، جامع اورمفادات وضروریات سے ہم آہنگ تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کے بجائے اسلام کوہی عصر حاضر کے قالب میںڈھالنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی جو شکلیں پیش کرتے ہیں اور جو اسلامی مزاج سے متصادم اعمال واخلاق اور تہذیب کو اسلام کے نام پر پیش کرتے ہیں نہ تو و ہ اسلام ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کرنےسے اسلام سے تعلق میں استحکام آتا ہے ، بلکہ اس سے انسان رفتہ رفتہ اسلام سے ہی دور ہوجاتا ہے ۔
Login Required to interact.