تحریر:مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
====
جدید تہذیب کے فتنوں نے پرانے اقدار کو دفن کردیا،فیشن اور جدید تعلیم نے بے حیائی کو تہذیب کا حصہ بنادیا اور حیاء کو ایک فرسودہ تہذیب قرار دے دیا، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ بہت سی باتیں جو پہلے زمانے میں معیوب سمجھی جاتی تھیں آج ان کو بہتر یا کم از کم جائز سمجھ لیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے کئی نت نئے مسائل پید ا ہوئے ہیں جن میں امت مسلمہ بھی شکار ہے۔
شادی کی ابتداء انتخاب سے ہوتی ہے ، بہت سی مرتبہ انتخاب کے بعد سال دو سال اور بسااوقات کئی سال رشتہ کے وعدے پر گزرجاتے ہیں اس دوران جس سے نکاح ہونے والا ہوتا ہے اسے منگیتر کہا جاتا ہے ، اس لفظ کے ذریعہ واقعی یہ فرق تو باقی رہتا ہے کہ ابھی صرف وعدہ نکاح ہے، دونوں رشتہ ازدواج سے منسلک نہیں ہوئے ہیں۔
لیکن لفظی فرق کے باوجود بہت سے گھرانوں میں عملی طور پر ایسا کیا جاتا ہے گویا کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے حلال ہوگئے ہوں، مثلا فون پر مسلسل بات چیت، تفریح گاہوں میں ایک دوسرے کے ساتھ آنا جانا، تنہائیوں میں دونوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا، لڑکے کا لڑکی کے گھر بحیثیت داماد آنا جانا، ہر عمل کے سلسلہ میں لڑکی کا اپنے منگیتر سے پوچھنا کہ یہ کام کروں یا نہ کروں؟ فلاں کے گھر جاؤں یا نہ جاؤں وغیرہ۔ چند دنوں قبل ایک لڑکی نے ایک مسئلہ پوچھنے کے لئے فون کیا تو یہ کہتے ہوئے اس نے بات کی ابتداء کی کہ آپ کا نمبر مجھے میرے منگیتر نے دیا ہے اور انہوں نے آپ سے اس مسئلہ کے بارے میں معلوم کرنے کو کہا ہےمجھے اس پر بڑا تعجب ہوا کہ اس کے انداز سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اسے اپنا حقیقی شوہر تسلیم کررہی ہو۔ایک صاحب نے تو منگیتر کے ساتھ روز وشب کی ملاقات کے جواز کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو رشتہ ازدواج کے بعد پوری زندگی ساتھ رہنی ہے تو اچھا ہے نکاح ہونے سے پہلے دونوں ایک دوسرے سےبار بار ملاقات کے ذریعہ ایک دوسرے کے مزاج کو جان جائیں تاکہ یہ معلو م ہوجائے کہ نکاح کرنا مناسب ہے یا نہیں۔۔۔۔ ۔ اگر یہی بات ہے تو پھر اس سے بہتر تو مغربی ماحول میں کثرت سے رواج پانے والا ’’ زواج مؤقت ‘‘(عارضی نکاح) ہے ، حالانکہ شریعت اسلامیہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
تعجب ہے کہ آج معاشرہ کس سمت کو جارہا ہے اور بے حیائی اور برائی کو کس طرح قبول کیا جانے لگا ہے ، یہ ایک واضح مسئلہ ہے کہ منگیتر شریعت کی نظر میں ایک اجنبی کے حکم میں ہے،اور عقد نکاح کے نہ ہونے تک دونوں ایک دوسرے کے لئے بالکل اجنبی ہیں اور جو اجنبی لڑکی کے احکام ہیں کہ اس کو دیکھنا ، شہوت کے ساتھ اس سے بات کرنا ، اس کے ساتھ تنہائی میں بیٹھناوغیرہ حرام ہے اسی طرح اس لڑکی سے بھی حرام ہے جس سے رشتہ طے ہوچکا ہو،البتہ یہاں نکاح کی ضرورت کی بنیاد پر شریعت نے یہ اجازت دی ہے کہ صرف ایک بار نکاح کرنے کا ارادہ کرنے والا لڑکی کا چہرہ ، ہتھیلی، اور قدم صرف ایک نظر دیکھ سکتا ہے ۔لیکن آج معاشرہ میں اس کو ایسا جائز سمجھ لیا گیا کہ گھر کے بزرگوں کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہوتاکہ یہ سراسر حرام اور بے دینی ہے۔ حالانکہ بہت سی مرتبہ اس کے برے نقصانات بھی ظاہر ہوتے ہیں ، اور اکثر ایسا ہوتا کہ یہی قربت وملاقات آپسی اختلاف کا ذریعہ بن جاتی ہے ،رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ،اور لڑکی اپنی عصمت پر روتی رہ جاتی ہے ، اور ماں باپ بھی ماضی پر افسوس کرتے ہیں لیکن ان کے افسوس سے ان کی لخت جگر کو لگا داغ دھل نہیں پاتا،شریعت کے قانون کو نظر انداز کرنا اخروی اعتبار سے تو نقصان دہ ہے ہی ، دنیوی اعتبار سے بھی نقصاندہ ہے کہ اللہ تعالی بدعملی اور شریعت کی خلاف ورزی کی وجہ سے دنیا میں بھی محرومی ، ناکامی اور ذلت ورسوائی مسلط کردیتے ہیں۔اور اس عمل میں برکت نہیں ہوسکتی جس میں اللہ کی نافرمانی کی گئی ہو، اور جہاں دنیا کے دیگر اعمال برکت سے محرومی کی وجہ سے ناکامی سے ہمکنار ہوتے ہیں وہیں رشتوں میں بھی اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے بے برکتی پیدا ہوتی ہے جس کا برا انجام نکاح سے پہلے یا اس کے بعد رشتہ ٹوٹنے یا ازدواجی زندگی سے سکون کے خاتمہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔اللہ برائیوں سے بچنے کی توفیق دے۔
Login Required to interact.

