تحریر: مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
====
یہ ایک حقیقت ہے کہ دشمن سے بچنے کی فکر اور اس کے مکروفریب سے محفوظ رہنے کی کوشش ہر انسان کرتا ہے،ایک شخص کو یہ معلوم ہوتے ہی کہ فلاں اس کا دشمن ہے وہ ہر طرح سے ہوشیار ہوکراس فکر میں رہتا ہے کہ اس کے دشمن کی تدبیر کبھی بھی کامیاب نہ ہونے پائے اور کبھی اس کا داؤاس پر نہ چلنے پائے اور یہی عقلمندی بھی ہے کہ انسان اپنے دشمن کو کمزور سمجھنے کے بجائے اس سے ہوشیار رہے، ورنہ بسااوقات کمزور سمجھاگیا دشمن بھی اتنا مضبوط ثابت ہوتاہے جتنااس کے مضبوط ہونے کا خیال ’’حاشیہ خيال‘‘ سے بھی نہیں گذرا ہوتا ہے ۔
ایک انسان بلاشبہ اپنے دشمنوں کے سلسلہ میں محتاط ہے ،لیکن دشمن کی تعیین میں کوتاہ ہے ،عام طور پر جب دشمن کا لفظ بولا جاتا ہے تو انسانی دشمن کی طرف ذہن جاتا ہے ،حالانکہ ایک انسان کے چار دشمن ہیں:ان میں سے ایک دشمن دنیا ہے جس کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ ایک انسان سے دوست بن کر قریب تو ہوتی ہے، لیکن اس کی قربت انتہائی ناپائیداراور وفاداری انتہائی ناقابل اعتماد ہے اورعہد شکنی اور مکاری ہی اس کی پہچان ہے، قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشا د ہے :وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور(قرآن) ’’دنیوی زندگی دھوکے کا سامان ہے ‘‘ ایک دوسری آیت میں ارشادہے :فلاتغرنکم الحیوۃ الدنیا(القرآن) ’’تم کو دنیوی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے ‘‘
دنیا کی اسی دشمنی اور خطرناکی کی وجہ سے انسانوں کے مشفق اعظم حضور اکرم ﷺنے امت کے نام اپنے ایک پیغام میں فرمایا:
انی لست اخشی علیکم ان تشرکواولکنی اخشی علیکم الدنیا ان تنافسوہا
’’مجھے تم سے اس بات کا خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگوگے، بلکہ مجھے تم پردنیا کے حوالے سے خوف ہے کہ کہیں تم اس سے دل لگا لو‘‘(بخاری:۳۷۳۶)
رسول اکرم ا کا یہ اندیشہ کتنا صحیح ثابت ہوا کہ آج امت کی گمراہی اور بہت سے فتنوں کے پیچھے یہی دنیا طلبی پوشیدہ ہے، حتی کہ دین پر دنیا کو ترجیح دے کر مقصد حیات دنیا کو بنالیا گیا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ پوری زندگی کا محور بس دنیا ہی ہے اورآخرت کی فکر ایک فرسودہ خیال بن کر رہ گیا ہے،حالانکہ دنیاکو دین پر ترجیح دینا یا اسے دین سے زیادہ اہمیت دیناحد درجہ ناپسندیدہ عمل ہے ،رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
بئس العبد عبد یختل الدنیا بالدین(ترمذی :۷۲۲۳)
’’سب سے بدترین انسان وہ ہے جسے دنیا دین سے غافل کردے‘‘
مشہور صحابی حضرت ابوالدرداء ؓ نے دنیا طلبی اوراس کی بہتری کی فکر کی بے سودگی کوبڑے اچھے اندا ز میں سمجھایا ہے،فرماتے ہیں:دنیا اس شخص کا گھر ہے جس کے لئے جنت نہیں،اور اس کے لئے مال ودولت وہی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہیں، آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اتنی چیزیں جمع کررہے ہو جنہیں تم کھانہیں پاتے،ایسے مکانات بنارہے ہو جن میں رہتے نہیں،ایسی امیدیں کررہے ہو جنہیں تم پاتے نہیں،سنو تم سے پہلے کہ لوگو ں نے بہت مال جمع کیا ،مضبوط عمارتیں تعمیر کیں،بہت سی امیدوں کو دل میں سجایا ،لیکن ان کا خزانہ برباد ہوگیا، ان کی عمارتیں ان کی قبریں بن گئیں اور ان کی ساری امیدیں دھوکہ ثابت ہوئیں‘‘(تہذیب الکمال : ۱۴ ؍۱۶)
یہ ہے دنیا کی حقیقت کہ اگر اس کو ہی مقصد حیات سمجھ لیا جائے اور اس کی بہتری کی فکر کو زندگی کا مقصد بنالیا جائے تو یہ دنیا انسان کی آخرت کی بربادی کا سبب ہے،لیکن دنیا کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ یہ آخرت کی کھیتی ہے ، یہاں کے نیک اعمال کے ذریعہ اخروی زندگی بہتر ہوتی ہے،چناں چہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :الدنیا مزرعۃ الآخرۃ’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے ‘‘
اسی پس منظر میں حضرت عثمان بن عفان ؓ کا وہ قول بھی ہے جو آپ نے اپنی مجلس میں فرمایاکہ دنیا ہماری آخرت کا توشہ ہے اور دنیا ہی میں ہمارے وہ اعمال انجام دئے جاتے ہیں جن کا بدلہ ہمیں آخرت میں ملے گا ۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جو دعا سکھائی ہے اس میں صرف آخرت کی بھلائی کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ دنیا کی بھلائی بھی اس میں مذکورہ ہے :
ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار(قرآن)
’’اے ہمارے رب ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عنایت فرما اور جہنم کی آگ سے ہمیں بچادے‘‘
اس لئے اصل کامیابی اس میں ہے کہ دنیا کہ ان دونوں پہلؤوں پر نظر رکھی جائے اور اس کے جس پہلو سے آخرت سنور رہی ہے اس کو اختیار کیا جائے اور دوسرے سے اجتناب کیا جائے۔
حضرت ابراہیم ادہم ؒ سے ابواسحاق نے خیریت کی دریافتگی کا جواب دیتے ہوئے کیا ہی خوب حقیقت کو واضح کردیا ہے ،فرماتے ہیں :
نرقع دنیانا بتمزیق دیننا ٭ فلا دیننا یبقی ولا ما نرقع
فطوبی لعبد آثر اللہ ربہ ٭ وجــاد بدنیــاہ لما یتوقع
’’دین کی آمیزش کے ساتھ ہم دنیا کو پروان چڑھاتے ہیں،اس سے نہ تو ہمارا دین باقی رہتا ہے اور نہ ہی دنیا کی ترقی ہوتی ہے ،مبارک بادی کے قابل تو وہ آدمی ہے جس نے اللہ رب العزت کو ترجیح دی اور اپنی دنیا کے ساتھ آخرت کوسنوارا‘‘(حلیۃ الاولیاء:۸؍۱۰)
انسانوں کا دوسرا دشمن نفس ہے ،اسی کے بارے میں قرآن میں اللہ عزوجل کا ارشا ہے :ان النفس لامارۃ بالسوء’’بیشک نفس برائیوں کا حکم دینے والا ہے‘‘ نیز اسی کے بارے میں رسول اللہ ﷺکاارشاد ہے :بے شک تمہارا سب سے بڑا دشمن نفس ہے جو تمہارے دونوں پہلو میں ہے (قرطبی)
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نفس کی لا متناہی چاہت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ان نفسی ہذہ نفس تواقۃ وانہا لم تعط من الدنیا شیئا الا تاقت الی ماہو افضل منہ
’’ہمارا یہ نفس لالچی ہے، اسے جب بھی دنیاکی کوئی چیز دی جاتی ہے تو وہ اس سے افضل کی لالچ کرنے لگتا ہے‘‘(تہذیب الکمال:۴؍۳۳۲)
نفس کی اسی لا متناہی چاہت پر بند لگانے کے لئے رسو ل اللہ ﷺیہ دعا کیا کرتے تھے:
اللہم انی اعوذبک من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعوۃ لا یستجاب لہا(مسلم:۴۸۹۹)
’’اے اللہ میں آپ کی پناہ چاہتا ہوںایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو ،ایسے دل سے جس میں تیرا خوف نہ ہو ،ایسے نفس سے جسکی سیرابی نہ ہواور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو‘‘
جلیل القدرعابد وزاہد تابعی ابو العنبس عیسیٰ شامیؒ فرماتے ہیں کہ تم نے اگر نفس کی اصلاح کرلی تو اس کی اصلاح کی وجہ سے کسی بگڑے ہوئے انسان کا فتنہ وفساد تجھے متاثر نہیںکرسکتااور اگر تم نے اس کو بگاڑ رکھا ہے تو اس کے بگاڑ کی وجہ سے کسی صالح کی صالحیت سے تم نفع نہیں اٹھاسکتے۔(تہذیب :۲۰؍۴۹۸)
شیخ احمد رومی رحمۃ اللہ علیہ مجالس الابرارمیں نفس کے بارے میں لکھتے ہیںکہ برائی کا حکم دینا نفس کی عادت ہے ،کیونکہ وہ ظالم وجاہل پیدا کیا گیا ہے ،علم اور عدل تو اس پر عارضی ہوتا ہے ،اگر اس پر اللہ تعالی کی رحمت اور اس کا فضل نہ ہو تو وہ جاہل کا جاہل او ر ظالم کا ظالم ہی رہے،اور شیطان کی جماعت میں بھرتی ہوجائے اور اپنے فرمانبرداروں کو گناہ اوررحمن کی مخالفت کی طرف کھینچ لے جائے ،کیونکہ وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے تو مخالفت ہی کے میدان میں چلتا ہے اور آدمی اپنی کوشش سے اس کو بری خواہش سے روکتا ہے چناں چہ جس نے اس کی باگ ڈھیلی چھوڑدی وہ فساد میں اس کا شریک ہے۔( مجالس الابرار:۴۴۴)
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ نے نفس کو برائیوں پر آمادہ کرنے والا بناکربھی اسے انسانوں کی گرفت میں اس طرح دے رکھا ہے کہ انسان اس کو صالح بناسکتا ہے ،چناں چہ جب انسان خوف خدا کوذہن میں بٹھا کر نفس کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ہے تو رفتہ رفتہ یہ نفس خود برائیوں پر ملامت کرنے والا بن جاتا ہے اسی کو قرآن میں’’ نفس لوامہ‘‘ کہا گیا ہے(سورۂ قیامۃ)اسی طرح جب کوئی انسان نفس کے خلاف مجاہدہ کرتے کرتے اپنے نفس کو اس حالت میں پہونچادیتا ہے کہ اس میں برائیوں کا تقاضہ ہی باقی نہیں رہتاتو یہی نفس نیکیوں کا خوگر بن جاتا ہے اسی کو قرآن میں ’’نفس مطمئنہ‘‘ کہا گیا ہے (سورۂ فجر)
شیخ احمد رومی رحمۃ اللہ علیہ کی تصریح کے مطابق چونکہ نفس کا علم وعدل اور اس کی خوبیاں عارضی ہیں، اس لئے اس کے’’ لوامہ‘‘ یا’’ مطمئنہ‘‘ بن جانے کے بعد بھی اس کی نگہداشت اور اس کی فطری صلاحیت کو پیدا کرنے والی چیزوں سے احتیاط ضروری ہے، اس لئے کہ مجاہدہ اور نفس کے خلاف جنگ کے بغیر نفس کا اس حالت پر قائم رہنا یقینی نہیں ،بلکہ پچھلی فطری حالت پر لوٹ جانے کا زیادہ امکان ہے،کیونکہ کسی چیز کی اصلیت اورفطرت اسی وقت تک چھپی رہتی ہے جب تک اس کی اصلیت کو کوئی چیز چھپائے رکھے،فطرت کا ادب پر غالب آجانا ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔
انسانوں کا تیسرا دشمن شیطان ہے ،اور یہ تو ایسا دشمن ہے جس نے انسان کی تخلیق کے ابتدائی عہد سے ہی ’’انسان دشمنی ‘‘کی قسم کھارکھی ہے اور ہر طرح سے نقصان پہونچانے کا عہد کررکھا ہے ،اس کی دشمنی کو قرآن نے صریح دشمنی قراردیا ہے ،اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدوا انما یدعوحزبہ لیکونوامن اصحاب السعیر
’’بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے، اس لئے تم اسے دشمن بنالو،وہ اپنی جماعت کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ جہنمی بن جائیں‘‘(قرآن)
ایک دوسری آیت میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
ان الشیطان لکم عدو مبین
’’ بیشک شیطان تمہارا کھلا ہو ادشمن ہے ‘‘
انسانوں کا چوتھا دشمن انسانی شیطان ہے،یہ دشمن درحقیقت جنی شیطان یا بلفظ دیگر حقیقی شیطان سے زیادہ خطرناک ہے، اس لئے کہ حقیقی شیطان صرف وسوسوں کے ذریعہ انسان کو بہکاتا ہے، لیکن انسانی شیطان انسان کا دوست بن کر اسے گمراہی کی جگہ پہونچادیتا ہے اور ہروقت اس کے ساتھ رہ کراس کو برائیوں کا عادی اور خوگر بنادیتا ہے اسی لئے نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :
لا تصحب الا مومنا ولایاکل طعامک الاتقی(مسند احمد:۱۰۹۰۹)
’’ مومن کے سوا کسی او ر کے ساتھ نہ رہو اور تمہارا کھانا صرف متقی کھائے ‘‘
اس لئے کہ اس کے ساتھ بیٹھنے اور اس سے ملنے جلنے سے اس کے برے اثرات اور بری خصلتیں رفتہ رفتہ منتقل ہوتی جائیں گی اور برے کی صحبت اختیار کرنے والا سادہ لوح اور نیک دل انسان بھی اس کے رنگ میں رنگ جائے گا،ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :
المرء مع من احب(بخاری :۵۷۰۲)
’’انسان کا حشر اس شخص کے ساتھ ہوگا جس سے اس کی دوستی ہے ‘‘
غور کرنے سے اس کی یہی حکمت معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان برے انسان کی صحبت میں رہتا ہے تو اس کی برائیاں اس میں بھی منتقل ہوجاتی ہیں اور بالآخر وہ اس دنیا سے ان ہی برائیوں کے ساتھ رخصت ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب دونوں میں برائی اور بداعمالی کے اعتبار سے یکسانیت ہے تو حشر اور انجام میں بھی یکسانیت ہوگی۔
یہی وہ دوستی ہے جو قیامت کے دن انسان کے لئے قابل افسوس بنے گی اور دشمنی میں بدل جائے گی قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :متقی دوستوں کے علاوہ سارے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔(قرآن)
اسی دوستی کے متوالے آخرت میں حقیقت سامنے آجانے کے بعد افسوس کرتے ہوئے کہیں گے :کاش کہ میں فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا (قرآن) کاش کہ میرے اور تیرے درمیان مشرقین کے درمیان فاصلہ کے برابر فاصلہ ہوتا(قرآن)
اس کے برخلاف نیک لوگوں کی دوستی انسان کو خدا سے قریب کرتی ہے اور گمراہیوں سے بچاتی ہے اور یہی دوستی ایسی ہے جو قیامت میں بھی باقی رہے گی اور دشمنی میں تبدیل نہیں ہوگی ،اس لئے دوست کے انتخاب سے پہلے صحیح دوستی کے معیار کو سامنے رکھنا عقلمندی ہے ،اور صحیح دوستی کا معیار یہ ہے کہ اس سے آخرت آباد ہو اور بری دوستی کی علامت یہ ہے کہ اس سے برائیوں کی رہنمائی ہو اور آخرت برباد ہو،حضرت ابوالدرداء ؓ کا ارشادہے کہ انسان کی راہ اور اس کی دوستی سے اس کی سمجھ کا اندازہ لگتا ہے (الآداب الشرعیہ)
نیز حضرت علی ؓ کا ارشا ہے : اس انسان کی صحبت اور قربت میں کوئی بھلائی اور خیر نہیں جس میں یہ خصلتیں ہوں کہ جب وہ تم سے بات کرے تو جھوٹ بولے ، تیری امانت میں خیانت کرے ،تیرے پاس امانت رکھ کر تم پر تہمت لگائے ،تیرے احسانات کی ناشکری کرے اور تم پر احسان کرے تو احسان جتلائے(الآداب الشرعیہ)
حضرت علی ؓ ہی ارشاد گرامی ہے:بیوقوف اور گناہوں میں مبتلا انسان کو دوست نہ بناؤ،بیوقوف کو تو اس لئے دوست نہ بناؤ کہ اس کا تمہارے پاس آنا جانا تمہارے لئے باعث ذلت بنے گااور گناہوں میں مبتلا انسان کو اس لئے دوست نہ بناؤ کہ اپنی بداعمالیاں تمہیں سکھادے گا اور اس کی خواہش یہ ہوگی کہ تم بھی اس کے جیسے بن جاؤ(الآداب الشرعیہ)
حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:فسق وفجور میں مبتلا انسان کے ساتھ مت چلو ورنہ وہ تمہیں اپنی برائیاں سکھادے گااور نہ ہی اسے اپنی راز کی باتیں بتاؤ،اور اپنے معاملات میں صرف ان لوگوں سے مشورہ کرو جن کے دل میں خوف خدا ہو (الآداب الشرعیہ)
عدی بن ثابت نے دو شعرمیں بڑی عمدہ بات بیان فرمائی ہے،جن کے بارے میںعلامہ اصمعی فرماتے ہیں کہ میں نے عدی بن ثابت کے ان دوشعروں سے زیادہ کسی بھی شاعر کاکوئی شعر سنت نبوی کے مشابہ نہیں پایا،عدی بن ثابت فرماتے ہیں:
عن المـرء لاتسـئل وسـل عن قـرینــہ٭فــکل قــرین بالمــقـارن یقــــتدی
وصاحب اولی التقوی تنل من تقاہم ٭ولاتصحب الاردی فتردی مع الردی
’’کسی انسان کے بارے میں مت پوچھو بلکہ( اس کے حالات معلوم کرنے کے لئے )اس کے دوست کے بارے میں پوچھو،کیونکہ ہر دوست اپنے دوست کی پیروی کرتا ہے ،تقوی والوں کے ساتھ رہو،تم ان کا تقوی حاصل کرلوگے،اور برے لوگوں کے ساتھ نہ رہو ورنہ تم بھی بروں کے ساتھ برے بن جاؤگے‘‘
اس لئے دوستی کے آغاز سے پہلے سچے ،مخلص اوردینداردوست کا انتخاب کرنا ضروری ہے، تاکہ اس سے اخروی زندگی کی بربادی نہ ہوبلکہ وہ نیکیوں میں مددگار ثابت ہواور اس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ نیکیوں کے مواقع نصیب ہوں۔٭٭٭
Login Required to interact.

