مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
حالیہ دنوں میں’’کرونا وائرس‘‘ کی وجہ سے جو بےچینی پیدا ہوئی ہےاس سے انسانی زندگی مختلف پہلووں سے متاثر ہوئی ہے، اس وائرس کی روک تھام اور اس سےبچاؤ کی خاطرجو مختلف احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں ان میں سب سے اہم یہ ہےکہ کسی مقام پر معتدبہ تعداد میں لوگوں کےجمع ہونے اور اختلاط پر روک لگائی گئی، سعودی حکومت نے اسی اجتماع اور اختلاط اور مختلف ممالک اور علاقوں سےلوگوں کی آمد وروفت پر روک لگانے کے ساتھ عمرہ پر پابندی عائد کردی ،بیت اللہ کا حصار کرکے مطاف کو بھی بالکل خالی کردیا ، بہت ہی معمولی تعداد میں لوگوں کو مسجد حرام کے اندر سے یا چھت پر طواف کی اجازت ملی، جس کی وجہ سے پورا حرم خالی ہوگیا، اس صورت حال نے پوری دنیا کے مسلمانوں کوجھنجھوڑ کررکھ دیا اور بہت ہی تکلیف اور صدمہ سے دوچار کیا ۔
اسی بیچ عوام کے درمیان ایک حدیث شوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لوگوں نے عمرہ اور طواف کے اس تعطل کوقیامت کی علامت سے جوڑنا شروع کردیا اور یہ تأثر دینا شروع کردیا کہ موجودہ عمرہ اور طواف کا بندہونا گویا قیامت کی انتہائی قریبی اور بڑی علامتوں میں سے ایک علامت کا پورا ہونا ہے، ایسی صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ اس حدیث کاصحیح مفہوم اور موجودہ عمرہ کے توقف سے اس کا تعلق واضح ہو ؛ تاکہ غلط فہمی کا ازالہ ہو۔
جو حدیث شیئر کی جارہی ہے وہ امام بخاری ؒ نے بخاری شریف میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لاَ يُحَجَّ البَيْتُ (بخاری : ۱۵۹۳)
’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ خانہ کعبہ کا حج بند نہ ہوجائے‘‘
اس حدیث سے اتنی بات تو واضح ہوتی ہے کہ ’’ بیت اللہ ‘‘کے حج کا بندہوجانا قیامت کی علامت ہے ،اور قیامت کے قریب ایسا ہوگا کہ حج وعمرہ مکمل بند ہوجائے گا، لیکن محدثین اور شارحین حدیث کی باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی خاص واقعہ یا مخصوص احوال کے زیر اثر حج یا عمرہ کا تعطل وتوقف قیامت کی علامت نہیں ہے ، اور مذکورہ حدیث میں حج کے جس تعطل وتوقف کا ذکر ہے اور جو قیامت کی علامت ہے وہ دجال اور یا جوج وماجوج کے ظہور کے بعد ہوگا؛ کیونکہ یاجوج وماجوج کےخروج کے بعد بھی حج وعمرہ ہو گا، چناں چہ مذکورہ الفاظ حدیث سے پہلے امام بخاری نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَيُحَجَّنَّ البَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ (بخاری : ۱۵۹۳)
’’یاجوج وماجوج کے نکلنے کے بعد حج وعمرہ ضرور کیا جائے گا‘‘
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یاجوج وماجوج کےخروج سے پہلےپہلے حج وعمرہ کا موقوف ہونا عارضی ہوگا ، اور دائمی توقف اس کے بعدہی ہوگا، بلکہ علماء نے لکھا ہے کہ دائمی توقف جو کہ قیامت کی قریبی علامتوں میں سے ہے عصائے موسی اور سلیمانی انگشتری کے ساتھ ’’دابۃ الارض‘‘ کے ظہور کے بعد اور یمن کی طرف سے ریشم کی طرح نرم ہوا آنے کے بعدہوگا؛ کیونکہ اس کے بعد ایمان والے بچیں گے ہی نہیں جوحج وعمرہ کریں(تاریخ الاسلام : عبدالرحمن الاشقر)
تاریخ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ حالیہ عمرہ کا توقف کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی متعدد بار ایسے حالات آئے ہیں کہ حج و عمرہ موقوف ہوا، لیکن اسے قیامت کی علامت کے طور پر نہیں دیکھا گیا، مثلا : ۳۱۷ ہجری میں ۸ ؍ ذی الحجہ کو ابوطاہر قرامطی اور اس کے حواریین نے حرم شریف پر قبضہ کرلیا، وہ لوگ اپنے باطل نظریات کے تحت حج کو اعمال جاہلیت میں شمار کرتے تھے، ۸؍ ذی الحجہ کوجب کہ حج شروع ہورہا تھا ابوطاہر قرامطی خانہ کعبہ کے دروازہ پر کھڑا ہوکر اپنے ہمنوا لوگوں سے مخاطب ہوا اور اس نے حجاج کرام کو کافر قراردیتے ہوئے انہیںقتل کرنے کا اعلان کیا ، پھر کیا تھا تقریبا دس ہزار کے قریب حجاج کرام شہید ہوئے ، حتی کہ غلاف کعبہ تھامے ہوئے کتنے ہی حجاج نے شہادت کو گلے لگایا، تقریبا تین ہزار حجاج کرام کی نعشوں کو زمزم کے کنواں میں ڈال کر اسے بند کردیا، حجر اسود کو اکھاڑ کر خانہ کعبہ کی دیواروں کو نقصان پہونچایا،اور جاتے جاتے حجراسود کو اپنے ساتھ بحرین میں واقع مقام ’’ہجر ‘‘لے گیا،جس کی وجہ سے تقریبا بیس سالوں تک حجر اسود خانہ کعبہ سے دور رہا ،اور اس وقت قرامطیوں کا ایسا خوف ہر طرف پھیلا ہوا تھا کہ۳۱۷ ھ کے بعد سے کئی سالوں تک حج رکا رہا۔(تاریخ الخلفاء للسیوطی: ۲۷۸)
اس کے علاوہ بھی متعدد حوادث وحالات کی وجہ سے ماضی میں حج وعمرہ میں کلی یا جزوی تعطل وخلل پیدا ہوا، جو حالات بدلنے کے بعد دوبارہ بحال ہوگیا ، علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہےکہ سن ۳۵۷ ہجری میں ایک خطرناک ’’وبا‘‘ مکۃ المکرمۃ اور اطراف کے علاقہ میں پھیل گئی جس میں بہت زیادہ تعداد میں لوگوں کی موت واقع ہوئی ، حج کے لئے نکلنے والے بہت ہی تھوڑے لوگ مکۃ المکرمۃ تک پہونچ سکے یا حج تک زندہ رہ سکے ،اور ان میں سے بھی اکثر لوگ حج کےبعدوبا کا شکار ہوگئے جس سے وہ دارفانی سے کوچ کرگئے۔(البدایۃ والنہایۃ : ۱۱؍۳۰۱)
ان تفصیلات کا ماحصل یہ ہے کہ یاجوج و ماجوج سے پہلے پہلے کسی خاص واقعہ وحادثہ کی وجہ سے حج وعمرہ کا موقوف ہونادائمی نہیں بلکہ وقتی اور عارضی ہوگا جو حالات کے بدلنے کے بعد بفضلہ تعالی دوبارہ بحال ہوتا رہے گا،اور اس عارضی توقف کو قیامت کی قریبی علامت کے طور پر سمجھنا اور بتانا اور حدیث میں ذکر کردہ دائمی توقف کا اسے مصداق سمجھنا درست نہیں ہے ، اللہ حرمین شریفین کے تقدس کی حفاظت فرمائے اورہمیں وہاں کی باربار حاضری نصیب فرمائے۔
Login Required to interact.

