مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
===
نماز کے مختلف ارکان میں تلاوت واذکار ہیں جنہیں پڑھنا ضروری یا مسنون ومستحب ہے، بعض نمازپڑھنے والے اس طرح نماز پڑھتے ہیں کہ تعجب ہوتاہے کہ اتنی جلدی سورۂ فاتحہ یا اس کے ساتھ کسی چھوٹی سی چھوٹی سورت کی تلاوت انہوں نے کیسے مکمل کرلی، کل عشاء کی نماز کے بعد ایک صاحب کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کی دوسری رکعت کے شروع ہوتے ہی میں نے سورۂ فاتحہ کی( پست آواز میں سِرّی نماز میں پڑھنے کی طرح) تلاوت شروع کی ، ابھی میں اِیَّاکَ نَعْبُدُ شروع ہی کیا تھا کہ وہ رکوع میں چلے گئے، اورجب میں سورہ فاتحہ مکمل کررہا تھا تو وہ سجدہ میں تھے، یعنی اتنے کم وقفہ میں انہوں نے سورۂ فاتحہ بھی پڑھ لی، اس کے بعد مطلوبہ قرأت: چھوٹی تین آیات یا ایک طویل آیت کی تلاوت بھی کرلی، رکوع اور اس کے اذکارسے فارغ ہوکرسجدہ میں پہونچ کر اس کے اذکار سے فارغ ہوکر اس سے اٹھنے کے قریب ہوگئے، مجھے بڑا تعجب اس لئے ہوا کہ آخر وہ کس رفتار سے پڑھے ہوں گے اور اس رفتار میں کیا قرآن اور اذکار نماز پڑھنا ممکن بھی ہے؟ !بظاہر تمام الفاظ کے تلفظ کے ساتھ اتنے کم وقت میں سِری تلاوت وذکر ممکن نہیں ہے، ہاں ہوسکتا ہے کہ زبانی تلفظ کے بجائےذہنی تلفظ واستحضار پر اکتفاء کیا جائے۔
یہ صرف ایک صاحب کی بات نہیں ہے مساجد میں بکثرت ایسے لوگ دِکھتے ہیں جن کی نماز بہت جلد مکمل ہوجاتی ہے اور جب وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے ہوں تو آپ انہیں دیکھیں تو ان کی ہونٹوں میں حرکت نہیں دکھے گی یا صرف نہ کہ برابرہی حرکت دکھے گی۔
نماز میں قرات کس طرح ہو اورقرآن واذکار کو کس طرح پڑھنا معتبر ہے اس سلسلہ میں فقہاء کرام نے تفصیل لکھی ہے، بہت سے فقہاء کی رائے یہ ہے کہ’’ جہر ی تلاوت‘‘ یہ ہے کہ پڑھنے کی آواز دوسرے سنیں اور’’ سِری تلاوت‘‘ یہ ہے کہ زبان سے اس طرح تلفظ ہو کہ پڑھنے والا خود سنے، فقہاء احناف میں سے فقیہ ابوجعفر الہندوانی ؒ، امام جلیل ابوبکر محمد بن فضل البخاریؒ ، امام شافعی ؒوغیرہ اسی کے قائل ہیں، لیکن امام کرخیؒ، فقیہ ابوجعفر الاعمشؒ ؒ وغیرہ اس کے قائل ہیں کہ جہر یہ ہے کہ آواز اتنی اونچی ہو کہ کم از کم پڑھنے والے کے کانوں تک پہونچ رہی ہو، اور ’’سری تلاوت‘‘ یہ ہے کہ زبان سے حروف کا صحیح تلفظ ہو جائے۔ (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی: ۱؍۲۹۶، فتح القدیر: ۱؍۳۳۱)
اس دوسرے قول یعنی امام کرخی ؒ وغیرہ کے قول میں وسعت ہے، اور اگر اسی قول کی روشنی میں غور کیا جائے تو نماز میں مطلوبہ قرأت وا ذکار کے درست اور معتبر ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ پڑھنے والاسورۂ فاتحہ ، آیت وسورت اوراذکار کو کم از کم اس طرح پڑھے کہ اس کی زبان سے ان کے الفاظ کا صحیح تلفظ ہوجائے بصورت دیگر وہ پڑھنا معتبر نہ ہوگا، اورضروری قرأت کے نہ ہونے کی وجہ سے نماز درست نہ ہوگی، اور یہ فطری اور آزمودہ بات ہے کہ حروف کے صحیح تلفظ کے لئے زبان وہونٹ میں حرکت ضرور ہوتی ہے اور یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ سکون سے تلاوت ہو، ورنہ حروف کی صحیح ادائیگی نہیں ہوسکتی، جب کہ تلاوت کے صحیح اور معتبر ہونے کے لئے حروف کی صحیح ادائیگی ضروری ہے۔
لیکن ان دونوں اقوال میں سے پہلا قول جو کہ فقیہ ابوجعفر الہندوانی ؒوغیرہ کا ہے، اسی کو علامہ محمود بن مازہ حنفیؒ نے زیادہ صحیح قرار دیا ہے، علامہ ابن ہمام ؒبھی اسی کے قائل ہیں(المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی: ۱؍۲۹۶، فتح القدیر: ۱؍۳۳۱) علامہ ابوبکر بن علی زبیدی ؒ اسی کو صحیح قراردیتے ہیں(الجوہرالنیرۃ : ۱؍۵۶) علامہ ابن نجیم مصریؒ کہتے ہیں کہ اکثر مشائخ کا کہنا ہے کہ’’ جہری تلاوت ‘‘یہ ہے کہ اسے دوسرےسنیں اور’’ سِری تلاوت‘‘یہ ہے کہ پڑھنے والا خود سنےاور یہی فقیہ ابوجعفرہندوانی ؒ کا قول ہے۔(البحرالرائق: ۱؍۳۵۶)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت کے صحیح اور معتبر ہونے کے لئے ضرور ی ہے کہ نماز ی اس طرح تلاوت اور اذکار کرے کہ اس کی زبان سے ادا ہونے والے حروف کی پست آوازاس کی کانوں تک پہونچے، تب ہی اس کی مطلوبہ قرأت معتبر ہوگی اور نماز درست ہوگی۔ نماز میں اس کے خلاف کرنا اور جلدبازی کا مظاہرہ کرنا بہت برا عمل ہے، اور اپنی نماز کو ضائع کرنا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول نما زمیں چوری کیسے ہوسکتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز کے رکوع اور سجدہ کو پورا نہ کرے۔(مؤطا امام مالک : ۵۷۹)
اس لئے اپنی نمازوں کا جائز ہ لیجئے اور اسے صحیح کیجئے، اپنے دوست واحباب کو بھی یہ مسئلہ بتائیے تاکہ ان کی نماز ضائع ہونے سے بچ سکے، ورنہ آج کل غفلت کی وجہ سے بہت سے لوگوں میں جوطریقہ چل پڑا ہےکہ وہ زبان کی معمولی سی حرکت کے ساتھ ذہنی اور دماغی طور پر تلاوت وذکرکرتے ہیں وہ درست نہیں ہےاور ایسے لوگوں کی نماز کسی بھی صورت درست نہیں ہوسکتی ہے۔
Login Required to interact.

