مدحت مدینہ

زبان وادب
(مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ)
مدینہ مسکن دیں حزب ایماں کا ہے میخانہ
یہیں پیتا ہے وحدت کا پیالہ بھر کے مستانہ
٭
غلامانِ محمد کو سکوں یاں آکے ملتا ہے 
یہاں عشاق دیتے ہیں دلوں کا جاں کا نذرانہ
٭
یہاں کی ہر گلی نے چوم رکھا ہے قدم ان کا
مقدس اس زمین پر تھا نبوت کا وہ کاشانہ
٭
یہیں لگتا تھا وہ دربار جس کی شاں نرالی تھی
فقیرانہ تھا جس کا حال پر آداب شاہانہ
٭
یہاں جود وسخا الفت ، محبت کی نوازش تھی
نگاہِ کرم میں ان کی نہ ہوتا کوئی بیگانہ
٭
یہیں صدیق وفاروق و علی ، عثماں کے جلوے ہیں
یہیں پر قبر اطہر میں ہے وہ ذات کریمانہ
٭
الہی بھیج دے عارفؔ کو اُس ارض مقدس پر
پھرے محبوب گی گلیوں میں یہ مانند دیوانہ
٭٭٭
Login Required to interact.