تحریر:مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
====
اسلامی تاریخ میں غزوۂ بدر بہت ممتاز اور معروف غزوہ ہےجو کہ ۱۷؍ رمضان سن ۲؍ ہجری میں پیش آیا ، جنگی قوت سے لیس مشرکین کی کثیر تعداد کے مقابلہ میں بے سروسامان ۳۱۳ صحابہ کرام حق وباطل کی جنگ لڑنے اور حق کی حمایت اور اسلام کی حفاظت کے لئے مدینہ سے ڈیڑھ سو کیلو میٹر سے زائد فاصلہ پر واقع مقام ’’بدر‘‘ پہونچے، جہاں ان کا مشرکین سے سامنا ہوا ، یہ غزوہ اسلامی غزوات میں سب سے بڑا غزوہ ہے اس لئے کہ اسلام کی عزت وشوکت کی ابتداء اسی غزوہ سے ہوئی،اور مسلمانوں کو اللہ عزوجل کی رحمت سے ظاہری اور مادی اسباب کے بغیرمحض غیب سے قوت حاصل ہوئی، اور کفار کو ایسی کاری ضرب لگی کہ ان کی ہمتیں پست ہوئی گئیں، اس لئے اس دن کو قرآن نے ’’ یوم الفرقان‘‘ سے تعبیر کیا ہے ، یعنی اس دن جو جنگ ہوئی ہےاس سے حق وباطل اور ہدایت وضلالت میں فرق ہوگیا۔
اس غزوہ میں حضرات صحابہ کرام مکمل بے سروسامان تھے ، نہ کوئی تیاری تھی اور نہ ہی ان کے پاس جنگ لڑنے کے لئے تیر وتلوار اور سواریاں تھیں۔پوری جماعت کی سواری کے لئے صرف دوگھوڑے اور ستر اونٹ تھے، سفر اس طرح طے ہورہا تھا کہ بقول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ: تین لوگوں میں ایک اونٹ تھا، جس پر باری باری سوار ہوتے تھے۔رسول اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ تینوں حضرات بھی یکے بعد دیگرے اونٹ پر سوار ہورہے تھے،یقینا یہ تقسیم ان دونوں صحابہ کرام کے لئے بہت ہی آزمائش والی تقسیم تھی،کیونکہ ان حضرات کو نبی اکرم ﷺ کی معمولی مشقت بھی گوارا نہ تھی، بلکہ آپ کی راحت کی خاطرجاں نثار ہونا یہ حضرات اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے، چناںچہ جب ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کے سواری سے اترنے اور دوسرے رفیق سفر کے سواری پر سوار ہونے کا وقت آیا تو ان دونوں حضرات نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کی باری کے وقت بھی آپ ہی سوار رہیںاور انہیں پیادہ چلنے کی اجازت دے دیں، لیکن دوسری طرف رسول اکرم ﷺ کا بھی یہ مزاج تھا کہ اپنی راحت کی خاطر کسی کی تکلیف آپ کو گوار نہ تھی، بلکہ آپ صحابہ کرام کے درمیان اپنے لئے کوئی امتیازی شان پسند نہیں فرماتے تھے، بلکہ ہر موقع پر آپ صحابہ کے قدم بہ قدم رہتے اور مشقت وتکلیف میں خود کو شریک رکھتے تھے، اس لئے آپ ﷺ نے اس پیشکش اور ایثار کو سننے کے بعد فرمایا:
ما أنتما بأقوى منّي على المشي، ولا أنا بأغنى عن الأجر منكما!!(مسند احمد: ۴۰۰۹)
’’تم دونوں چلنے میں مجھ سے زیادہ قوی نہیں ہواور میں تم سے زیادہ خدا کے اجر سے بے نیاز نہیں ہوں‘‘
یعنی میں تم دونوں سے زیادہ پیادہ چلنے پر قادر ہوں اور تم دنوں پیادہ چل کر زیادہ اجر حاصل کرنا چاہتے ہو تو میں بھی اسی اجر کی طلب گار ہوں اور تمہاری ہی طرح میں بھی اجر وثواب کے حصول سے بے نیاز نہیں ہوں۔
یہ واقعہ آپ ﷺ کے بے مثل تواضع اور صحابہ کرام کے ساتھ آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کا مظہر ہے ، اور اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ ﷺ ہر مشکل موڑ پر صحابہ کے ساتھ رہتے تھےاور خود کو مشقتوں کے تحمل میں شریک رکھتے تھے، جیسا کہ مسجد نبوی کی تعمیر اور غزوہ ٔ خندق کے موقع پر طویل خندق کی کھدائی میں بھی آپ ﷺ صحابہ کے قدم بہ قدم رہے،اور اسی خندق کی کھدائی میں بھوک وپیاس سے جہاں صحابہ کرام دوچار تھے وہیں رسول اللہ ﷺ بھی اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر کھدائی میں مصروف تھے۔اور اسی دوران جب حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ ﷺکے کھانے کا انتظام کیا گیا تو اس میں بھی آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ ان کو ساتھ لے کر حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔
جب جحۃ الوداع کے موقع پرآپ چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے لئے خصوصی قسم کے شربت کا انتظام کیا توآپ نے اپنی متواضع طبیعت کی وجہ اس کو پینے سے معذرت کیا اور فرمایا کہ مجھے وہی پانی پلائیں جو عام لوگ پی رہے ہیں۔
یہ ہے اپنے ماتحتوں اور دوستوں کے ساتھ مساوات کی انوکھی اور اعلی مثال جو آپ کے ماننے والوں کو یہ تعلیم دے رہی ہے کہ ہمیشہ دوسروں کی راحت کا خیال رکھیں اور اپنی راحت کی خاطر دوسروں کی مشقت کو ہرگزگوارا نہ کریں بلکہ خود کو اپنے احباب کے ساتھ ذمہ داریوں میں شریک رکھیں اور جو خیر وبھلائی اپنے لئے چاہتے ہوں وہی دوسروں کے لئے بھی چاہیں۔
ولا أنا بأغنى عن الأجر منكما۔ (میں تم دونوں سے زیادہ خدا کے اجر سے بےنیاز نہیں ہوں) آپ ﷺ کے اس ارشاد سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپﷺ خیر اور ثواب کے کاموں کی صرف ترغیب ہی نہیں دیتے تھے بلکہ خود بھی اجر وثواب کے حصول کی کوششیں کرتے تھے اور اس راہ کی مشقتوں کو اللہ کی رضاکی خاطر برداشت کرنے کو بڑی سعادت سمجھتے تھے، آپ ﷺ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ اپنی امت کو یہ تعلیم بھی دی کہ اجر وثواب کے کاموں سے کوئی بے نیاز نہیں ہے ،چاہے وہ بڑا عالم وزاہد ہو یا بڑے جاہ ومنصب والا ہو، ہر ایک کو اللہ کی قربت کے لئے اجر وثواب کے حصول کی کوششیں کرنی ہیں؛ کیونکہ اللہ کے نزدیک دنیاوی القاب وآداب اور مناصب ومراتب کی بنیاد پر قربت وقبولیت نہیں ملتی، بلکہ اجر وثواب والے اعمال کواخلاص کے ساتھ انجام دینے سے ہی اس کی رضا نصیب ہوسکتی ہے اور اس کی قربت وقبولیت مل سکتی ہے۔
Login Required to interact.

