احادیث نبویہ کے معاملہ میں افراط وتفریط

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
 === 
احادیث نبویہ ہدایت کا سرچشمہ ہیں ، اور جس طرح قرآن وحی الہی ہے اسی طرح ’’حدیث نبوی‘‘ بھی وحی الہی کی ایک مخصوص قسم ہےجسے ’’وحی غیر متلو‘‘ کے موسوم کیا جاتا ہے ، اسی لئے احادیث نبویہ کو بھی یہ مقام حاصل ہے کہ وہ حجت ہیں اور ان کے ذریعہ اسلامی احکام مستنبط ہوتے ہیں، اور بہت سے مسائل کی توضیح وتفصیل ہوتی ہے جن کو قرآن نے مجمل بیان کیا ، بلفظ دیگر شریعت کی تکمیل قرآن وسنت دونوں کے مجموعہ سے ہوتی ہے ۔
لیکن ماضی اور حال میں امت کے بعض غیر سنجیدہ افرادنے یا تو ذہنی کجی کی بنیاد پر یا کسی اسلام دشمن طاقت کے آلہ ٔ کار بن کر احادیث نبویہ کے معاملہ میں افراط وتفریط کی راہ اختیار کیا ، اور احادیث نبویہ کو اپنی غلط تحقیق کا نشانہ بناکر امت کے کم پڑھے لکھے لوگوں کو گمراہ کیا ۔
احادیث نبویہ کہ معاملہ میں ایک جماعت ایسی گمراہ ہوئی کہ اس نے احادیث نبویہ کی حجیت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ،ان کے نزدیک احادیث حجت ہی نہیں ، ایسے لوگوں کے بددین اور گمراہ ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں اور ان کی باتوں کو سننے کے قابل وہی سمجھ سکتا ہے جس کے دل میں کجی ہو اور جس کا دل عظمت رسول سے خالی ہو۔
ایک اور جماعت نےاحادیث نبویہ کے معاملہ میں شدت وتعصب کی راہ اختیار کرکے بہت سی احادیث کو ’’جھوٹی احادیث‘‘ کے زمرہ میں داخل کردیا اور انہوں نے محدثین کی اصطلاحات :ضعیف ، موضوع، متروک، مرسل وغیرہ کے مابین فرق کو ختم کرتے ہوئے ان سب کو’’ جھوٹی احادیث‘‘ کے تحت شمار کردیا اور ان سے امت کو روکنا شروع کردیا،اگر واقعی یہ بات صحیح ہوتی تو پھر محدثین کے نزدیک یہ الگ الگ اصطلاحات نہ ہوتیں، حقیقت یہ ہے ان کے مابین بڑا فرق ہے اور حدیث ضعیف ، مرسل کو جھوٹی حدیث کے نام سے موسوم کرنا غلط اور جہالت ہے؛ کیونکہ ضعیف یا مرسل حدیثیں موضوع روایات کی طرح کسی انسان کی من گھڑت باتیں نہیں ہیں بلکہ وہ احادیث ہیں ، البتہ ان کی سند میں راوی کی کمزوری کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ سے ان کی  نسبت کمزور ہوگئی اور اس کمزوی کی وجہ سے ان کو ضعیف کے نام سے موسوم کیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اصطلاحات کے فرق کو باقی رکھتے ہوئے ضعیف کو موضوع کے درجہ میں نہیں رکھا اور موضو عات کے ساتھ ان کو شمار نہیں کیا ، بلکہ تمام مسالک کے فقہاء نے بعض مخصوص حالات ومسائل میں احادیث ضعیفہ سے مسائل کا استنباط کیا ہے ، یہ ایک واضح دلیل ہے کہ ان حضرات نے ذات رسول ﷺ سے اس کی نسبت کی کمزوری کو پیش نظر تو رکھا لیکن انہوں نے اس کو یکسر ’’احادیث نبویہ ‘‘ کے زمرہ سے خارج نہیں کیا ، اسی لئے کسی مسئلہ میں صحیح حدیث نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے ضعیف حدیث کا سہارا لیا اور اس کو بنیاد بنایا، اس کی بہت سی مثالیں ہر مذہب ومسلک کی کتابوں میں موجود ہیں ،بلکہ جو لوگ آج کل ضعیف حدیثوں کو ’’ جھوٹی حدیث‘‘ کہتے ہیں ان کی کتابوں میں بھی بہت سے مسائل کی بنیاد ضعیف حدیثوں پر ہی ہے۔ اگر بالفرض ان کو جھوٹی حدیث مان لیا جائے تو ان کو حجت ودلیل بنانا کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟؟ کیا جھوٹی حدیثوں کو بھی اسلام میں حجت کا درجہ مل سکتا ہے ؟؟
الغرض ضعیف روایات کو جھوٹی حدیثیں کہنا بہت بڑی غلطی ہے ، اصطلاحات سے جہالت ہے اوراحادیث کی توہین ہے ،لیکن افسوس کے مسلکی تعصب میں اس توہین کا ارتکاب وہ لوگ بھی کررہے ہیں جن کو اللہ نے علم عطا کیا ہے ، اور اپنے مسلک کے خلاف کسی مسئلہ کو غلط ثابت کرنے کے لئے بغیر کسی تأمل کے اس حدیث کو جھوٹی حدیث کہہ دیتے ہیں جس حدیث پر اس مسئلہ کی بنیاد ہے ، بلکہ بسا اوقات صحیح احادیث کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا ہے ۔ یہ کس قدر افسوسناک ہے کہ مخالف کو زیر کرنے یا اپنی فکر کو صحیح بتانے کے لئے احادیث کی تعظیم کو مجروح کردیا جائے۔
مثال کے طور پر بعض غیر سنجیدہ افراد کہہ دیتے ہیں کہ رفع یدین نہ کرنے کی ساری حدیثیں غلط ہیں، جب کہ اس مسئلہ کے بارے میں متعدد حدیثیں ہیں جن میں سے بعض اگر ضعیف ہیں تو کئی ایک بالکل صحیح درجہ کی ہیں، غور کیجئے ان حالات میں یہ کہنا کتنی بڑی بے ادبی اور گستاخی ہےکہ اس مسئلہ کی ساری حدیثیں غلط ہیں۔
فیس بک اور واٹس اپ پر رمضان کی فضیلت سے متعلق ایک حدیث کو ’’ جھوٹی حدیث ‘‘ کہہ کر اس کے بارے میں یہ باور کرایا جارہا ہے کہ اب تک جو یہ حدیث ہم سنتے آرہے ہیں وہ حدیث نہیں ہے بلکہ وہ جھوٹی اور من گھڑت بات ہے ۔وہ حدیث یہ ہے : وھوشهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار ۔ (رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ہے درمیانی عشرہ مغفرت ہے اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کاہے )
یہ الفاظ ایک طویل حدیث سے ماخوذ ہیں ، اس طویل حدیث کے راوی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں، اس حدیث کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو محدثین کے نزدیک کچھ کمزور مانے گئے ہیں، ان کی وجہ سے محدثین نے اس حدیث کو ضعیف قراردیا ہے،لیکن موضوع نہیں کہا ہے ، ماضی قریب کے محقق علامہ البانی ؒ نے بھی مشکوۃ المصابیح کی تخریج میں اس حدیث پر ضعیف ہونے کا حکم لگا یا ہے ، اسے موضوع شمار نہیں کیا ہے ، تو جب محدثین کے نزدیک یہ روایت موضوع اور من گھڑت نہیں ہے، صرف ضعیف ہے تو پھر اس کو جھوٹی حدیث کہنا کتنی بڑی جسارت ہے ؟!
اس طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جن کے سلسلہ میں بہت سے لوگ اس طرح کی بدزبانی کررہے ہیں، یقینا ان کی باتیں غلط ہیں اور احتیاط اسی میں ہے کہ ماضی کے محدثین وفقہاء کے طریقہ کو اختیار کیا جائے اور ان کی تحقیق پر اعتماد کیا جائے۔اور ضعیف حدیثوں کو غلط ، جھوٹی یا من گھڑت ہر گز نہ کہا جائے۔
اسی طرح احادیث کے معاملہ میں کچھ لوگ ایسی غلطی کے بھی مرتکب ہیں کہ انہوں نے احادیث کے معاملہ میں تساہل کو اختیار کیا ، اور موضوع روایتوں کوبھی انہوں نے حجت ودلیل بنالیا اور ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو صحیح احادیث نبویہ کے ساتھ ہونا چاہئے، چناں چہ وہ لوگ صحیح احادیث کی طرح موضوع روایات کو بھی بڑے عمدہ انداز میں اپنی تقریروں اور تحریروں میں پیش کرتے ہیں اور ان سے مسائل اور حکمتوں کو مستبط کرتے ہیں، بلکہ بہت سی مرتبہ بعض اکابر کے اقوال کو بھی وہ حدیث کے نام سے بیان کردیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ بہت سی موضوع روایتیںاور اقوال اکابر آج ہمارے درمیان احادیث کے نام سے مشہور ہیں۔ 
ظاہر سی بات ہے کہ یہ عمل بھی غلط ہے ؛ کیونکہ جب کسی روایت کے بارے میں محدثین کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ بات رسول اکرم ﷺ کی نہیں ہے بلکہ کسی نے غلط طریقہ پر اس بات کو جناب رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کردیا ہے توپھر اس کو رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کرنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟ جبکہ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے، آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : 
من تقول علي ما لم أقل، فليتبوأ مقعده من النار( ابن ماجۃ :۳۴)
’’جس نے میری طرف اس بات کو منسوب کیا جو میں نے نہیں کہی ، تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے‘‘
اس لئے کسی بات کو رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کرنے میں احتیاط کرنا چاہئے اور اگرمحققین نے تحقیق کرکے یہ ثابت کردیا کہ یہ بات غلط اور موضوع ہے تو پھر اس کو رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کرنے سے بھی گریز کرنا چاہئے۔
Login Required to interact.