مبارکبادی کے مواقع اور احکام

دینی ،علمی واصلاحی مضامین

تحریر:  مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

=====
مخصوص اوقات اور حالات میں ایک دوسرے کو مبارکبادی پیش کرنا ایک ایسا رواج ہے جسے مختلف مواقع پر اختیار کیا جاتا ہے اور سماجی و سیاسی اعتبار سے بھی بعض موقعوں پر اسے اہمیت دی جاتی ہے ، جس کے لئے کبھی بالمشافہ آمنے سامنے مبارک بادی کے الفاظ کہے جاتے ہیں تو کبھی تحریری طور پر مبارک بادی دی جاتی ہے ، اور آج کل ای میل ، اور میسیج کا اس مقصد کے لئے بہت زیادہ استعمال ہورہا ہے ۔نیز آج کل واٹس اپ اور فیس بک جیسی سہولتوں کی وجہ سے مبارکبادی کے رواج میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ بہت سے مواقع پر ایک دوسرے کو مبارکبادی کے جملے کہے جارہے ہیں اور لکھ کر بھیجے جارہے ہیں، جن میں بعض مواقع شرعی اعتبار سے قابل غور معلوم ہوتے ہیں کہ اس موقع پر مبارکبادی کی کس حد تک گنجائش ہے؟!
عیدین کی مبارکبادی
عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارک بادی پیش کی جاتی ہے ، اور’’ عید مبارک ہو‘‘ کہا جاتا ہے، یا میسیج وغیرہ کے ذریعہ مبارکبادی بھیجی جاتی ہے ،اس موقع پر دی جانے والی مبارکبادی درست ہے اور اس کا ثبوت ہے ،علامہ ترکمانی نے الجوہر النقی میں نقل کیا ہے کہ محمد بن زیادؒ کہتے ہیں کہ میں ابوامامہ الباہلی اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھا، یہ لوگ عید سے فارغ ہوکر واپس ہوتے تو ایک دوسرے کو کہتے :    تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ(الجوھر النقی ۳؍۳۲۰،  واسنادہ جید)
صفوان بن عمر سکسکیؒ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن بسرؓ ، عبد الرحمن بن عائذؓ ، جبیر بن نفیرؓ، اور خالد بن معدانؓ وغیرہ کو دیکھا کہ لوگ انہیں   تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ کہہ رہے تھے، اور وہ لوگوں سے کہہ رہے تھے۔(الترغیب والترہیب:۱؍۲۵۱)
حضرت سعید بن جبیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب عید کے دن جب ایک دوسرے سے ملتے توایک دوسرے کو تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ کہتے تھے ( فتح الباری: ۲؍۴۴۶)
اَدہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ عمر بن عبد العزیز ؒ کو عیدین میں تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ کہا کرتے تھے ، تو وہ اس کا جواب دیتے اور اس سے منع نہیں فرماتے ۔( سنن کبری بیہقی: ۶۲۹۶)
ان روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عید کی مبارکبادی صحابہ کرام سے ثابت ہے اور درست ہے ، البتہ ایک روایت امام بیہقی ؒنے نقل کی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا ہے :
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ النَّاسِ فِي الْعِيدَيْنِ: ” تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ، قَالَ: ذَلِكَ فِعْلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ وَكَرِهَهُ (السنن الکبری للبیہقی: ۶۲۹۷)
’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عید کے دن لوگوں کے  تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ کہنےکے بارے میں میں نےرسول اللہ ﷺ سے پوچھاتو آپ ﷺنے فرمایا کہ یہ یہودونصاری کا طریقہ ہے اور آپ ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا‘‘
قابل غور بات یہ ہے کہ جن روایات میں صحابہ کرام ؓکا معمول منقول ہے ان کی سندین معتبر ، صحیح اور حسن ہیں، جبکہ بیہقی کی مذکورہ روایت کی سند میں عبد الخالق بن زید بن واقد دمشقی ہیں جنہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’ منکر الحدیث ‘‘ قراردیا ہے ،اسی لئے امام بیہقی ؒ نے بھی اس روایت کو نقل کرنے کے ساتھ یہ صراحت کردی ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے ، اس لئے اس روایت سے استدلال درست نہیں ہوسکتا ،جبکہ صحیح سندوں سے حضرات صحابہ کرام سے یہ عمل منقول ہے ، اگر واقعی یہ چیز رسول اللہ ﷺ کو ناپسند ہوتی تو صحابہ کرام میں اس عمل کا رواج نہ ہوتا۔
نیز روایات سے جہاں اس کا ثبوت ہوتا ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ مبارکبادی کے لئے تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكم کہنا چاہئے ؛ کیونکہ یہ دعا ہے اور یہ کہہ کر ایک دوسرے کو یہ دعا دی جاتی ہے کہ اللہ نے تیس روزوں کی توفیق کے بعد جو یہ عید کا دن عطا کیا ہے اللہ میرے اورآپ کے روزوں ، رمضان کی عبادتوں ، اورآج کےدن کی عبادتوں کو قبول فرمائے ۔اسی طرح بقرعید کے موقع پر بھی یہی کہنا چاہئے ۔اور اس کے جواب میں بھی تقبل اللہ منا ومنکم ہی کہنا چاہئے ، جیسا کہ ایک روایت میں ہے ، واثلہ بن اسقعؓ فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن رسول اللہ ﷺ سے ملا تو میں نے آپ ﷺ سے کہا  تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ تو جواب میں آپ ﷺنے فرمایا :   نَعَمْ ، تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ  (سنن کبری بیہقی : ۶۲۹۵)
راشد بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے عید کے دن ابوامامہ باہلی اور واثلہ بن اسقع کو دیکھا کہ دونوں کی ملاقات ہوئی تو دونوں نے ایک دوسرے سے کہا: تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ(الدعاء للطبرانی : ۹۲۸)
البتہ اگر تقبل اللہ منا ومنکم کے بجائے ’’ عید مبارک‘‘ کہا جائے ، یا اس کے علاوہ مبارک بادی کے لئے عرف وعادت کے مطابق کوئی اور جملہ جس میں مبارک بادی اور اظہار محبت والفت کا مفہوم ہواسے اس موقع پر ایک دوسرے سے کہا جائے تو یہ بھی درست ہے ۔علامہ طحطاوی ؒ اور علامہ شامیؒ  فرماتے ہیں کہ شام اور مصر کے علاقوں میں ’’ عید مبارک ‘‘ کہنے کا رواج ہے ، یہ بھی مشروعیت و استحباب میں تقبل اللہ منا ومنکم کے حکم میں ہے ۔(طحطاوی علی المراقی : ۵۳۰ ، رد المحتار: ۲؍۱۶۹)
جمعہ کی مبارکبادی پیش کرنا؟
چند سالوں سے یہ رواج بھی شروع ہوا ہے کہ جمعہ کے دن بعض احباب جمعہ مبارک کہہ کر مبارکبادی پیش کرتے ہیں،اور رمضان کے آخری جمعہ میں تو جمعۃ الوداع کی مبارکبادی توبہت ہی زیادہ دی جاتی ہے ، اور اس مبارک بادی سے فیس بک اور واٹس اپ بھر جاتے ہیں۔اور اس کے لئے جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جمعہ ’’عید المؤمنین ‘‘ہے۔
یہ بات تو درست ہے کہ جمعہ مسلمانوں کے لئے ہفتہ واری عید ہے ، اور ایک روایت میں نبی اکرم ﷺ نے بھی اسے مسلمانوں کی عید کہا ہے ۔(إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين ابن ماجۃ: ۱۰۹۸ )اور علامہ ابن قیم علیہ الرحمہ نے زاد المعاد میں جمعہ کے فضائل وخصائص کی روایات کو جمع کرکے لکھا ہے کہ یہ عید کا دن ہے جو ہر ہفتہ میں ایک بار آتی ہے۔(زاد المعاد فی ہدی خیر العباد:۱؍۳۶۹)
 لیکن جس طرح عیدین : عید الفطر اور عید الاضحی میں مبارکبادی صحابہ کرام اور امت کے اسلاف سے منقول ہے ، جمعہ کے دن کی مبارکبادی ان سے منقول وثابت نہیں ہے ، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ حضرات خیر کے بہت متلاشی اور خوگر تھے اور ہر خیر کو کرگزرنا ان کی کوشش ہوتی تھی ، اگر واقعی اس دن میں مبارکبادی کوئی مستحسن ہوتی تو وہ اسے ضرور اختیار کرتے، ہاں اس سے انکار نہیں ہے کہ جمعہ کا دن فضیلت کا دن ہے اور ہفتہ میں افضل ترین دن ہے ،اور مبارکبادی کی حقیقت یہ ہے کہ یہ دعا ہے ، اور ایک مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کو دعا دینا اچھی بات ہے ، تاہم جب کسی جائز چیز کا رواج ایسا بڑھ رہا ہو کہ اس کے بارے میں بے اعتدالی اور بدعقیدگی کا خدشہ ہو تو ایسی چیزوں کے فروغ کو اسلام روکتا ہے اور ناپسندیدہ سمجھتا ہے ، اس لئے جمعہ کے دن کی مبارک بادی گرچہ فی نفسہ جائز ہے، لیکن جس طریقے سے جمعہ کی مبارک بادی کا رواج چل پڑا ہے اور دن بدن بڑھتا جارہا ہے اس سے یہ اندیشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں لوگ دین اور ثواب سمجھ کر اسےنہ اپنانے لگیں اس لئے اس کو فروغ دینے سے بچنا چاہئے۔بعض حضرات نے جمعہ کے دن جمعہ مبارک کہہ کر کسی شخص کو مبارک باد پیش کرنے کو بدعت قرار دیا ہے تو اس نوعیت کی شدت صحیح نہیں ہے، ہاں ہر جمعہ کو اہتمام کے ساتھ لوگوں کو جمعہ مبارک کہہ کر مبارکبادی دینے کی عادت بنانابھی صحیح نہیں ہے۔
اسلامی سال یا اسلامی مہینوں کی آمد کی مبارک بادی
 مخصوص اسلامی مہینوں کی آمد کی مبارکبادی کابھی بعض احباب اہتمام کرتے ہیں، خاص طور پر ربیع الاول ، رجب اور شعبان اور رمضان کی مبارکبادی کا اہتمام کیا جارہا ہے ، اور اس سلسلہ میں ایک روایت بھی پیش کی جارہی ہے، وہی روایت ربیع الاول کی مبارکبادی کی فضیلت میں پیش کی جارہی ہے تو مہینہ کا نام بدل کر رمضان کی مبارکبادی کی فضیلت کو اسی سے ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، پہلے اس میسیج کو ملاحظہ کریں جو ربیع الاول اور رمضان دونوں کے نام سے موصول ہوا، میسیج یہ ہے :
’’جو بھی ربیع الاول کی مبارک بادی سب سے پہلےدے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی‘‘
’’جو بھی رمضان کی مبارک بادی سب سے پہلےدے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی‘‘
حدیث کی کتابوں میں رمضان یا ربیع الاول کے نام کے ساتھ اس طرح کی کوئی حدیث چاہے ضعیف سند کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو موجود نہیں ہے ،بلکہ یہ بالکل من گھڑت بات ہے جسے جناب رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کرکے پھیلایا جارہا ہے۔حالانکہ کسی بات کو غلط طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا گناہ کبیرہ اور حرام ہے ، اور اس پر جہنم کی وعید ہے ۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
’’جس نے میری جانب وہ بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی ہے تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے‘‘(بخاری: ۱۰۹)
واضح رہے کہ جس طرح غلط منسوب کرنےوالے کے لئے یہ وعید ہے اسی طرح اس کو پھیلانےوالے کے لئے بھی یہی وعید ہے ،علامہ نووی لکھتے ہیں:
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی سنگینی بیان کی گئی ہے، اور جس شخص کو اپنے ظنِ غالب کے مطابق کوئی حدیث جھوٹی لگی لیکن پھر بھی وہ آگے بیان کر دے تو وہ بھی جھوٹا ہوگا، جھوٹا کیوں نہ ہو؟! وہ ایسی بات کہہ رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی(شرح مسلم للنووی: ۱؍۴۵)
اسی طرح کسی خاص مہینہ کی آمد کی مبارکبادی ثابت نہیں ہے، اس لئے اس سے بھی بچناچاہئے دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے ایک فتوی میں ہے :
’’اسلامی مہینوں کے آغاز میں ایک دوسرے کو مبارک باد دینا اور مخصوص قسم کے من گھڑت فضائل سنانا شرعاً اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے‘‘
البتہ ہر مہینہ کا چاند دیکھ کر خود اپنے لئے خیر و برکت کی مسنون دعا کرنی چاہئے، حضرت طلحہ بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مہینہ کا چاند دیکھتے تو یہ دعا کرتے تھے:
اَللَّهُمَّ أَهِلَّهُ علَيْنَا بِالأَمْنِ والإِيمَانِ ، وَالسَّلامَةِ والإِسْلامِ ، رَبِّي ورَبُّكَ اللَّهُ ، هِلالُ رُشْدٍ وخَيْرٍ (مسند احمد: ۱۳۹۷)
’’اے اللہ ! اس چاند کو ہم پر امن اور ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما، اے چاند ! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، اور یہ چاند رشد وہدایت اور خیر کا چاند ہے‘‘
اسی طرح معجم اوسط کی ایک روایت میں ہے کہ صحابہ کرام کسی سال یا مہینہ کی ابتداء کے وقت اس دعا کو پڑھا کرتے تھے:
 اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ، وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ، وَالْإِسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ، وَجَوَازٍ مِنَ الشَّيْطَانِ(معجم اوسط‘ ۶۲۴۱)
’’اے اللہ اس سال یا اس ماہ کو ہم پر امن وایمان ، سلامتی اور اسلام ، رحمن کی خوشنودی اور شیطان سے حفاظت کے ساتھ داخل فرما‘‘
یہ دونوں دعائیں خود پڑھنے کی ہیں، اور اس میں اپنے لئے دعا اور اللہ سے امن وامان اور سلامتی کی فریاد ہے ۔آخر الذکر دعا کو بعض لوگ آج کل اسلامی سال کی ابتداء میں یہ کہہ کر ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ سال کے شروع میں ایک دوسرے کو ان الفاظ میں نئے سال کی مبارکبادی دیا کرتے تھے، یہ بات بالکل ہی غلط ہے ، جیسا کہ خود اس کے معنی سے واضح ہے ، کیونکہ اگر ایک دوسرے کو مبارکباد دینے میں اس دعا کو صحابہ استعمال کرتے تو مخاطب کا صیغہ ہوتا کہ اللہ آپ پر اس سال کو امن وایمان کا ساتھ داخل فرمائے،حالانکہ اس میں اپنے لئے دعا ہے کہ اللہ ہم پر اس کو امن وایمان اور سلامتی کے ساتھ داخل فرمائے، حقیقت یہ ہے کہ کسی ماہ وسال کی ابتداء میں ایک دوسرے کو مبارکبادی دینے کا صحابہ کرام میں کوئی رواج ہی نہیں تھا،آج کل لوگوں نے اس رواج کو غیر مسلموں کی دیکھا دیکھی شروع کیا ہے ،جو یقینا ناپسندیدہ ہے ۔
ہاں فضیلت وعظمت والے ایام واوقات اور مہینوں کی آمد سے قبل اس کی آمد کی بشارت دی جائے، اس کے اہتمام کی تعلیم وتلقین کی جائے اور ان اوقات وایام سے مکمل مستفید ہونے کی دعا دی جائے تو یہ درست ہے ،اور نبی اکرمﷺ نے بھی رمضان کی آمد پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی آمد کی بشارت دی ، اوراس کی اہمیت وفضیلت کو بیان کرکے اس ماہ میں عبادت وریاضت کے اہتمام کی تعلیم دی۔(مسند الشامیین : ۳؍۲۷۱، عن عبادۃ بن الصامتؓ)
نئے عیسوی سال کی مبارک بادی؟
عیسوی سال کی ابتداء میں دھوم اور شور ہنگامہ کا ماحول ہوتا ہے ، اور بڑے پیمانہ پر نئے سال کا جشن منایا جاتا ہے ، اور نئے سال کی آمد کی مبارکباد ی پیش کی جاتی ہے ، حالانکہ کسی سال کی آمد جشن کا موقع نہیں بلکہ یہ احتساب کا موقع ہے کہ ہماری محدود ومتعین عمرمیں ایک سال کی کمی ہوگئی، اس موقع پر یہ محاسبہ کیاجانا چاہئے کہ اس گزرے ہوئے سال کو ہم نے کیسے گزارا ، اور اس کے اوقات سے استفادہ کرکے ہم نے اپنی آخرت کو کتنا کامیاب بنایا ، یا آخرت بنانے کے قیمتی اوقات کو غفلت میں ہم نے ضائع کردیا، بقول شاعر:
ایک اینٹ اور گرگئی دیوار حیات سے
نادان کہہ رہے ہیں نیا سال مبارک
شکیل جمالی کہتے ہیں:
عمر کا ایک اور سال گیا
وقت پھر ہم پہ خاک ڈال گیا
محدود عمر کی حد کوپہونچ کر موت کی آغوش میں جسے جانا ہے اس کے لئے یہ جشن کا موقع نہیں ہے جب کہ ہردن وہ اپنی موت کے قریب جارہا ہے، اور ہر سال کی آمداس خبر کی تجدید کررہی ہے کہ وہ موت سے مزید قریب تر ہوچکا ہے ،اور اس کی عمر مستعار میں سے ایک سال اس سے لے لئے گئے ہیں،اور جشن بھی ہوتو کس بات پر کہ اس آنےوالے سال میں روزوشب وہی ہوں گے اور جس طرح گزراہوا سال گزرگیا ہے ، آنے والا سال بھی گزرجائے گا، بلکہ فتنوں کے دور میںتو حالات یہ بتاتے ہیں کہ ہر بعد کا سال پہلے والے سال سے زیادہ آزمائش والاہوتا ہے ، اس لئے اس موقع پر جشن مناسب ومعقول نہیں ہے۔فیض احمد فیض کہتے ہیں:
اے نئے سال بتا، تُجھ میں نیا پن کیا ہے؟
ہر طرف خَلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی
آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ایک بات وہی
آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زمیں
ايک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرینے تيرے
کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تيرے
جنوری، فروری اور مارچ میں پڑے گی سردی
اور اپريل، مئی اور جون میں ہو گی گرمی
تيرا مَن دہر میں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا
اپنی میعاد بَسر کر کے چلا جائے گا
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہیں نئے سال کئی
بے سبب لوگ دیتے ہیں کيوں مبارک بادیں
غالبا بھول گئے وقت کی کڑوی یادیں
تيری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فيض نے لکھی ہے یہ نظم نرالے ڈھب کی
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس موقع پر جشن منانا اور ایک دوسرے کو مبارکبادی پیش کرنا درست نہیں ہے ، اور مسلمانوں پر اس سے بچنا لازم ہے ؛ کیونکہ اس میں جہاں دیگر خرافات ہیں وہیں اس میں تشبہ بالکفار ہے ،کیونکہ یہ جشن غیر مسلموں بالخصوص نصاری کی ایجاد ہے۔اور قرآن وحدیث میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ تشبہ سے روکا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : 
من تشبه بقوم فهو منهم(ابوداؤد:۴۰۳۱)
’’جس سے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان میں سے ہی ہے‘‘
مکہ مکرمہ کی فتویٰ کمیٹی نے اس بابت فتویٰ صادر کرتے ہوئے فرمایا کہ سنت یہ ہے مسلمانوں کے دینی، اسلامی شعائر کا اظہار کیا جائے اور ترکِ اظہار رسول اللہﷺ کی مخالفت ہے ، جب کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد یہ ہے :تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاے راشدین کی سنت پر عمل کرو۔(ابوداود) مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کافروں کی عیدوں میں شرکت کریں، ان کی عیدوں کے موقعے پر فرحت و مسرت کا اظہار کریں اور اپنے دینی اور دنیوی کاموں کو روک دیں، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے ساتھ مشابہت ہے ، جو کہ حرام ہے اور رسول اللہﷺنے فرمایا:جو کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے ، وہ اُنہیں میں سے ہے۔(فتاویٰ اسلامیہ)
شیخ صالح المنجد ایک فتوی میں لکھتے ہیں کہ عیسوی سال کی ابتداء کی مناسبت سے ایک دوسرے کو مبارک بادی پیش کرنا اور اس کا جشن منانا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے ؛ اس لئے کہ اس میں کفار سے تشبہ ہے ، جب کہ ہمیں اس سے روکا گیا ہے ۔( الاسلام سوال وجواب: 177460)
اس لئے اس موقع پر جشن منانے یا اس سال کی آمد پر ایک دوسرے کو مبارکبادی پیش کرنے سے مسلمانوں کو بچنا چاہئے۔
شادی کے وقت زوجین کو مبارکبادی
رشتہ ٔ ازواج اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ، جب انسان نکاح کرتا ہے تو اسے ازدواجی زندگی کی نعمت حاصل ہوتی ہے اور اس کے دین کی تکمیل ہوتی ہے، اس موقع پر زوجین کو خیر وبرکت کی دعا دینا اسلام میں مطلوب اور پسندیدہ ہے ، اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ،حضرت ابوہریرۃرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو شادی کی مبارکبادی پیش کرتے تو یہ فرماتے ہیں:
بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ (ابوداؤد: ۲۱۳۰)
’’ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے اور تم پر برکتیں نازل کرے اور تم دونوں کے درمیان بھلائی کو جمع کردے‘‘
اسی طرح اگر دوسرے الفاظ میں زوجین کو خیر وبرکت ،الفت ومحبت اور نیک اولاد کی دعا دی جائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔ ( عمدۃ القاری : ۲۰؍۱۴۵ ، فتح الباری: ۹؍۲۲۱)
شادی کی سالگرہ پر مبارکبادی
زوجین کومابین الفت ومحبت قائم رہنے اور دونوں کو خوشگوار زندگی نصیب ہونے کی دعا دینا اچھی بات ہے ، بلکہ شادی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے جو دعا دی ہے اور سکھائی ہے اس میں برکت اور خیر کی دعا ہے ، لیکن ہر سال اس تاریخ کے آنے پر جشن کا اہتمام اور اسی موقع پر مبارکبادی اور دعاء کا اہتمام غیر اسلامی طریقہ ہے ، جس سے مسلمانوں کو بچنا چاہئے، فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے :
جنم دن منانا یا شادی کی سالگرہ منانا یہ غیرقوم کی ایجاد کردہ رسم ہے، اسلام میں اس کی اجازت نہیں، غیروں کے رسوم کی نقالی سے احتراز لازم ہے۔
فتاوی حقانیہ میں ہے :
’’اسلام میں اس قسم کے رسم ورواج کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ۔۔۔۔ یہ رسم بد انگریزوں کی ایجاد کردہ ہے ، ان کی دیکھا دیکھی کچھ مسلمانوں میں بھی یہ رسم سرایت کرچکی ہے ، اس لئے اس رسم کو ضروری سمجھنا ، ایسی دعوت میں شرکت کرنا ، اور (اس موقع پر) تحفہ تحائف دینا فضول ہے ، شریعت مقدسہ میں اس کی قطعا گنجائش نہیں ہے ‘‘(فتاوی حقانیہ :۲؍۷۴)
اولاد کی پیدائش پر ماں باپ کو مبارکبادی
اولاد اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے ، اس لئے جب کسی کو اللہ کی طرف سے اولاد کی نعمت عطا ہوئی ہو تو اس موقع پر اس کو مبارکبادی پیش کرنا مستحب ہے( الموسوعۃ الفقہیۃ: ۱۴؍۹۸)
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس موقع پر مبارکبادی پیش کرنے کے لئے یہ کلمات سکھائے : 
بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي الْمَوْهُوبِ لَكَ، وَشَكَرْتَ الْوَاهِبَ، وَبَلَغَ أّشُدَّهُ، وَرُزِقْت بِرَّه۔
’’جو اولاد آپ کو عطا ہوئی ہے اسے اللہ آپ کے لئے بابرکت بنائے ، اولاد عطا کرنے والے اللہ کا آپ شکر ادا کریں، یہ نومولود اپنی عمر کے کمال کو پہونچے، اور اس کی نیکی آپ کو عطا ہو‘‘
یہ کلمات لڑکے کی مبارکبادی کے لئے ہیں، اگر لڑکی کی مبارکبادی پیش کرنی ہو تو صیغوں میں معمولی سی تبدیلی کے ساتھ ان الفاظ میں مبارکبادی پیش کی جائے گی:
بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي الْمَوْهُوبِةِ لَكَ، وَشَكَرْتَ الْوَاهِبَ، وَبَلَغَتْ أّشُدَّهَا وَرُزِقْت بِرَّها ۔
اور جس کو مبارکبادی پیش کی جائے اسے ان الفاظ میں اس کا جواب دینا چاہئے: 
بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا (الاذکار: ۲۵۶)
’’اللہ آپ کو برکت عطا کرتے اور آپ پر اپنی رحمتیں نازل کرتے اور آپ کو جزائے خیر دے‘‘
یوم پیدائش پر مبارکبادی
کسی مسلمان کو اللہ کی طرف سے کوئی نعمت حاصل ہویا صحت وسلامتی اورعمرکی درازی نصیب ہوتو اس موقع پر دعا دینا جائز ہے اور اسلامی تعلیمات میں اس کی گنجائش ہے، لیکن موجودہ زمانہ میں کسی کی یوم پیدائش پر جشن ومبارکبادی کا طور طریق غیرمسلموں کی تقلید میں مسلمانوں نے اختیار کیا ہے ،اور درحقیقت یہ انہیں کی ایجاد ہے ، اس لئے تشبہ بالکفار کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے اس سے بھی بچنا ضروری ہے ۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی لکھتے ہیں:
یوم میلاد منا نا،جس کو برتھ ڈےکہتے ہیں، نہ کتاب وسنت سے ثابت ہے، نہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اور سلف صالحین رحمہم اللہ کے عمل سے ،شریعت نے بچوں کی پیدائش پر ساتویں دن عقیقہ رکھا ہے، جو مسنون ہے، اور جس کا مقصد نسب کا پوری طرح اظہاراور خوشی کے اس موقع پر اپنے اعزہ واحباب اور غرباء کو شریک کرنا ہے، ’’برتھ ڈے‘‘ کا رواج اصل میں مغربی تہذیب کی برآمدات میں سے ہے ،جو حضرت عیسی علیہ السلام کا یوم پیدائش بھی مناتے ہیں،آپ ﷺ نے دوسری قوموں سے مذہبی اور تہذیبی مماثلت سے اختیار کرنے کو ناپسند کیا ہے ، اس لئے یہ جائز نہیں ہے ، مسلمانوں کو ایسے غیر دینی اعمال سے بچنا چاہئے(جدید فقہی مسائل: ۱؍۳۱۰، کتاب الفتاوی : ۶؍۲۸۵)
حج وعمرہ یا کسی سفر سے واپسی پر مبارکبادی 
سفر حج و عمرہ یا کسی عام سفر سے واپسی پر مبارکبادی اور دعا کا اہتمام بھی مستحب ہے ، عام سفر سے واپس آنے والے کو الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَلَّمَك کہہ کر یا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ الشَّمْل بِكَ وغیرہ کہہ کریا سفر سے اہل وعیال کے مابین واپسی پر تہنیت پیش کرنا چاہئے ، نیز حج وعمرہ کے سفر سے واپس ہونے والےکو مذکورہ الفاظ میں تہنیت پیش کرنے کے ساتھ یہ دعا بھی دینی چاہئے: 
تَقَبَّل اللَّهُ حَجَّكَ أَوْ عُمْرَتَك، وَغَفَرَ ذَنْبَك، وَأَخْلَفَ عَلَيْك نَفَقَتَك(الفتوحات الربانیۃ : ۵؍۱۷۶، قلیوبی وعمیرۃ: ۲؍۱۵۱)
’’اللہ آپ کے حج یا عمرہ کو قبول فرمائے ، آپ کے گناہوں کو معاف فرمائے، اور اس سفر میں جو مال خرچ ہوا ہے اس کا نعم البدل عطا فرمائے‘‘
کسی خوشی کے حصول یا کسی شر سے نجات پر مبارکبادی
انسان کو کسی نعمت یا کسی کامیابی کے حاصل ہونے کے وقت بڑی خوشی ہوتی ہے ، اسی طرح کسی مصیبت وپریشانی سے نجات بھی انسان کے لئے بڑی خوشی کا باعث ہے، ایسے مواقع پر اس شخص کو جسے کوئی نعمت یا کامیابی حاصل ہوئی ہے یا کسی مصیبت سے نجات ملی ہے مبارکبادی پیش کرنا پسندیدہ ہے ، حضرت کعب بن مالکؓ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوسکے جس پر انہیں سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا ،پچاس دنوں کے بعد جب اللہ کی طرف سےان کی توبہ کی قبولیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے انہیں توبہ کی قبولیت کی مبارکبادی پیش کی ، حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ مجھے مبارکبادی پیش کرنے کے لئے جماعت در جماعت آکر   لِتَهْنِكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ(اللہ تعالی کا آپ کی توبہ قبول کرلینا آپ کو مبارک ہو)کہنے لگے۔(بخاری : ۴۴۱۸)
اللہ ہمیں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے۔
Login Required to interact.