مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
====
عن ابی هریرۃ عن النبی ﷺ قال : خمس من الفطرۃ الختان والاستحداد وتقلیم الاظفار ونتف الابط وقص الشارب۔(مسلم:کتاب الطہارۃ:باب خصال الفطرۃ)
’’حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں:ختنہ کرنا، زیر ناف بالوں کو صاف کرنا ،ناخن کاٹنا،بغل کے بال صاف کرنا،مونچھ کاٹنا‘‘۔
اس حدیث میں رسول اکرم ﷺنے مذکورہ پانچ چیزوں کوفطرت کی چیزوں میں شمار کیا ہے ۔ان چیزوں کی حیثیت سمجھنے کے لئے فطرت کی تعریف سمجھ لینا کافی ہے ،شارح بخاری علامہ بدر الدین عینیؒ نے فطرت کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
الفطرۃ ای سنة الانبیاء علیهم السلام الذین امرنا ان نقتدی بهم وأول من امر بها ابراہیم علیہم السلام(عمدۃ القاری:۲۲/۱۷۲)
’’فطرت ان انبیاء کرام کی سنت ہے جن کی اقتداء وپیروی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور فطرت کی ان چیزوں کا سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا‘‘
نیز مؤطا امام مالک کے حاشیہ ’’محلیٰ‘‘ میں فطرت کی تعریف اس طرح کی گئی ہے :
الفطرۃ انہا السنۃ القدیمۃ التی اختارہا الانبیاء واتفقت علیہا الشرائع فکانہا امرجبلی فطرواعلیہا(محلیٰ حاشیہ مؤطا:۳۶۸)
’’فطرت وہ سنت قدیمہ ہے جسے (ابراہیم علیہ السلام کے بعد آنے والے)تمام انبیاء نے اختیار کیاہے اور تمام شریعتیں اس پر متفق رہی ہیں گویا یہ ایک ایسی فطری چیز ہے جس پر لوگوں کی تخلیق ہوئی ہے ‘‘
فطرت کی مذکورہ دونوں تعریف سے ان پانچ چیزوں کی اہمیت اور حیثیت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ یہ چیزیں اتنی اہم ہیں کہ ان پر تمام انبیا ء علیہم السلام نے عمل کیا ہے اور نبی اکرم ا نے بھی اس پر عمل کیااوراس کی حیثیت کو اپنی حدیث میں واضح فرمادیا تاکہ ہم بھی ان سے غفلت نہ برتیں۔
ختنہ درحقیقت ایک ایسی سنت ہے جسے یہ حیثیت حاصل ہے کہ وہ اسلام کی پہچان ہے،اسی لئے اگر کوئی بڑی عمر ہوجانے کے بعد اسلام قبول کرے،یا غفلت میں بچپن کا زمانہ گذر جائے اور ختنہ نہ ہوسکے تو اس پر بھی ختنہ کرانا ضروری ہے ،حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ نے ختنہ کا حکم دیا اس وقت ان کی عمر ۸۰ سال تھی انہوں نے اس حکم کے ملتے ہی اپنے ہا تھ سے اپنا ختنہ کیا،ختنہ کی اہمیت کااس سے بھی اندازہ ہوتاہے کہ اگر کسی قوم کے لوگ اسلام کو مانتے ہوں لیکن ختنہ نہ کراتے ہوں اور پوری قوم کے لوگ نہ کرانے پر اصرار بھی کرتے ہوں اور اس پر متفق ہوں تواسلامی حکومت میں شرعی قوانین کے تحت امیر المومنین کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ ان سے جنگ کرکے انہیں اس پر آمادہ کرے۔جیساکہ علامہ حصکفی ؒ لکھتے ہیں:
ان الختان سنۃ کما جاء فی الخبر وہو من شعائر الاسلام وخصائصہ فلو اجتمع اہل بلدۃ علی ترکہ حاربہم الامام فلا یترک الابعذر(در مختارمع الرد ۱۰/۴۸۰)
’’بیشک ختنہ سنت ہے جیساکہ حدیث میں مذکور ہے اور وہ اسلام کے شعائر اور خصائص میں سے ہے اس لئے اگر کسی علاقہ کے لوگ اس کو چھوڑنے پر متفق ہوجائیں تو امام وقت ان سے جنگ کرے ،اسے بلاعذر نہیں چھوڑا جاسکتا‘‘
ختنہ کی اس تشریعی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس میں بے شمار حکمتیں بھی پوشیدہ ہیں، ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق اس میں انسانی صحت کا راز مضمر ہے،چونکہ ختنہ کی وجہ سے’’ جنسی عضو ‘‘صاف رہتا ہے اور نجاست جمع ہونے کا امکان نہیں رہتا اس لئے اس سے بے شمار بیماریوں کا امکان جاتا رہتا ہے ،چناں چہ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹروں کی تحقیق ہے کہ اس سے سوزاک ، ایڈز،عضو تناسل کے کینسر اور دیگر جنسی امراض سے حفاظت ہوجاتی ہے۔ فللہ الحمد
زیرناف بالوں کو صاف کرنے ،ناخن کا ٹنے، بغل کے بالوں کوصاف کرنے اور مونچھ کاٹنے کا حکم بھی درحقیقت اسلام کی نظافت پسندی کا ایک مظہر ہے،اسلام کو یہ بات قطعا پسند نہیں کہ اس کی پیروی کرنے والے ناپاک یا ایسے گندے ہوں جنہیں دیکھنے والے برا سمجھیں، اسلام نے صفائی کی طرف اس قدر توجہ دی ہے کہ اسے ایمان کا نصف حصہ قرار دیا ہے ،کیونکہ اسلام کی تمام عبادتیں پاکی کے ساتھ ہی ادا ہوتی ہیں تو ہر وہ چیز جو اس مزاج شریعت کے خلاف ہو وہ اسلام میں انتہائی ناپسندید ہ ہوگی،رسول اکرم ﷺکا ارشاد گرامی ہے :
من لم یحلق عانته ویقلم اظفارہ ویجز شاربه فلیس منا(مسند احمد:۲۲۳۸۲)
’’جوزیر ناف بالوںکو صاف نہ کرتا ہو اور ناخن اورمونچھ نہ کا ٹتا ہو وہ ہم میں سے نہیں‘‘
زیرناف بالوں کی صفائی ،ناخن تراشی اور بغل کے بالوں کی صفائی نہ ہونے کی صورت میں گندگی کا جمع رہنا بالکل ظا ہر ہے خصوصا ناخن میں توزیادہ ہی گندگیاں جمع ہوجاتی ہیں کیونکہ انسان اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے کام انجام دیتا ہے جس کی وجہ سے ہاتھ میں گندگی لگتی ہے اور ہاتھ دھلنے سے سارے میل اور گندگی تو دھل جاتی ہیں لیکن ناخن کے اندر جمع ہوجانے والے میل صاف نہیں ہوتے جو بسا اوقات متعدد بیماروں کا سبب بنتے ہیں،نیز بسااوقات اس کی وجہ سے وضو بھی ناقص رہ جاتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے پانی ناخن کے نیچے نہیں پہونچ پاتا ،نتیجۃ نمازصحیح نہیں ہوتی ہے، ایک مرتبہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا :
مالی لا اوهم ورفغ احدکم بین ظفرہ وانامله (کنز العمال:تقلیم الاظفار،روایت نمبر:۱۷۲۶۲)
’’مجھے نماز میں کیونکر سہو نہ ہو جب کہ تم میرے پاس اس حا ل میں آتے ہو کہ تمہارے ناخن کے میل ناخن اور انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں‘‘
اسی طرح ایک مرتبہ ناخن نہ کاٹنے پر ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا:
یسأ ل احدکم عن خبر السماء وهو یدع اظفارہ کأظافیر الطیریجتمع فیها الجنابة والخبث والتفث (مسند احمد:۲۲۴۴۰)
’’تم میں کا ایک آدمی مجھ سے آسمان کی باتیں معلوم کرتا ہے اس حال میں کہ وہ اپنے ناخن پرندوں کے ناخن کے مانند رکھتا ہے جس میںناپاکی گندگی اور میل کچیل جمع ہوتے رہتے ہیں‘‘
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چند دنوں تک حضرت جبرئیل علیہ السلام کی آمد نہ ہوئی تو بعض صحابہ نے اس بارے میں دریافت کیا کہ آخر جبرئیل علیہ السلام کیوں نہیں آرہے ہیں؟تو رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :
لم لا یبطی عنی وانتم حولی لا تستنون ولاتقلمون أظفارکم ولاتقصون شواربکم ولاتنقون رواجبکم(کنز العمال:روایت نمبر:۱۷۲۶۱،مسند احمدروایت نمبر:۲۰۷۲)
’’آخر وہ ہمارے پاس آنے میں تاخیر کیوں نہ کریں جبکہ تم لوگ ہمارے پاس رہتے ہو اور تم لوگوں کا حال یہ ہے کہ نہ تو مسواک کرتے ہو ،نہ ناخن تراشتے ہو،نہ مونچھ کاٹتے ہواور نہ ہی رواجب(انگلی کی جڑ کے جوڑ) کو صاف کرتے ہو‘‘
ان چیزوں کی صفائی کی مدت کے بارے میں حضرت انس ؓ عنہ فرماتے ہیں:
وقت لنا فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط وحلق العانة ان لا نترک اکثر من اربعین لیلة (مسلم کتاب الطہارۃ ،باب خصال الفطرۃ)
’’مونچھ کا ٹنے ،ناخن تراشنے ،بغل اور ناف کے بال صاف کرنے کی مدت ہمارے لئے یہ بیان کی گئی ہے کہ چالیس رات سے زیادہ نہ چھوڑیں‘‘
اس حدیث کی روشنی میں علماء نے لکھا ہے کہ اس مدت سے زیادہ عرصہ تک ان چیزوں کی صفائی نہ کرنا مکروہ ہے علامہ محمد بن مفلح’’ الآداب الشرعیہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
ویکرہ ان یؤخر تنظیف العانة والابط وحف الشارب اکثر من المدۃ المذکورۃ(الآداب الشرعیۃ:فصل فی تقلیم الاظافر)
’’مذکورہ مدت سے زیادہ ناف کے بال اور بغل کے بال کی صفائی نہ کرنا اور مونچھ نہ کاٹنا مکروہ ہے ‘‘
علامہ ابوبکر رازی لکھتے ہیں:
وان تاخیرها الی مابعد الاربعین محظوریستحق فاعله اللوم لمخالفة السنة (احکام القرآن:سورۃ البقرۃ ،باب فی نسخ القرآن بالسنۃ)
’’ان چیزوں کی صفائی کو چالیس دن سے زیادہ مؤخر کرنا بالکل ہی ممنوع ہے اورایساکرنے والا سنت کی مخالفت کی وجہ سے مستحق ملامت ہے‘‘
لیکن ناخن اور مونچھ کو اگر اتنے عرصہ تک نہ کاٹا جائے تو ظاہر ہے کہ وہ بہت ہی بڑے ہوجائیں گے اس لئے اس حکم کی علت کی طرف نظر کرتے ہوئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ چالیس دن کی مدت اس لئے نہیں ہے کہ اتنے دنوں تک نہ کاٹے جائیں بلکہ اس میں انتہائی مدت کو بیان کیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ تاخیر کی گنجائش چالیس دن تک ہے ،البتہ مستحب اور بہتر یہ ہے کہ حسب ضرورت صفائی کا اہتمام کیا جائے تاکہ جس مقصد کے پیش نظر یہ حکم دیا گیا ہے اس کی تکمیل ہوسکے چناں چہ فقہاء کی تصریحات سے اور اکابر کے معمول سے ہر ہفتہ خصوصا جمعہ کے دن صفائی کا اہتمام کرنا مستحب معلوم ہوتا ہے کیونکہ بعض روایات سے جمعہ کے دن ناخن کاٹنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے ،رسو ل اکرم ﷺ کا معمول حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
انہ کان یقلم اظفارہ ویقص شاربه یوم الجمعة قبل ان یخرج الی الصلاۃ (مجمع الزوائد: روایت نمبر:۶۳۰۳)
’’رسول اکرم ﷺ جمعہ کے دن جمعہ کی نمازکیلئے جانے سے پہلے اپنے ناخن اور مونچھ کا ٹتے تھے‘‘
علامہ نووی لکھتے ہیں:
واما التوقیت فی تقلیم الاظفار فهو معتبر بطولها فمتی طالت قلمها ویختلف ذلک باختلاف الاشخاص و الاحوال وکذا الضابط فی قص الشارب ونتف الابط وحلق العانة (المجموع شرح المہذب:کتاب الطہارۃ ،تقلیم الاظفاروقص الشارب الخ)
’’ناخن کاٹنے کے مسئلہ میں اسکی لمبائی کا اعتبار ہے ،جب بھی وہ بڑے ہوجائیں کاٹ لئے جائیںاور یہ احوال واشخاص کے اختلاف پر مبنی ہے اور یہی ضابطہ مونچھ کاٹنے بغل اور ناف کے بالوں کی صفائی کا ہے ‘‘
علامہ ملاعلی قاری لکھتے ہیں:
الافضل ان یقلم اظفارہ ویحفی شاربه ویحلق عانته وینظف بدنه بالاغتسال فی کل اسبوع مرۃ فان لم یفعل ذلک ففی کل خمسةعشر یوما ولاعذر فی ترکه وراء الاربعین فالاسبوع هو الافضل والخمسة عشر هو الاوسط والاربعون هو الابعد ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الملامة عندنا(مرقاۃ المفاتیح: ۴/۹۰۱ )
’’بہتر یہ ہے کہ ہر ہفتہ ایک مرتبہ ناخن اور مونچھ کاٹے ،ناف کے بال صاف کرے اور غسل کر کے بدن صاف کرے،اگر ایسا نہ کرپائے تو ہر پندرہ دن پر کرلے اور چالیس دن کے بعد تو کوئی عذر معتبر نہیں،خلاصہ یہ ہے کہ ہر ہفتہ بہتر ہے ،پندرہ دن درمیا نی مدت ہے اور چالیس دن آخری انتہائی مدت ہے اور چالیس دن کے بعد کوئی عذر معتبر نہیں اور ہمارے نزدیک وہ ملامت کا مستحق ہے ‘‘
ناخن کا ٹنے کے بعد اسے ادھر ادھر پھینکنے کے بجائے اسے دفن کردینا چاہئے رسول اکرم ﷺ کا یہی معمول تھا ،حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:
ان رسول اللہ ﷺ کان یامر بدفن سبعة اشیاء من الانسان الشعر ، والظفر، والدم ،والحیضة ، والسن ، والعلقة ، والمشیمة (کنز العمال:روایت نمبر:۱۸۳۲۰،الزینۃ والتجمل)
’’رسو ل اکرم ﷺ انسان کی سات چیزوں کے دفن کرنے کا حکم دیا کرتے تھے:بال،ناخن،خون،حیض میں استعمال کردہ کپڑے،دانت، جما ہوا خون اوربچہ کی وہ جھلی جس میں وہ پیدائش کے وقت لپٹا ہوا ہوتا ہے‘‘
مونچھ کے بال کس طرح کاٹے جائیں، اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں(۱)حلق یعنی مونڈنا(۲)احفاء یعنی جڑسے بالوں کو کاٹنا(۳) قص یعنی ہونٹ کے برابرکے بالوں کوکاٹنا ، اس سلسلہ میں فقہی تصریحات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ’’قص‘‘یعنی اس طرح کا ٹناکہ اوپر کا ہونٹ نظرآئے ،بہتر ہے، علامہ شامیؒ نے اسی کوسنت قرار دیا ہے اور علامہ کاسانیؒ نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ علامہ طحاوی ؒنے قص کو حسن (بہتر)اور احفاء کواحسن (زیادہ بہتر)کہا ہے اور متعدد صحابہ کرامؓ کا یہی عمل نقل کیا ہے (الموسوعۃ الفقہیہ:حرف الشین ،شارب،الاخذ من الشارب۔ردالمحتار: کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی البیع۔احکام القرآن للجصاص،سورۃ البقرۃ،باب فی نسخ القرآن بالسنۃ)
لیکن’’ قص ‘‘ہو یا’’ احفاء‘‘ دونوں کے قائلین کے پاس دلا ئل موجود ہیں اوراسلاف کا معمول دونوں پر رہا ہے ،اس لئے بہت سے علماء نے دونوں کو پسندیدہ کہا ہے ؛ کیونکہ روایات میں رسو ل اللہ ﷺکا معمول دونوں ہی الفاظ میں مذکو ر ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلہ میں جو حکم دیا ہے اس میں کبھی آپﷺنے ’’قص‘‘کا لفظ اور کبھی ’’احفاء ‘‘کا لفظ استعمال کیا ہے ،جس سے دونوں ہی کی تائید ہوتی ہے ۔
Login Required to interact.

