تخلیق کائنات

دینی ،علمی واصلاحی مضامین
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
 ==== 
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: إِنِّي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: اقْبَلُوا البُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ اليَمَنِ، فَقَالَ: اقْبَلُوا البُشْرَى يَا أَهْلَ اليَمَنِ، إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ، قَالُوا: قَبِلْنَا، جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ، وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ مَا كَانَ، قَالَ: كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى المَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السّمٰوَاتِ وَالأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ (بخاری: 7418)
’’عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں بنو تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا کہ اے بنی تمیم! خوشخبری قبول کرو، ان لوگوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں خوشخبری دی ہے تو کچھ عطا بھی کیجئے، پھر یمن کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے فرمایا کہ اہل یمن خوشخبری قبول کرو، اس لئے کہ بنو تمیم نے اس کو قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کیا ہم آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور آپ سے اس امر (یعنی دنیا) کی ابتداء کے متعلق دریافت کریں کہ (اس سے پہلے) کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا، آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں تمام چیزیں لکھ دیں‘‘
مختصر تشریح
رسول اکرم ﷺ کی عام عادت یہ تھی کہ آپ اپنی مجلسوں میں صحابہ بالخصوص دور دراز سے آنے والے وفودکی تعلیم کاخصوصی اہتمام فرماتے تھے، اورعقائد واعمال کے متعلق مسائل اور ترغیب وترہیب کی باتیں بتاتے تھے، چناںچہ جب قبیلہ بنو تمیم کی آمد ہوئی ، تو آپ نے ان سے فرمایا:  اقْبَلُوا البُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ (اے بنو تمیم خوشخبری قبول کرو) یہ خوش خبری مادی چیزوں کی نہیں تھی بلکہ آپ نے انہیں ان بے بہا لازوال نعمتوں کی خوشخبری سنائی جو اللہ نے متقین اور اپنے مقرب بندوں کے لئے تیار کر رکھا ہے ، لیکن ان لوگوںنے اس خوشخبری کو مادی چیزوں اور دنیاوی نعمتوں کی خوش خبری سمجھ کر فورا یہ کہا کہ آپ نے ہمیں خوش خبری دی ہے توپھر کچھ مال ودولت بھی عطا کیجئے، علامہ ابن جوزی ؒکے بقول یہ بات حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہی، اس جواب پر رسول اللہ ﷺ یمن سے آئے ہوئے وفد کی طرف متوجہ ہوئے،یہ لوگ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی قوم میں سے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا : اقْبَلُوا البُشْرَى يَا أَهْلَ اليَمَنِ، إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ، کہ اے اہل یمن اس خوش خبری کو تم قبول کرو اس لئے کہ بنو تمیم نے اس کو قبول نہیں کیا ہے ، انہوں نے فورا اس کو قبول کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ہم تو آپ کے پاس دین کی سمجھ حاصل کرنے اور دنیا کی ابتدا کے متعلق معلوم کرنے کے واسطے آئے، تو آپ ﷺنے انہیں بتایا کہ  اللہ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ،اس نے ہی ہر چیز کو عدم سے وجود بخشا ، اور اس کا عرش پانی پر تھا، اسی نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ،اور کائنات سے متعلق تمام چیزوں کو اس نے اپنی کتاب (لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے ، اور اسی کے مطابق ہر چیز ظاہر ہوتی ہے اور ہوگی۔
خلاصہ
اس حدیث سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
(۱) اللہ اس وقت بھی تھا جب کہ کوئی چیز نہ تھی، اس کے پہلے کوئی چیز وجود میں نہ آئی،اس لئے کہ ہر شی کو وجود دینے والی ذات تو اسی کی ہے، صرف اسی کی ذات کو بلا شرکت غیر اولیت حاصل ہے۔
(۲) اللہ کے سواء ہر چیز عدم سے وجود میں آئی ہے،یعنی ایک وقت وہ تھا جب کہ وہ چیز موجود نہ تھی، اللہ نے اس کو وجود بخشا تو موجود ہوگئی۔
(۳) عرش اور پانی کی تخلیق آسمان وزمین کی تخلیق سے پہلے ہوئی ہے۔اور آسمان وزمین کی تخلیق سے قبل عرش کے نیچے صرف پانی ہی پانی تھا۔نیز عرش کی تخلیق سے پہلے پانی کی تخلیق ہوئی اور پھر اس پر عرش کی تخلیق ہوئی۔
(۴) اللہ عرش کا محتاج نہیں ہے، بلکہ عرش اور پوری کائنات اور کائنات کی تمام مخلوق جس کا عرش نے احاطہ کر رکھا ہے ، اللہ کی محتاج ہے۔اس لئے کہ اللہ عرش کے بغیر موجود تھا ۔
(۵) اللہ ہی خالق ہے ، اور اس کے ماسوا سب مخلوق ہیں، حتی کہ عرش بھی مخلوق ہی ہے۔
(۶) لوح محفوظ میں اللہ نے تمام مخلوق کی تقدیر لکھ رکھی ہے ، اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ نے اس کتاب میں تحریر نہ کیا ہو، وہ کتاب علم الہی کی روشنی میں اس طرح تحریر کی جاچکی ہے کہ اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا، اور یہ تحریر بھی آسمان وزمین کی تخلیق سے پہلے ہوئی ہے ، اس لئے کہ روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  اللہ نے عرش کی تخلیق کے بعد قلم کو وجود بخشا اورفرمایا:’’ اکتب ما ہو کائن ‘‘ آئندہ ہونے والی تمام چیزوں کو لکھ دو۔اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ نے مخلوق کی تقدیر کو آسمان وزمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل لکھ دیا تھا۔(فتح الباری: ۶؍۲۸۹)
Login Required to interact.