مفتی محمد عارف باللہ قاسمی
موجودہ دور میں ٹیکنالوجی نے جہاں انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں سوشل میڈیا کی شکل میں ایک ایسا بے لگام گھوڑا بھی ہمارے ہاتھ میں تھما دیا ہے جس کی باگیں اگر تقویٰ اور خوفِ خدا سے نہ کھینچی جائیں، تو یہ انسان کو اخلاقی اور دینی تباہی کے گڑھے میں گرا سکتا ہے۔ آج فیس بک، ایکس (ٹویٹر)، انسٹاگرام اور یوٹیوب کے "کمنٹ سیکشنز” (Comment Sections) جنگ کے میدان بن چکے ہیں، جہاں عزتیں اچھالنا، بغیر تحقیق کے فتوے لگانا اور بدزبانی کرنا معمول بن چکا ہے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اس کے استعمال میں بھی خود کو شریعت کا پابند بنانا ضروری ہے؛ تاکہ ہم اخروی پشیمانی سے بچ سکیں۔
۱ . تحریر، زبان کی طرح ہی مؤثر اور جواب دہ ہے
بہت سے لوگ یہ غلط فہمی پال لیتے ہیں کہ زبان سے نکلی ہوئی بات کا حساب ہوگا، لیکن کی بورڈ (Keyboard) پر ٹائپ کیے گئے الفاظ صرف "ٹیکسٹ” ہیں۔ حالانکہ شریعت میں تحریر کا حکم وہی ہے جو تقریر (بولنے) کا ہے۔ ہمارے اقوال کی طرح ہماری تحریروں کی بھی نگرانی کی جارہی ہے اور نگراں فرشتے بہت توجہ سے اپنا کام کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ "کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا مگر یہ کہ اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے۔” (سورہ ق: ۱۸)
جب آپ کسی پوسٹ کے نیچے کمنٹ کرتے ہیں، تو وہ بھی آپ کے نامۂ اعمال میں محفوظ ہو رہا ہے۔ چاہے آپ اصلی نام سے ہوں یا فرضی (Fake) آئی ڈی سے، ربِ کائنات سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
۲ . تحقیق کے بغیر تبصرے اور بہتان تراشی
سوشل میڈیا پر کسی بھی خبر کے آتے ہی لوگ تحقیق کیے بغیر فوراً اس پر تبصرہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ کسی کی پگڑی اچھال دی جاتی ہے، کسی کو کافر یا غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا… "اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، مبادا کہ تم کسی قوم پر نادانی میں جا پڑو، پھر اپنے کیے پر پچھتانے لگو۔” (سورہ الحجرات: ۶)
آج کل کمنٹس میں سنی سنائی باتوں پر جو طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے، وہ "بہتان” کے زمرے میں آتا ہے، جو کبیرہ گناہ ہے۔
۳. بدزبانی اور گالی گلوچ کا کلچر
افسوسناک امر یہ ہے کہ دینی پوسٹس کے نیچے بھی لوگ اختلافِ رائے کرتے ہوئے گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ دلیل کی جگہ تذلیل لے لیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش بکنے والا اور نہ بیہودہ گو۔” (جامع ترمذی)
کیا ہمارا کمنٹ پڑھ کر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ "اخلاقِ نبوی ﷺ” کے ماننے والے کا لکھا ہوا ہے؟ سوشل میڈیا پر ہماری بدزبانی نہ صرف ہماری بلکہ ہمارے والدین کی تربیت اور ہمارے دین کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔
۴ وقت کا ضیاع اور لایعنی بحثیں
کمنٹس کے فتنے کا ایک بڑا نقصان وقت کی بربادی ہے۔ گھنٹوں تک کسی اجنبی شخص سے بحث کرنا، جس کا نتیجہ سوائے دل آزاری اور کینے کے کچھ نہیں نکلتا، دانشمندی نہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے:
"میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے۔” (سنن ابی داود)
اکثر کمنٹس بحث برائے اصلاح نہیں بلکہ بحث برائے انا (Ego) ہوتے ہیں۔ شیطان انسان کو اس وہم میں مبتلا کرتا ہے کہ "جواب دینا ضروری ہے ورنہ میری ہار ہوگی”، حالانکہ خاموشی اکثر اوقات بہترین جواب ہوتی ہے۔
۵ . ریاکاری اور "لائکس” کی ہوس
کمنٹس کرنے کا ایک نفسیاتی پہلو "خود نمائی” ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ ایسی چبھتی ہوئی بات لکھے یا ایسا جملہ کسے جس پر زیادہ سے زیادہ "لائکس” (Likes) ملیں۔ یہ خواہشِ ستائش انسان کے اخلاص کو کھا جاتی ہے اور ریاکاری کو جنم دیتی ہے اور اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ حق بات کا اقرارا کرنا تو کچا انسان اس حق بات کو مسلسل غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے تاکہ کسی طرح وہ داد تحسین بٹور سکے، یہ لائک اور داد تحسین اس وقت آپ کو کیا کام آئے گی جب انکار حق کے مجرم کے طور پر آپ کو سزا سنائی جائے گی۔
ان اصولوں کو نہ چھوڑیں
اس فتنے سے بچنے کے لیے ہمیں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے ان اصولوں کو اپنانا چاہئے:
تولو پھر بولو (لکھو): "سینڈ” (Send) کا بٹن دبانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ کیا یہ بات آخرت میں میری نجات کا باعث بنے گی یا پکڑ کا؟
خاموشی میں عافیت: اگر آپ کے پاس کہنے کو کوئی اچھی بات نہیں، تو خاموش رہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ یا تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”
اختلاف آداب کے ساتھ: اگر اختلاف کرنا ضروری ہو تو شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ دلیل دیں، ذلیل نہ کریں۔
تجسس اور بدگمانی سے پرہیز: کسی کی تصویر یا ویڈیو دیکھ کر فوراً نیتوں پر فیصلہ نہ سنائیں۔ خاص طور موجودہ اے آئی کے زمانے میں تو اس سلسلہ میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے؛ کیونکہ جو آپ دیکھ رہے ہیں یا سن رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو بلکہ وہ کسی فاسد ذہن کی پیدوار ہو۔
فرضی آئی ڈی کا دھوکہ: یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے آئی پی ایڈریس (IP Address) سے نہیں بلکہ آپ کے دل کے تقویٰ اور اعمال سے جانچتا ہے، آپ اپنی شناخت کو مخفی رکھتے ہوئے غلط باتیں لکھ سکتے ہیں یا پھیلاسکتے ہیں لیکن اس قادر مطلق اللہ کی نظر سے کیسے بچیں گی جو آپ کی اس غلطی سے واقف ہے اور اتمام حجت کے لئے اس کے فرشتے آپ کے اس گناہ کو لکھ بھی رہے ہیں۔
سوشل میڈیا ایک "آلہ” ہے، اسے جنت کمانے کا ذریعہ بناسکتے ہیں تو ٹھیک ورنہ بلاوجہ اس میں پڑ کر اسے جہنم تک لے جانے والا نہ بنائیں اور اپنی انگلیوں کو گناہِ جاریہ (مسلسل گناہ) لکھنے سے روکیں، کیونکہ یہ تحریریں اس وقت بھی موجود رہیں گی جب ہم مٹی کے نیچے ہوں گے۔

