مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
====
عَنْ عبدِ اللّٰہِ بنِ عُمَرَ رَضِيَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اﷲِ ﷺ : إذَا جَلَسَتِ الْمَرْأۃَ فِيْ الصَّلاۃِ وَضَعَتْ فَخِذَہَا عَلَی فَخِذِہَا الأخْرَیٰ ، وَإذَا سَجَدَتْ اَلْصَقَتْ بَطَنَہَا فِيْ فِخِذَیْہَا کَأسْتَرِ مَایَکُوْنُ لَہَا ، وَإنَّ اﷲَ یَنْظُرُ إلَیْہَا وَیَقُوْلُ یَا مَلاَئِکَتِيْ أشْہِدُکُمْ أنِّيْ قَدْ غَفَرْتُ لَہَا (سنن کبري للبیہقي :۳۳۲۴ )
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے گی تو اپنے ران کو ران پررکھے گی اور جب سجدہ کرے گی تو اپنے پیٹ کو اپنے ران سے اس طرح ملائے جس میں زیادہ سے زیادہ پردہ ہو ، اور بے شک اللہ اس کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اے مرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کی مغفرت کردی‘‘
اس روایت سے مردوں اور عورتوں کی نماز کی کیفیت میں دوفرق معلوم ہوتا ہے ۔
(۱) عورت نما ز میں جب بھی بیٹھے گی تو اس کی یہ کیفیت ہوگی کہ وہ ران کو ران پر رکھ کر بیٹھے گی اور اس کی کیفیت یہ ہوگی کہ وہ مردوں کی طرح پاؤں پر بیٹھنے کے بجائے زمین پر بیٹھے اوراپنے دونوںقدم کوداہنی جانب نکال کر ران کو ران پر رکھے۔یعنی اس طرح ران کو ران سے بالکل ملادے گی کہ وہ ران کو ران پر رکھنے کے مانند ہو ۔
(۲) عورت سجدہ میںمردوں کی طرح کمر کو بلند کرنے کے بجائے اپنی کمر کو بالکل ممکنہ حد تک پست کرے گی اور پیٹ کو مردوں کی طرح ران سے الگ کرنے کے بجائے پیٹ کوران سے خوب اچھی طرح ملائے گی۔
اسی کیفیت کی وضاحت حضرت یزید بن حبیب کی قوی الاسناد مرسل روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ ﷺ نے دوعورتوں سے فرمایا:
’’جب تم دونوں سجدہ کرو تو بعض گوشت (سینہ) کو زمین سے لگا لو؛ کیونکہ عورت اس میں مردوں کی طرح نہیں ہے ‘‘ (مراسیل ابوداؤد:۸۴)
یہ ہے مردوں اورعورتوں کے سجدہ کرنے اور بیٹھنے کی کیفیت میں فرق جو روایت سے ثابت ہے، البتہ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ جو لوگ اس فرق کو تسلیم نہیں کرتے وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو ضعیف کہہ دیتے ہیں اور اس طرح فرق کی بنیاد کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو نقل کرنے والے محدث امام بیہقی نے اس روایت کو اوراسی کے ہم معنی دو سری روایت کوجو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یہ کہہ کر نقل کیا ہے کہ یہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں اور ان جیسی روایتوں سے استدلا ل نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن دونوں روایتوں کو امام بیہقی نے اپنی تحقیق کے مطابق ضعیف کہا ہے وہ دونوں روایتیں ’’حسن ‘‘ ہیں جن سے استدلال کیا جاسکتا ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کو امام بیہقی نے اسلئے ضعیف قراردیا ہے کہ اس کے ایک روای ابومطیع حکم بن عبد اللہ بلخی ہیں جو کہ امام بیہقی اور دیگر حضرات کے نزدیک ضعیف روای ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابومطیع حکم بن عبد اللہ بلخی ضعیف راوی نہیں ہیں اور جن لوگوں نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے ان میں سے اکثر حضرات نے حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی جرح اور ضعیف قرار دینے پر اعتماد کیا ہے ،اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ان کے ضعیف ہونے کے دو اسباب سمجھ میں آتے ہیں:
(۱) امام ابو حنیفہ کا شاگرد ہونا، اور اس زمانہ میں فقہ واستنباط میں مصروف لوگوں کو جنہیں اصحاب الرأی کہا جاتا تھا ان سے روایت لینے میں بعض حضرات تأمل کیا کرتے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ امام احمد بن حنبل کا خیال بھی کچھ ایسا ہی تھا، مثلا امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں …جن کو تمام محققین نے ثقہ ،معتبر ،امام فقہ مانا ہے… جب امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے فرزند عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا تو آپ نے جواب دیا:
صدوق ولکن اصحاب أبی حنیفۃ لا ینبغی أن یروی عنہ (العلل لاحمد بن حبنل :۳؍۲۹۹)
’’صدوق (سچے اور معتبر) ہیں، لیکن امام ابوحنیفہ کے شاگردوں سے روایت نقل کرنا مناسب نہیں ہے‘‘
ظاہر ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کی شاگردی اور مصاحبت سے ثقاہت مجروح نہیں ہوتی،اس لئے اس بات کو صرف امام احمد بن حنبل ؒ کی خلاف حقیقت ذاتی رائے کہا جاسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابومطیع کوناقابل اعتبار قرار دینے کے پیچھے بھی کچھ ایسا ہی خیال ہو۔
(۲) امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے بعد اصحاب جرح کے نزدیک ابومطیع کے ضعیف اور ناقابل اعتبار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ ان کو فرقہ جہمیہ سے وابسطہ سمجھتے تھے، چناںچہ امام احمد بن حنبل کے فرزند حضرت عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے جب اپنے والد سے ابومطیع کے بارے میں پوچھا تو آپ نے یہ جواب دیا :
’’اس سے روایت نقل کرنا مناسب نہیں ،لوگ کہتے ہیں کہ وہ کہتا ہے کہ جنت اور جہنم مخلوق ہیں اور دونوں فناہوجائیں گے ، یہ بات تو جہمیوں کی ہے ‘‘ (تاریخ الاسلام للذہبی:۳؍۴۵۷)
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ابومطیع کو اس لئے ناقابل اعتبار قرار دیا کہ ان تک ابومطیع کے بارے میں جو بات پہونچی تھی اس سے وہ ان کو جہمیت سے جوڑ رہے تھے۔اسی طرح امام ابوداؤد ؒنے بھی ان کو ضعیف قراردینے کی علت یہی بیان کی ہے ۔(حوالہ سابق)
حالانکہ محققین علماء اور اکابرین امت نے جن الفاظ میں ان کا تذکرہ کیا ہے ان سے یہ معلوم ہوتاہے کہ ان کی طرف جہمیت کی نسبت درست نہیں ہے ۔
علامہ ذہبی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
کان ابن المبارک یعظمہ ویجلہ …… قال محمد بن الفضیل البلخی : سمعت حاتما السقطی : سمعت ابن المبارک یقول: ابومطیع لہ المنۃ علی اہل جمیع اہل الدنیا … قال مالک بن انس لرجل من این انت ؟قال :من بلخ ، قال قاضیکم ابومطیع قام مقام الانبیاء (تاریخ الاسلام :۳؍۴۵۷)
عبد اللہ بن مبارک ان کی تعظیم وتکریم کرتے تھے ……محمد بن فضیل بلخی کہتے ہیں کہ میں نے حاتم سقطی کو کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عبد اللہ بن مبارک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ابومطیع کے پوری دنیا کے لوگوں پر احسان ہے ……انس بن مالک نے ایک شخص سے پوچھا کہ تم کہاں کے ہو؟ انہوں نے کہا : میں بلخ کا ہوں ، تو انس بن مالک نے فرمایا: تمہارے قاضی ابومطیع (علم وفضل وغیرہ کے اعتبار سے) انبیاء کے قائم مقام ہیں۔
علامہ تقی الدین بن عبد القادر الغزی (م ۱۰۱۰ھ) لکھتے ہیں:
ابومطیع البلخی الامام العالم العامل احد اعلام ہذہ الامۃ ومن اقر لہ بالفضائل جہابذۃ الائمۃ (الطبقات السنیۃ :۱؍۲۶۳)
’’ابومطیع بلخی ،امام عالم اور متبع شریعت ہیں، اس امت کے اعلام میں سے ایک ہیں ،بہت سے علماء نے ان کے فضائل بیان کئے ہیں‘‘
ان تمام تعریفی کلمات سے معلوم ہوتاکہ ابومطیع بلخی کیا ہیں!اسی لئے علامہ انور شاہ کشمیری علیہ الرحمۃ نے ان کے بارے میں معتدل بات کہی ہے ،لکھتے ہیں:
ابومطیع البلخی الحکم بن عبد اللہ تلمیذ ابی حنیفۃ ، وہو متکلم فیہ ، وعندی انہ صدوق وفی المیزان کان ابن المبارک یعظمہ ویوقرہ (العرف الشذی:۱؍۴۹۴)
ابومطیع بلخی حکم بن عبد اللہ امام ابوحنیفہ کے شاگرد ہیں اور ان کے بارے میں کلام کیا گیا ہے (بعض لوگوں نے ان کوضعیف قراردیا ہے تو بعض لوگوں نے ان کی تحسین کی ہے ) میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ وہ ’’صدوق‘‘ ہیں ، میزان میں ہے کہ عبد اللہ بن مبارک ان کی تعظیم وتوقیر کیا کرتے تھے۔
ان تمام تفصیلات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ابومطیع بلخی’’ ضعیف ‘‘راوی نہیں ہیں بلکہ’’ ثقہ ‘‘یا کم از کم ’’صدوق‘‘ راوی ہیں،اور صدوق روای کی راویت حسن کے درجہ میں ہوتی ہے ،اس لئے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت ضعیف اور ناقابل اعتبارنہیں ہوگی جیسا کہ امام بیہقی علیہ الرحمۃکا دعوی ہے ،بلکہ ’’حسن‘‘ ہوگی اور حسن روایتیں قابل استدلال ہوتی ہیں ان سے مسائل کا استنباط ہوتا ہے ،اس لئے اس راویت کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورتوں اور مردوں کے سجدہ اور قعدہ میں بیٹھنے کی کیفیت میں فرق ہے،اور عورتیں مردوں سے مختلف اس طریقہ پر سجدہ کریں گی یا قعدہ میں بیٹھیں گی جس کا انہیں اس راویت میں حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی راویت بھی ضعیف نہیں ہے جیساکہ امام بیہقی علیہ الرحمۃ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ،بلکہ اصول حدیث کے قاعدہ کے موافق یہ روایت بھی ’’درجہ حسن‘‘ میں ہے، کیونکہ اگر کسی روایت کے ثقہ راویوں کے درمیان اگر کوئی مختلف فیہ روای ہویعنی جس کو بعض حضرات ثقہ اور معتبر مانتے ہواور بعض حضرات غیر ثقہ اور نامعتبر مانتے ہوں تو ایسی روایت نہ توبالکل صحیح قراردی جاتی ہے اور نہ ہی ضعیف ،بلکہ اس کو حسن کہا جاتا ہے ۔اس روایت کا حال بھی یہی ہے روایت کے الفاظ یہ ہیں:
عَنْ اَبیْ سَعِیْدٍ الخُدریِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّہُ قَالَ: خَیْرُصُفُوْفِ الرِّجَالِ اَلْاَوَّلُ وَخَیْرُ صُفُوْفِ النِّسَائِ الَصَّفُّ الْمُؤخَّرُ وَکَانَ یَامُرُ الرِّجَالَ اَنْ یَتَجَافُوْا فِیْ ُسجُوْدِہِمْ وَیَا مُرُ النِّسَاءَ یَنْخَفِضْنَ فِیْ سُجُوْدِہِنَّ ، وَکَانَ یَامُرُ الرِّجَالَ اَنْ یَّفْرِشُوْا الْیُسْرَیٰ وَیَنْصِبُوْا الْیُمْنَیٰ فِیْ التَّشَہُّدِ وَیَامُرُ النِّسَائَ اَنْ یَّتَرَبَّعْنَ وَقَالَ یَامَعْشَرَالنِّسَائِ لاَ تَرْفَعْنَ اَبْصَارَکُنَّ فِیْ صَلاَتِکُنَّ تَنْظُرْنَ اِلَی عَوْرَاتِ الرِّجَالِ (السنن الکبری :۳۳۲۳)
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے اور عورتوں کی سب سے بہتر صف پچھلی صف ہے ، (حضرت ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ ) رسول اللہ ﷺ مردوں کو یہ حکم دیتے تھے کہ وہ اپنے سجدوں میں اپنی پہلؤوں کو الگ رکھیں، اور عورتوں کو حکم دیتے تھے کہ وہ اپنے سجدوں میں پست ہوجائیں، اور مردوں کو یہ حکم دیتے تھے کہ تشہد میں اپنے بائیں پاؤں کو بچھاکر داہنے پاؤں کو کھڑا کریں اور عورتوں کو حکم دیتے تھے کہ وہ چہا رزانو بیٹھیں،اور آپ نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت اپنی نگاہ مت اٹھاؤ کہ تمہاری نگا ہ مردوں کے پردہ کے اعضاء پر پڑجائیں‘‘
اس روایت کے تمام راویوں میں سے ایک راوی عطاء بن عجلان کو امام بیہقی نے ضعیف قرار دیا ہے اور پھر ان کی وجہ سے اس روایت کو ضعیف کہا ہے ، لیکن جب ہم کتب رجال کو دیکھتے ہیں تو بلاشبہ امام بیہقی کی طرح کئی حضرات عطاء بن عجلان کو ضعیف لکھتے ہیں لیکن ان ہی اصحاب جرح وتعدیل میں سے بعض حضرات نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے ،مثلا ابوالحسن احمدبن عبد اللہ بن صالح العجلی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:عطاء بن عجلان بصری ثقہ (معرفۃ الثقات للعجلی:۲؍۱۳۶) عطاء بن عجلان جوکہ بصری ہیں ثقہ ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ روای مختلف فیہ ہیں جنہیں بعض حضرات نے ضعیف کہا ہے تو بعض نے ثقہ کہا ہے اور ایسے راوی کی راویت ضعیف یا صحیح ہونے کے بجائے حسن ہوتی ہے ،اس لئے حضرت ابوسعید خدری ؓ کی مذکورہ روایت ’’حسن‘‘ ہوگی جوکہ ائمہ حدیث اور فقہاء کے نزدیک مقبول اور قابل استدلال ہے ،اس لئے اس سے بھی عورت کے سجدہ اور قعدہ کے مسئلہ پر استدلال کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ عورت اور مرد کے سجدہ اور قعدہ میں بیٹھنے کی کیفیت میں یکسانیت نہیں ہے، بلکہ دونوں کے سجدہ اور قعدہ کی نششت کی کیفیت مختلف ہے ،جیسا کہ روایات کا تقاضہ ہے ۔
البتہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں عورت کے قعدہ میں بیٹھنے کی جس کیفیت کا تذکرہ ہے وہ کیفیت مردوں کے بیٹھنے کی کیفیت سے مختلف ہونے کے ساتھ اس کیفیت سے بھی مختلف ہے جوکہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکورہے ،یعنی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں عورتوں کے چہار زانو بیٹھنے کی تعلیم ہے ،جبکہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ران کو ران کے قریب کرکے سرین کو زمین پر رکھ کر بیٹھنے کی کیفیت مذکور ہے ،اس طرح ان دونوں روایتوں میں بیٹھنے کی کیفیت میں تعارض ہے ،البتہ یہ تعارض مسند امام اعظم کی روایت سے اس طرح دور ہوجاتا ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں بیان کردہ کیفیت منسوخ ہے :
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَر ؓ اَنَّہٗ سُئِلَ کَیْفَ کَانَ النِّسَائُ یُصَلِّیْنَ عَلیٰ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ؟ قَالَ کُنَّ یَتَرَبَّعْنَ ثُمَّ اُمِرْنَ اَنْ یَحْتَفِزْنَ(مسند امام اعظم:۱؍۱۲۰،درجہ :صحیح اسکی سند جید ہے)
’’حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عورتیں کس طرح نماز پڑھتی تھیں؟انھوں نے فرمایا: عورتیں ابتداء ً نماز میں چہارزانو بیٹھتی تھیں پھر انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ خوب سمٹ کر بیٹھیں‘‘(یعنی اپنے بائیںکولھے پر جم کر بیٹھیں)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ روایات کے مطابق عورتوں اور مردوں کے سجدہ میں بھی فرق ہے اور قعد ہ میں بیٹھنے کی کیفیت میں بھی فرق ہے اور عورتوں پر اس فرق کو اختیار کرنا لازم ہے اور یکسانیت کا دعوی ان روایات کے خلاف ہے ۔
Login Required to interact.

