سوال:
’’کیا جنت میں اولاد ہوگی؟ جی ہاں ! جنت میں جب مسلمان کو اولاد کی خواہش ہوگی تو خواہش کرتے ہی اس کا حمل، پیدائش اور اس کی پوری عمر(۳۰) سال بغیر کسی تکلیف کے ایک ساعت میں ہوجائے گی‘‘۔ کیا یہ صحیح ہے؟
جواب:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق۔ بعض علمائے کرام کی رائے ہے کہ اگر کسی جنتی بندے کی جنت میں یہ خواہش ہوئی کہ اسکی اولاد ہو تو اللہ تعالی اسکی یہ خواہش بھی پوری فرمائے گا، اس سلسلہ میں ان کی دلیل سنن ترمذی کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ ، كَمَا يَشْتَهِي (سنن ترمذی:۲۵۶۳)(مؤمن جنت میں جب اولاد چاہے گا تو حمل، زچگی، اور پرورش ہوکر اس کی جوانی اسی وقت ہوجائے گی، جیسے وہ چاہے گا)
اس حدیث کی روشنی میں بہت سے اہل علم اسی کے قائل ہیں۔
لکن امام ترمذی علیہ الرحمۃ نے ترمذی میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ بعض علماء: طاؤس، مجاہد، ابراہیم نخعی کا کہنا ہے کہ جنت میں ازدواجی تعلق ’’جماع‘‘ تو ہوگا لیکن اس کی وجہ سے اولاد نہیں ہوگی، اورامام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا يَكُونُ لَهُمْ فِيهَا وَلَدٌ . "ابو رزین عقیلی سے روایت کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: (جنتیوں کے ہاں اولاد نہیں ہوگی)(ترمذی: ۴؍۶۹۵، حدیث نمبر: ۲۵۶۳)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث (مؤمن جنت میں جب اولاد چاہے گا تو حمل، زچگی، اور پرورش اسی وقت ہوجائے گی، جیسے وہ چاہے گا) یہ روایت ثابت نہیں ہے، چنانچہ لکھتے ہیں: ’’اس کی سند صحیح کی شرائط پر پوری اترتی ہے، لیکن یہ حدیث بہت کمزور ہے‘‘
جبکہ محدث ابورزین سے جو روایت منقول ہے جس میں اولاد کے نہ ہونے کا ذکر ہے اس کے بارے میں علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:
اس حدیث میں تجلیاتِ نبوت کے ایسےاثرات محسوس ہوتے ہیں جس سے حدیث کی صحت کا ادراک کیا جا سکتا ہے، تاہم حدیث میں ولادت نہ ہونے کی بالکل واضح صراحت ہے، لیکن اسکے صحیح ہونے میں اختلاف ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کی سب سے عمدہ سند ترمذی کی سند ہے، اور خود امام ترمذی نے اس کے "غریب” ہونے کا حکم لگایا ہے ، یہ روایت ابو صدیق ناجی کی سند سے ہی معروف ہے، اور اسکے الفاظ میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے۔ (حادی الارواح:۲۱۳)
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (اگر کوئی مؤمن جنت میں اولاد چاہے گا تو اسی وقت ہو جائے گی جیسے وہ چاہے گا) کے متعلق کہتے ہیں کہ: "مؤمن کو اولاد کی چاہت ہی نہیں ہوگی”
یعنی امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں یہ ایک فرضی بات ہے کہ اگر چاہت ہو گی تو ولادت ہوگی لیکن جنت میں اس کی چاہت وخواہش ہی نہ ہوگی۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس موضوع پر مفصل گفتگو کرنے اور دلائل وتوجہیات ذکر کرنے کےبعد لکھا ہے: والجنة ليست دار تناسل بل دار بقاء وخلد ، لا يموت من فيها فيقوم نسله مقامه "(جنت افزائش نسل کی جگہ نہیں ہے، بلکہ دائمی اور سرمدی رہنے کا مقام ہے، اس میں رہنے والا کبھی نہیں مرے گا کہ اس کونسل کی ضرورت پڑے)(حادی الأرواح: 1/173) واللہ اعلم وعلمہ اتم
محمد عارف باللہ القاسمی
Login Required to interact.

